لاہور کے تینوں سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں عملہ کی ہڑتال : مریض خوار

لاہور کے تینوں سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں عملہ کی ہڑتال : مریض خوار

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت میں محنت کش طبقے کے علاج کے لئے قائم سوشل سکیورٹی کے تین بڑے ہسپتالوں میں نرسوں، کلرکوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی تین روزہ ہڑتال کے دوران ہزاروں محنت کشوں کو علاج معالجے کی سہولت سے محروم، جس پر سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کے کلینکوں سمیت نجی ہسپتالوں کی چاندی رہی اور محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا گیا۔ ’’پاکستان‘‘ نے لاہور میں قائم سوشل سکیورٹی کے تین بڑے ہسپتالوں نواز شریف سوشل سکیورٹی ملتان روڈ، سوشل سکیورٹی ہسپتال شاہدرہ اور سوشل سکیورٹی ہسپتال کوٹ لکھپت سمیت 20سے زائد قائم ڈسپینسریوں میں نرسوں، پیرا میڈیکل اور کلرکوں کی ہڑتال کے دوران محنت کشوں کو علاج معالجے کے لئے درپش مسائل کے حوالے سے ایک جائزہ اور تحقیقاتی رپورٹ تیارکی ہے جس میں اس بات کا انکشاف سامنے آیا کہ لاہور میں واقع سوشل سکیورٹی کے تین بڑے ہسپتالوں اور 20 سے زائد ڈسپینسریوں میں ہڑتال کے دوران محنت کش اور ان کے اہل خانہ علاج معالجے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے ہیں اور ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز اور ایمر جنسی وارڈوں کے بند ہونے پر محنت کشوں کوشدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس میں ایمرجنسی وارڈوں میں آنے والے حادثے کا شکار یا پھر گاہنی سمیت دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کو انتہائی سخت کوفت کا سامنا پڑا ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے تینوں سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں 4000 سے 4500 تک روزانہ آؤٹ ڈور اور ایمر جنسی وارڈوں میں محنت کش طبقہ اور ان کے اہل خانہ علاج کے لئے آتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ تین روزہ ہڑتال کے12701 محنت کش علاج معالجہ کے لئے آئے۔جن میں سے 4811مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولت کی بجائے مایوس جانا پڑا۔ جس پر ان محنت کشوں اور ان کے اہلخانہ نے سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں سے مجبوراً رابطہ کر کے ان کے پرائیویٹ کلینکوں اور نجی ہسپتالوں میں علاج معالجہ کروایا۔ جس پر ڈاکٹروں کے ساتھ نجی ہسپتالوں کی چاندی رہی ہے اور محنت کشوں کو مجبوراً لاکھوں روپے علاج معالجہ کے لئے برداشت کرنا پڑے ہیں، ذرائع نے بتایا ہے ہڑتال کے دوران سب سے زیادہ سوشل سکیورٹی ہسپتال ملتان روڈ میں آئے محنت کشوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس میں سوشل سکیورٹی ہسپتال ملتان روڈ میں تین روزہ ہڑتال کے دوران آؤٹ ڈور میں 3902جبکہ ایمرجنسی وارڈ 390 محنت کش علاج معالجہ کے لئے آئے، جن میں سے اکثریتی مریضوں کو ہسپتال کا مین گیٹ بند ہونے اور آؤٹ ڈور و ایمرجنسی وارڈ بند ہونے پر کئی کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد مایوس واپس جانا پڑا، جس میں گائنی کے 20،اپینڈکس کے 13، ہائی بلڈ پریشر کے 19، دل کے امراض کے 6 مریض ذلیل و خوار ہونے میں شامل ہیں۔اردگرد کے پرائیوریٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں جانا پڑ رہا ہے جس میں استطاعت نہ رکھنے والے محنت کش انتہائی تکلیف اور دشواری سے دوچار رہے ہیں کہ ہسپتال کے ایم ایس اور کمشنر سوشل سیکیورٹی کے خلاف سراپا احتجاج بنے رہے ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ اس میں فوری طبی امداد کے لئے محنت کشوں کو سب سے زیادہ سفارشیں تلاش کرنا پڑیں، جس پر نجی ہسپتالوں میں رش بڑھا رہا ہے، جس پر محنت کشوں کو نجی ہسپتالوں میں بھی دو دو ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے، جبکہ اس حوالے سے سوشل سکیورٹی ہسپتال ملتان روڈ کے ایم ایس ڈاکٹر محمد نعیم اور محکمہ سوشل سکیورٹی نے میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر ناصر جمال پاشا نے بتایا کہ ہسپتالوں میں ٹوکن ہڑتال تھی، سوشل سکیورٹی کے تینوں ہسپتالوں میں روزانہ 3600سے چار ہزار محنت کش اور ان کے اہل خانہ علاج معالجہ کے لئے آئے ہیں اس میں متبادل بندوبست کیا گیا تھا اور محنت کشوں کو مکمل طور پر علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ تاہم ہڑتال کے باعث چند محنت کشوں کا علاج معالجہ نہیں ہو سکا۔

مزید : صفحہ آخر