کدھر سے آیا کدھر گیا وہ!

کدھر سے آیا کدھر گیا وہ!

(حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ پر ایک تاثراتی تحریر)

تحریر: جناب رانا شفیق خاں پسروری

گئے دنوں کا سراغ لے کر‘ کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

عجیب دل والا رہبر تھا‘ مجھے تو حیراں کر گیا وہ

بس اِک موتی سی چھب دکھا کر‘ بس اک میٹھی سی دھن سنا کر

ستارہ شام بن کے آیا‘ برنگ خواب سحر گیا وہ

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم‘ نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم

وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ جاں‘ میرے تو دل میں اتر گیا وہ

وہ میکدے کو جگانے والا‘ وہ رات کی نیند اڑانے والا

یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

جب میرے یہاں گلشن تھا‘ بہار نہ تھی‘ وہ شخص بہار بن کر آیا‘ جب دلوں کی قطاریں تھیں مگر کوئی دلدار نہ تھا‘ وہ دلدار بن کے آیا۔ جب راہوں کی گتھیاں الجھی تھیں‘ راہی تھے پریشان سارے‘ وہ رہنما بن کے آیا‘ اژدھام تھا سروں کا‘ بے پروا‘ بے بہرہ تو وہ قائد شاہین نگاہ بن کے آیا ۔۔۔ دیوار تھی اک اونچی مگر سایہ نہ تھا وہ سایہ بن کے آیا‘ اندھیرا چہار جانب تھا‘ جگنو خود اندھے ہو گئے تھے کہ وہ دیا بن کے آیا‘ اپنی کرنوں کو لہرایا اور سورج مقام ہو گیا۔

وہ ہمہ صفت آدمی اور ہر صفت میں کامل آدمی‘ برنگ ظاہر سب سا‘ مگر بہت ہی افضل آدمی‘ تحریر میں یکتا‘ تقریر میں اعلیٰ‘ لیاقت میں منفرد‘ ذہانت میں اولیٰ‘ سیاست میں برتر‘ قیادت میں عظیم‘ شریف النفس‘ تجارت میں کریم ۔۔۔ باس عظمت والا‘ باپ کرامت والا‘ علم وفضل میں رفعت والا‘ تعلیم وتجزیہ میں شوکت والا ۔۔۔ راہ جس کی ہدایت‘ قدم جس کا بصیرت‘ درایت وبداعیت جس کی سرشت‘ ذہانت وفطانت جس کی جبلت‘ جرأت وشجاعت جس کی فطرت‘ امامت وعدالت جس کی سیاست‘ صداقت وحقیقت جس کی قیادت‘ امانت ودیانت جس کی سیادت اور افضلیت واشرفیت جس کی عزت تھی۔

ریت ہی ریت بکھری تھی جس میں پھول کھلائے اس نے‘ تاریک شب تھی ہمارے گھر میں‘ چراغ جلائے اس نے‘ بزدلوں کو جینے کا طور سکھایا‘ مردہ دلوں کو زندگی سے آشنا کیا‘ سر نیہورائے لوگوں کے سینے تان دیئے‘ پست ہمت اٹھے اک نئی شان لیے‘ وہ جیا تو سر اٹھا کے جیا‘ سینہ تان کر جیا‘ باطل کو للکارتا ہوا جیا‘ غیر حق پر گرجتا ہوا جیا‘ آمریت پر برستا ہوا جیا کہ نظر نورانی اس کی ہمرکاب تھی اور فکر برھانی اس کا زاد راہ۔

