جنت البقیع کا مہمان۔علامہ احسان الہٰی ظہیرؒ

جنت البقیع کا مہمان۔علامہ احسان الہٰی ظہیرؒ

دنیا کی رنگ و بُو کے اس جہاں میں کیسے کیسے ذیشان لوگ آئے‘ آب وگل کی اس کائنات میں عظیم ہستیوں نے جنم لیا۔ان کی جلائی ہوئی شمعیں اپنی ضوفشانیوں سے زندہ قوموں کو ہمیشہ راستہ دکھاتی رہتی ہیں۔ دعوت و عزیمت کے ایک ایسے ہی کارواں کے قائد ۔ جنہیں دنیا احسان الٰہی ظہیر کے نام سے جانتی ہے۔ان کا شمار ملک کے نامور علماء دین اور بے باک سیاستدانوں میں ہوتا تھا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ مگر ان کی شعلہ نوا خطابت‘ ان کی بے خوف سیاست اور ان کی دبنگ شخصیت کی مہک بیس برس کے بعد بھی ابھی تک وطن عزیز کی فضاؤں میں رچی بسی ہے۔ چھیالیس سال کی مختصر سی زندگی میں وہ اپنے کردار وعمل سے صدیوں کا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ وہ ہمہ جہت شخضیت کے مالک تھے۔ یہاں صر ف آقائے نامدارؐ سے ان کی سچی محبت اور والہانہ عشق کے مختلف گوشوں اور شعلہ نوا خطابت کے تناظر میں کچھ گزارشات پیش ہیں۔تحریک ختم نبوتؐ میں ان کا کردارپوری دنیا پر آشکار تھا۔ جس کا اعتراف اس وقت لندن میں شائع ہونے والے ایک جریدے نے بھی کیا اس نے برصغیر پاک وہند کے بارے ایک مضمون میں محمد علی جناح‘ علامہ اقبال‘ پنڈت جواہر لال نہرو اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی تصاویر شائع کیں۔ انہوں نے مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد وطن واپس آکرپُرخطر راستے کا انتخاب کیااور وقت کی سیاسی تحریکوں اتحادوں اور مسجد چینیانوالی میں اپنی خطابت کے وہ جوہر دکھائے کہ انہیں لوگوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثانی قرار دیا۔وہ سچے عاشق رسولؐ تھے۔ ان کی آنحضورؐ سے محبت و عقیدت کا عالم یہ تھا کہ ایک موقع پر انہوں نے سیرۃ النبیؐکے جلسے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’کاش ہم وہ پتھر ہوتے جو نبی اکرمؐ کے قدموں کو چوما کرتے تھے‘ کاش ہم کپڑے کی وہ ٹاکیاں ہوتے جو خدیجۃ الکبریؓ نبیؐ کے زخموں پر رکھا کرتی تھیں‘ کاش ہم اس وقت ہوتے اور اپنے آقاؐ کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر اپنے اوپر جہنم حرام کر لیتے ‘ کتنے خوش نصیب تھے وہ لوگ جن کو سرور گرامیؐ کے رخ زیبا کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ ‘‘ ان کی ایمان افروز تقریروں نے جذبات اور احساسات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ ان کی یادیں دلوں میں خزاں کا عالم برپا کئے ہوئے ہیں۔ طلب ثروت ان کا مقصد حیات نہ تھا۔ بلکہ دنیا کی جاہ و حشمت کو ٹھوکر لگا کر وہ ہمیشہ آرزوئے مغفرت کے طلبگار رہے۔آپ مدینہ یونیورسٹی کے طالب علم رہے‘ یہاں سے امتیازی شان کے ساتھ امتحانات میں کامیاب ہوئے تھے۔ مدینہ ان کا دوسرا گھر تھا۔ ان کی زندگی مدینے والے کے پیغام ہی کو عام کرنے کیلئے وقف تھی۔وہ اسی شہر میں موت کی تمنا کرے تھے ان کی یہ خواہش رب نے پوری کر دی۔

