بجلی کی پیداوار میں شدید کمی‘ لوڈ شیڈنگ کادورانیہ بارہ گھنٹے سے تجاوزکر گیا

بجلی کی پیداوار میں شدید کمی‘ لوڈ شیڈنگ کادورانیہ بارہ گھنٹے سے تجاوزکر گیا

لاہور (کامرس رپورٹر) ملک میں لوڈ شیڈنگ کادورانیہ بارہ گھنٹے سے بھی بڑھ گیا۔دوسری جانب ڈھٹائی کی انتہا کرتے ہوئے وزارت بجلی و پانی نے دعویٰ کیا کہ شارٹ فال میں اضافہ کے باعث لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں صرف دو گھٹنے کا اضافہ کیا گیا ہے۔وزارت بجلی و پانی کے مطابق بجلی چوری والے علاقوں میں زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ سے شارٹ فال مزید بڑھ گیا ہے دوسری جانب پیداوار میں مزید کمی ہو گئی ہے۔ پانی کے اخراج میں کمی کے باعث چشمہ ہائیڈل پاور جنریشن کو مکمل بندکر دیا گیا ہے۔ منگلا اور تربیلا کے آدھا سے زائد پاور جنریشن یونٹس پہلے سے ہی بند ہیں۔ طلب میں اضافہ اور پیداوار میں کمی کے باعث شا رٹ فال چھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔ جس کے باعث شہروں میں آٹھ سے دس گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں بارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کی گئی۔ مرمت کے نام پر بھی بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری رکھا گیا تمام سب ڈویڑنوں میں ایک فیڈر صبح سات بجے سے لیکر دو بجے تک بند رکھے گئے۔وزارت پانی و بجلی کی جانب سے جاری پریس ریلز کے مطابق تربیلا اور منگلا میں پانی کی ذخائر میں بے مثال کمی سے ہائیڈ ل ذرائع سی بجلی کی پیداوار میں شدید کمی ہوئی ہے ۔پچھلے سال مارچ میں ہائیڈل جنریشن کی او سط کم ہو کر 2560 میگا واٹ تھی جوپچھلے دنوں 27مارچ 2017 کو کم ہو کر 1620 میگا واٹ ہو گئی اور 28مارچ کو یہ سطح 1410 تک ہوگئی ۔ شہر وں میں 3 گھنٹے اور دیہاتوں میں 4گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ‘صنعتوں میں زیر و لوڈ شیڈ نگ ‘ ریکوری اور بجلی چوری کی علاقوں میں بھاری لوڈشیڈنگ سے بھی قابونہ پایا جاسکا جس کی نتیجہ میں 27اور28ما رچ کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے صارفین متاثر ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی ڈیموں کو بھر نے میں کچھ دن لگیں گے اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ شہروں اور دیہاتوں کی فیڈ رز میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بالتر تیب ایک اور دو گھنٹہ بڑھا دیاجائے ، اب تک شہروں کیلئے نیا شیڈول4 گھنٹے اور دیہاتوں میں 6گھنٹے ہو گا جو پچھلے سال کی مقابلے میں دو گھنٹے تک کم ہے گزشتہ سال ان دنوں میں 6گھنٹے شہر ی اور 8گھنٹے دیہاتوں میں کی گئی تھی۔ یہاں یہ بھی واضح کرنا ضر وری ہے کہ آئی پی پیزاور جنکوزپلانٹس اپنی پوری استعد اد کی مطابق بجلی پیدا کررہے ہیں جو کہ نیشنل پاور کنٹرول سنٹر کی ڈسپیج کی مطا بق ہے ان میں کیپکو،حبکو،کوہ نور ، لال پیر، پیگان، صبا ، لبرٹی ، اْچ ،فوجی کبیر ولا ، جیکب آباد،آلٹرن چشمہ 2اور 3 ، اٹلس ، نشا ط پاور ، نشاط چونیاں لبرٹی ٹیک،اورینٹ،سیف،سفائر،اینگرو، فاؤنڈ یشن ، فاطمہ اورتمام ہوائی شمسی ، چھو ٹی سرکاری بجلی پیداکرنی والے پلانٹس میں جا مشورو ،کوٹری ،گدو،مظفر گڑھ ،فیصل آباد،نندی پور (جزوی ) کام کر رہے ہیں۔ نندی پور گیس سے بجلی تیار کر کے پور ی استعدا د کے ساتھ اپریل کے آخر میں بجلی مہیاہوگی۔ گد و کمپلیکس 900 میگا و اٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جو کہ موجودہ1500 میگا و اٹ کے مقابلے میں اضافہ ہے اور مئی میں اس کی استعداد میں اضافہ ہوجائے گاجب اس میں اضافی گیس پائپ لائن مکمل ہو جائیگی ۔اس کے علاوہ کچھ منصوبے جو شیڈول کی تحت بجلی دے رہے ہیں ان میں روچ،اوچ ٹو،چشمہ نیوکلیئر1اور جامشورو مظفر گڑھ کا ایک ایک یونٹ شامل ہے،یہ امید کی جاتی ہے کہ اپریل میں ضروری مرمت کی بعد بجلی کی پیداوار واپس اپنی سطح پر آجائیگی۔اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ کوئی بھی پلانٹ عدم ادائیگی کی بنا پر بجلی پیدا نہیں کررہا۔ تمام پلانٹس میں وافر مقدار میں ایندھن سٹاک موجود ہے تاکہ وہ گرمی کے آنیوالے دنوں میں رواں رہ سکیں۔

مزید : صفحہ آخر