وہ آئینہ صفت تھا‘ اک صاف آئینہ‘ خامیوں سے قدرے پاک آئینہ‘ مصفا آئینہ‘ جو بطلیت پرستوں کے چہرے کے داغ انہیں دکھاتا تھا۔ ظالموں کے چہرے کی بدنمائی واضح کرتا تھا‘ جابروں کے رخ پر لگے دھبے ان کے سامنے کرتا تھا ۔۔۔ ان باطل پرستوں‘ ظالموں‘ جابروں اور آمروں نے اپنے چہرے کے داغ دور نہ کیے‘ اسی آئینے کو توڑنے کی سازش کی اور اسے توڑ دیا ۔۔۔ مگر وہ تو آئینہ تھا‘ چہروں کی بدنمائی دکھانا اس کا کام تھا‘ پہلے اک وجود تھا اک بدنما چہرہ نظر آتا تھا‘ اب آئینہ ٹوٹ گیا اور اس کی کئی کرچیاں ہو گئیں۔ پہلے اک چہرہ نظر آتا تھا اب ہر کرچی سے بدنما چہرہ نظر آئے گا‘ پہلے اک قائد شاہین نگاہ تھا اب اس کے ہمراہی‘ اس کے مقیود ہیں‘ جو گلی وکوچہ میں اس کا کام کریں گے‘ ہر سمت اس کی للکار کی بازگشت ہو گی‘ اس کی یلغار کی دہشت ہو گی۔ (ان شاء اللہ)

وہ اک چقماق تھا‘ چراغ سے چراغ جلاتا گیا‘ تاریکیوں کو ضیاء دیتا گیا‘ ہر دور کے ہاتھوں کو حنا دیتا گیا‘ ہر دور کے جابروں کو للکارتا رہا‘ ساکت دلوں کو دھڑکن‘ بے زبانوں کو نوا دیتا گیا‘ کجلاھوں کی رعونت کا مذاق اڑاتا رہا‘ حکمرانوں کے گریبانوں سے کھیلنے کی ادا دیتا رہا۔ اس نے حالات کے ہاتھوں کبھی شکست قبول نہ کی‘ وہ حالات کو خود بدلتا رہا‘ خود حالات کے مطابق نہ بدلا‘ سلطانئ جمہور کا نقیب تھا‘ انسانی حقوق کا منادی تھا‘ حکمرانوں کو ٹوکنے کا خوگر‘ برائی سے روکنے کا عادی تھا‘ وقت کی نزاکت نہ دیکھتا تھا‘ کلمۃ اللہ بلند کر کے رہتا‘ نباض وقت تھا‘ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا‘ کام سوئے چند کر کے رہتا‘ مصلحت کوش نہ تھا کہ حق کو چھپائے‘ ضمیر فروش نہ تھا‘ تبھی انگنت دشمن بنائے۔ سلطان جائر کے مقابل کلمۃ حق کہنا اس کا شیوہ تھا‘ جھوٹی قصیدہ گوئی سے متنفر تھا‘ مصداق تھا شاعر کے اس کلام کا کہ

میں تو سورج ہوں ستارے میرے آگے کیا ہیں؟

شب ہے کیا شب کے سہارے میرے آگے کیا ہیں؟

جو ہمیشہ رہے شاہوں کے ثناء خواں جالب

وہ سخن ساز بے چارے میرے آگے کیا ہیں؟

وہ مہربان‘ محترم‘ کرم گستر‘ نیک دل‘ نیک ذات‘ نیک نظر‘ حامئ قوم ووالئ ملت‘ مونس خلق وخاصہ داور‘ قائد با صفا‘ انیس وطن‘ حکمت ملک وحاذق برتر‘ نیک خو‘ نیک فکر‘ نیک فکر‘ نیک نشان‘ احسان الٰہی نام‘ نام آور‘ مرجع علم ودانش وحکمت‘ چشمہ وجد‘ عقیدت کا محور۔

وہ کہ رنج وغم دین ودرد ملت اس کے دل غم گسار میں تھا‘ وہ قوم کا تھا جری سپاہی اسلاف کی یادگار میں تھا۔ اس سا کوئی مونس اور ہمدم‘ کون اجڑے ہوئے دیار میں تھا؟ جو رعب جو دبدبہ تھا اس میں وہ کب کسی سپہ سالار میں تھا‘ جو داغ تھا اس کے دل میں پنہاں وہ کب کسی شہریار میں تھا‘ کھنچ آیا تھا اس کی رگوں میں وہ خوں جو لالہ شعلہ بار میں تھا۔

