امریکہ ، پاکستانی نژاد انجم چودھری سمیت پانچ افراد دہشت گرد قرار

امریکہ ، پاکستانی نژاد انجم چودھری سمیت پانچ افراد دہشت گرد قرار

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی وزارت خارجہ نے وائٹ ہاؤس کی ہدایت کے مطابق مزید پانچ افراد کو دہشت گرد قرار دیدیا ہے جن میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری انجم چودھری شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں ’’اخوان المسلمون‘‘ کو دہشت گرد قرار دینے کے بارے میں اختلافات کی بنا پر یہ فیصلہ نہیں لیا جاسکا۔ ٹرمپ انتظامیہ میں ایک مؤثر گروہ دہشت گرد قرار دینے کے حق میں نہیں کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ قدامت پسند نظریات کی حامل اسلامی تحریک ضرور ہے لیکن ایسی پرتشدد کارروائیوں میں کبھی ملوث نہیں رہی جنہیں دہشت گردی کے زمرے میں ڈالا جاسکے۔ ویسے بھی یہ تنظیم معتدل عرب دنیا میں بہت مقبول ہے اور انتہا پسند جنگجوؤں کے برعکس امن کی فضا قائم کرنے کیلئے اثاثہ ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کی فہرست میں شامل باقی چار افراد کے نام یہ ہیں: الشفیع الشیخ، سمیع براس، شانے ڈومینیک کرافورڈ اور مارک جان ٹیلر۔ وزارت خارجہ کے نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پانچ افراد دہشت گرد ی کی کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہیں یا ان سے امریکی پبلک اور بین الاقوامی کمیونٹی کو دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ 50 سالہ باریش انجم چودھری لندن میں پاکستانی گھرانے میں پیدا ہوئے جو پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ انہوں نے 1966ء میں روبانہ اختر سے شادی کی تھی جس سے ان کے چار بچے ہیں۔ انجم چودھری اس وقت داعش کیلئے بھرتی اور حمایت کی دعوت دینے کے جرم میں لندن کی جیل میں ساڑھے پانچ سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں جس کا آغاز 6 ستمبر 2016ء میں ہوا۔ انجم چودھری نے ’’اسلام فار یوکے‘‘ اور ’’المہاجرون‘‘ کے نام سے تنظیمیں قائم کر رکھی تھیں جنہیں غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔ اس نے نائن الیون کے حملہ میں ملوث ہائی جیکرز کو ’’شاندار شہید‘‘ قرار دیا تھا۔ اس نے 2004ء میں کہا تھا کہ برطانیہ پر کسی وقت بھی حملہ ہوسکتا ہے جس کے بعد جولائی 2005ء میں دہشت گرد حملہ ہوگیا جس کی مذمت کرنے سے انکار کردیا۔ ستمبر 2014ء میں انجم چودھری نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو تمام مسلمانوں کا خلیفہ تسلیم کیا جس کے بعد اسے داعش کی حمایت کرنے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ قید کی سزا پانے کے باوجود انجم چودھری نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ جیل میں بھی داعش کی بھرتی کیلئے سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ الشفیع الشیخ نے 2012ء میں شام میں القاعدہ کی شاخ میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں داعش میں شامل ہوگیا۔ مئی 2016ء میں وہ داعش کے پھانسی دینے والے سیل کے رکن پر سامنے آیا۔ "The Beatles" کے نام سے کام کرنے والے اس سیل پر 27 سے زیادہ بے گناہ شہریوں اور فوجیوں کے سر قلم کرنے اور متعدد افراد کو ایذا رسانی کا الزام تھا۔ ایک جیلر کے طور پر وہ واٹر بورڈنگ سمیت دیگر ظالمانہ کارروائیوں کیلئے بدنام تھا۔ سمیع براس سویڈن کا شہری ہے جو نسلاً تیونسی ہے۔ وہ القاعدہ کا رکن اور متعدد خودکش حملوں میں ملوث ہے۔ شانے کرافورڈ کا تعلق افریقی ملک ’’ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو‘‘ سے ہے جو اس وقت شام میں داعش کی جانب سے دہشت گرد کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں داعش کیلئے انگریزی زبان میں پروپیگنڈا مٹیریل تیار کرنا ہے۔ فہرست میں شامل پانچواں فرد نیوزی لینڈ کا شہری مارک جان ٹیلر ہے جو 2014ء سے داعش کی جانب سے شام کی جنگ میں حصہ لے رہا ہے۔ ٹیلر داعش کیلئے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرتا ہے جس نے داعش کیلئے متعدد ویڈیو تیار کرکے ریلیز کی ہیں جن میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی حوصلہ کی جاتی ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے ان پانچ افراد کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد ان کے امریکہ میں موجود اثاثے ضبط ہو جائیں گے اور کسی امریکی شہری کا ان کے ساتھ لین دین غیر قانونی ہوگا۔ جہاں تک تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کا معاملہ ہے۔ امید ہے ٹرمپ انتظامیہ ’’اخوان المسلمون‘‘ کو اس فہرست میں شامل نہیں کرے گا۔ اس فہرست میں اس وقت تک 61 تنظیمیں شامل ہیں امریکہ نے نظرثانی کرکے کولمبیا، جاپان، لیبیا، کمبوڈیا اور فلسطین سمیت بارہ تنظیموں کو فہرست سے خارج کردیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار دی جانے والی 61 تنظیموں میں نمایاں تنظیموں کے نام یہ ہیں: القاعدہ، داعش، الشباب، بنگلہ دیش کی حرکت الجہاد اسلامی، اقاپ، تحریک طالبان پاکستان، جنداللہ، لشکر طیبہ، جیش محمد، القاعدہ ان اسلامک مغرب (آقم)، فلپائن کی کمیونسٹ پارٹی، لشکر جھنگوی، انصار الاسلام، اسلامک جہاد یونین، انڈین مجاہدین، آرمی آف اسلام، حقانی نیٹ ورک، عبداللہ اعظم بریگیڈ، بوکو حرام، النصرت فرنٹ، جیش رجال الطارق نقشبندی، داعش کی لیبیا میں شاخ، داعش خراسان اور برصغیر ہند میں القاعدہ۔

پاکستانی

مزید : صفحہ آخر