حکومت نے لاہور‘پنجاب کو سیاسی مخالفین کیلئے مقتل گاہ بنادیا :عاجز دھامراہ

حکومت نے لاہور‘پنجاب کو سیاسی مخالفین کیلئے مقتل گاہ بنادیا :عاجز دھامراہ

لاہور( نمائندہ خصوصی)پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر عاجز دھامراہ نے کہا ہے کہ خواجہ سعد رفیق کا منہ اور پھاٹک کھلے ہیں اس سے میاں نوازشریف کو خطرہ ہوسکتا ہے، لاہورکا کچرا دکھایا تو کراچی کا بھول جائیں گے، حکومت نے لاہوراور پنجاب کو سیاسی مخالفین کیلئے مقتل گاہ بنادیا ہے، خواجہ سعد رفیق باڈی لنگوئج سے وزیر نہیں لگتے، ریلوے کے پلاٹس پر شاپنگ سینٹرز بن رہے ہیں، ایف بی آر کا ودہولڈنگ والا روپیہ ریلوے اکاؤنٹ میں جمع کراکے منافع ظاہر کیاگیاہے، سکھر، لاہور، ملتان میں سگنل لگانے میں بڑی کرپشن ہوئی ، شریف برادران میگا پراجیکٹس کے ماسٹر مائنڈ اوران کے وزراء کرپشن کے انجینئرز ہیں۔ یہ باتیں انہوں نے پیپلز پارٹی پنجاب سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہیں۔ اس موقع پر اسلم گل، میاں ایوب اورعلامہ یوسف اعوان بھی موجود تھے۔ سینیٹر عاجز دھامراہ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے ساتھ خود وزیراعظم جو کررہے ہیں وہ بھی قوم کے سامنے آنا چاہئے پی ایس ڈی پی میں 47سکیمیں سندھ کیلئے تھیں جن کو پہلے انہوں نے 43پھر 30اوراب 25کردیا ہے ۔ ہم نے این ایف سی ایوار ڈمانگا تو حکومت نے صاف جواب دیدیا ۔ خواجہ سعد رفیق کو کے وزیر ریلوے بننے کے بعد ریلوے میں 550سے زائدحادثات ہوئے جس میں 197لوگوں نے جانیں گنوائیں اور413زخمی ہوئے۔ لاہور، سکھر اور ملتان میں سگنل لگائے جارہے ہیں یہ دو بلین کا منصوبہ ہے اس میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہورہی ہے ،، سندھ میں عام کلرک تو گرفتار ہوجاتا ہے لیکن پنجاب کا وزیرنہیں ہوتا ، ا بن قاسم میں 15کروڑ کا ٹھیکہ 47کروڑ میں دیاگیا ہے ۔ بلاول بھٹو اورآصف علی زرداری کی لاہور میں موجودگی ان کیلئے باعث پریشانی ہے اسی لئے انہیں سندھ جانے کا خیال آیا ۔ کراچی میں کچرے کے وہ ذمہ دار ہیں جو اسی فیصد مینڈیٹ کا دعویٰ کرتے ہیں، ہماری حکومت نے تو ہرمہینے انہیں پچاس کروڑ روپے دے رہی ہے لیکن وہ جعلی ملازمین کی تنخواہوں میںآگے دیدئیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں امن کی بات کرنیوالے بتائیں کہ رینجرز کے اخراجات سندھ حکومت ہی اداکررہی ہے۔ عاجز دھامراہ نے کہاکہ آج تک پیپلز پارٹی کے سوا کسی کا احتساب نہیں ہوا آصف علی زرداری گیارہ سال جیل کاٹنے کے بعد بے گناہ ثابت ہوئے، ان کے گیارہ سال کا کون حساب دے گا؟

عاجز دھامراہ

مزید : صفحہ آخر