اس میں شاہین کی خوئے شاہ بازی تھی‘ اسلام کے عاشقوں کی سطوت مضمر تھی‘ اس کے چال چلن میں۔ دشمنوں پر سکتہ طاری ہو یہ تاثیر تھی اس کے سخن میں۔

کوئی ایسا خطیب کہ جس کا ہر کلمہ بولتا نظر آئے‘ یوں معلوم ہو کہ مقرر کی زبان نہیں ہل رہی بلکہ ادا ہونے والا ہر حرف اپنی زبان ہلا رہا ہے۔ ۔۔۔ کوئی ایسا متکلم جو کلام کرے اور زخموں پر مرہم لگتا محسوس ہو ۔۔۔ کوئی ایسا مقرر جو تقریر کرے اور دلوں کو مسرت ملے‘ پانی میں آگ لگ جائے ۔۔۔ کوئی ایسا ناطق جو بولے اور الفاظ موتی بنتے جائیں ۔۔۔ سامع کے کانوں میں رس گھولتے جائیں۔ کوئی ایسا سخنور جو اپنے سخن سے لوگوں کو زنجیر در زنجیر کر دے ۔۔۔ کوئی ایسا منادی جو لبوں کی جنبش سے زلزلہ برپا کر دے ۔۔۔ طوفانوں کے رخ موڑ دے ۔۔۔ سوتی بستیاں جگا دے ۔۔۔ روحوں کو گرما دے ۔۔۔ مردہ دلوں میں زندگی کی لہر دوڑا دے ۔۔۔ بجلی کا کڑکا بن جائے ۔۔۔ کوئی ایسا ادیب‘ جو سطروں میں حالات کا نقشہ کھینچ دے ۔۔۔ مذکور کو تصویر سا دکھلا دے ۔۔۔ کوئی ایسا قلم کار جو حروف کو پھولوں کی طرح پروتا ہوا اور قاری کے گلے میں مضمون کا ہار ڈالتا ہو‘ کوئی ایسا محرر جو قلم سے لکھے مگر محسوس ہو تلوار سے لکھا ہے ۔۔۔ اور سیاہی خونِ جگر سے لی ہے ۔۔۔ کوئی ایسا لکھاری جس نے کاغذ پر لکھا ہو‘ مگر نوشتۂ دیوار بنایا ہو‘ یا تحریر فلک (چرخِ کہن کی پیشانی کا مقدر) ۔۔۔ کوئی ایسا ادیب وخطب (لبیب واریب) جس کا لکھا‘ جس کا کہا اس کے لیے حرف حرف عزت بانٹے‘ لفظ لفظ عظمت بنے‘ کلمہ کلمہ شوکت ٹھہرے ۔۔۔ جس کی پوری زندگی موزوں ہو‘ جس کا کردار طرح مصرعہ اور جس کی گفتار مقطع ۔۔۔ جس کی نوک قلم تلمیح کی ‘ اور سیاہی مرعاۃ النظیر کی ۔۔۔ جو طباق کا مجسم ہو‘ (نرم دم گفتگو‘ گرم دم جستجو) یا (ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم جو ہو رزم حق وباطل تو فولاد) جس کی ہر حرکت‘ ہر سکنت خود مقفی ومسجع ہو ۔۔۔ اور ایک ہی تحریر بکھیرے ۔۔۔ کہ اسلام کے لیے جینا عبادت ہے‘ اسلام کے لیے مرنا شہادت ہے۔ جو نام بھی پیدا کر جائے اور اونچا مقام بھی حاصل کر جائے ۔۔۔ دنیا بھی سنوار لے اور آخرت بھی کامران لے لے۔ کوئی ایسا ہے؟ ۔۔۔ ہے ہے! ۔۔۔ وہ ہے۔۔۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر (قائد عالم اسلام‘ شہید اسلام مدفون جنۃ البقیع‘ قرین عثمان اور مغفور فی الجنۃ الفردوس)۔۔۔

مضت الدھور وما أتین بمثلہ

ولقد أتین فعجزن عن نظراۂ

حضرت علامہ ظہیر شہید‘ کہ علامہ اسم علم ہو گیا تھا‘ اعراف وتعریف بن گیا‘ کوئی لفظ علامہ بولے تو بے ساختہ احسان ملت وملک کو مراد لیا جائے گا‘ ان کی سطر سطر میں علمیت وبدیعت‘ ذکاوت وطراوت تھی‘ ان کی ہر تحریر ذہانت وفطانت‘ ہر تقریر اقبالیت وبداعیت تھی ۔۔۔ شعر ان کی زبان معجز بیان سے یوں نکلتے جیسے ان کی تخلیق اسی مقام ومحل کے لیے تھی ۔۔۔ ہر بول ادب کا شاہکار‘ علم وفضل کی مہکار ہوتا‘ لکھتے تو حرف آخر لکھتے ۔۔۔ بولتے تو تول تول کر بولتے (ہر بول انمول) اور بول بول پر تولتے۔

اس رجل عظیم کی شخصیت اور اس کے اثرات پر غور کریں‘ خوب سوچیں‘ ۔۔۔ پھر بتلائیں کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ کی جدائی المناک ودہشت ناک ہے یا نہیں؟ ۔۔۔ بتلاؤ ۔۔۔ اس پھول کے ٹوٹنے سے چمن ویران ہوا یا نہیں ۔۔۔ اس تارے کے ڈوبنے سے تاریکی ہوئی یا نہیں ۔۔۔ کیا اس کا جدا ہونا‘ علم وادب کا نقصان ہے یا نہیں۔ (سیاست وقیادت کی بات ابھی نہ چھیڑو کہ دکھ اور بڑھے گا) ۔۔۔ آؤ ۔۔۔ میرے غمگین ساتھیو آؤ!

اور اس کی تحریر کا سہارا لے کر ۔۔۔ اس کی تقریر کا آسرا لے کر ۔۔۔ اس کی یاد کو تھام کر ۔۔۔ اس کے ہمراہی ہو لیں (خیالوں میں‘ خوابوں میں) اور مشعل خیال کریں زندگی کی راہوں میں۔

وہ عظمتوں کی رفعتوں سے مرکب شخص تھا‘ لفظ لفظ میں اس کے لیے عزت ہے‘ حرف حرف اس کے لیے مدحت ہے‘ وہ تو شب تاریک میں چاند کی مانند تھا‘ جس کے گرد اعلیت وارفعیت کا ہالہ تھا‘ کوئی قلم اس کے لیے یارائے تحریر نہ رکھے‘ کسی زباں کے لیے استطاعت کلام نہیں اور ہو بھی کس طرح کہ بار الٰہ کا احسان تھا‘ شہادت اس کا مقام‘ طیبہ قرب محبوبؐ اس کا مدفن ہے اور (ان شاء اللہ) ھمد وشئ عثمانؓ اس کی آخرت ہو گی پھر بھی

یوں کہنے کو راہیں ملک وفا کی اجال گیا

اک دھند ملی جس راہ میں پیک خیال گیا

وہ چاند ہمیں کس رات کی گود میں ڈال گیا

اور میرے سخن‘ میرے قلم کو کر بے حال گیا

میرا محسن تھا‘ میرا مربی تھا۔ پوری جماعت کا نقصان بھی دو چند تھا‘ مگر میرا نقصان تو کئی چند ہے۔ جماعت کی قیادت اس کی راہوں کی راہی ہے وہ تو سنگ میل تھا‘ نشان راہ تھا‘ اس کی راہ کے راہی ہی کامیاب ہوں گے‘ اسی کا تعلق کامران ٹھہرے گا۔ (نظریاتی بھی جماعتی بھی)۔

۔۔۔۔۔۔bnb۔۔۔۔۔۔

مزید : ایڈیشن 1