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

ہر مدعی کے واسطے دار ورسن کہاں

وہ جنت البقیع میں امام مالکؒ کے پہلومیں دفن کئے گئے ۔توحید کا ترانہ انہوں نے اس شان سے گایا کہ سننے والا جھوم جھوم اٹھے۔دور حاضر میں پیدا ہونے والے نئے نئے فتنوں کے خلاف جہادکیلئے بھی ایک ایسے ہی جراح کی ضرورت ہے جو انہیں بروقت بھانپ کر ان کا کامیاب ترین آپریشن کرے۔ احسان الہی ظہیر کو اس کے معاصرین سے بھی خوب داد ملی۔آغا شورش کاشمیری نے انکے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’انشاپردازی ان کی جیب کی گھڑی اور تقریر و خطابت ان کے ہاتھ کی چھڑی تھی‘‘ مشہور مورخ ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نے انہیں ابوالکلام ثانی اور وقت کے نمرودوں کیلئے ابراہیم کالقب دیا۔ ممتاز عالم دین مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے شاہی مسجد کے باطل شکن اجتماع میں ان کی خطابت کی جلوہ سامانیوں اور بگڑے ہوئے حالات پر قابو پانے کی عظیم قائدانہ صلاحیتوں پر آفرین کہتے ہوئے انہیں اللہ کا شیرقرار دیا۔ عرب کے شہرہ آفاق خطیب ڈاکٹر مصطفی السبائی نے کہا کہ ان کے لب و لہجے اور اسلوب بیان نے قدیم عرب کے خطباء کی یاد تازہ کر دی ہے اور ہم نے عالم اسلام میں ان سے بڑا خطیب نہ دیکھا اور نہ سنا ہے۔ ان کے الفاظ کا جادو اپنے مخالفین کے سر چڑھ کر بولتا رہا۔ ان کی تقریریں خوف نکال باہر کرتی تھیں۔ طاقتوروں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیتی تھیں۔ کمزوروں کے دل سے کمزوری کااحساس ختم کر دیتی تھیں۔وہ اسلام کے ساتھ ساتھ اپنے وطن سے بھی بے حد محبت کرتے تھے۔ سانحہ مشرق پاکستان پر وہ بہت رنجیدہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار سقوط ڈھاکہ کے اگلے روز چینیاں والی مسجد میں تاریخی خطبہ جمعہ میں کچھ یوں کیا تھا۔ ’’ کہ آج ہماری اٹھی ہوئی گردنیں جھک گئی ہیں ‘آج ہمارے تنے ہوئے سینے سکڑ کر رہ گئے ۔ آج ہماری آوازیں کجلا گئی ۔ آج ہماری روح مرجھا گئی ۔ آج ہمارے دل بیٹھ گئے ۔ آج ہمارے اعصاب ٹوٹ گئے ۔ آج ہمارے جسم چھلنی ہو گئے ۔ آج ہمارے دل زخمی ہوگئے اور آج ہمارے جگر پھٹ کررہ گئے ہیں۔ آج یہ سب کچھ کیوں ہے ؟اس لئے کہ آج ڈھاکہ کی مسجد بیت المکرم ہمارے پاس نہیں رہی۔ آج ہم اس لئے اپنی آنکھوں کے سامنے جالے محسوس کرتے ہیں کہ آج چٹا گانگ کی عید گاہ ہم سے چھن گئی ہے۔ ‘‘انہوں نے سلطانی جمہور کا پرچم بلند کئے رکھا اورکتاب وسنت کے نفاذ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ وقت کے حاکموں کے ظالمانہ اقدامات کوزبان و قلم کے وار سے روکنے کی پوری کوشش کی۔ حریت فکر کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے جوانوں میں عقابی روح پیدا کی۔ اپنی ولولہ انگیز خطابت سے ان میں بے باکی پیدا کی۔ سیاسی پنڈتوں کے جال توڑنے میں کبھی شکست نہ کھائی اور ہمیشہ اذان حق بلند کی۔ وہ شرک وبدعت کے قاطع اور قرآن وسنت پر فاتح نظر آئے۔ ان کے اعمال میں بدعت نہیں سنت تھی۔ شرک نہیں توحید تھا۔ سیاست کے نشیب وفراز میں انہیں جہاد اور شہادت کی امنگ رہتی۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کے پھیلانے اور پھر اپنے اس پاکیزہ مقصدکے حصول کیلئے ہمہ تن مقابلہ کرنا ان کا شغف عین تھا۔وہ خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھے۔ ان کی زبان میں زہر نہیں تھا لیکن تاثیر اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ شہد مخالفین کے دل میں زہر بن کر انہیں گھائل کر دیتا۔ ان سے جواب نہ بن پاتا تو تخریب کاری کا راستہ اختیار کرتے۔ انہیں موت کی دھمکیاں ملتیں ۔لیکن حق گو اورحق پرست احسان الہی ظہیر نے آخری لمحے تک باطل سے مفاہمت نہ کی۔ سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ :’’ آگ اور خون کا ایک دریاہے‘ جس پر ہمیں حق اور سچائی کا پل تعمیر کرنا ہے‘ پھر اسے پاٹناہے تب جاکے ایک انقلاب آئے گا‘ نہ جانے اس جدوجہد میں ہم سے کون اس دریاکی نذر ہو جائے۔‘ ‘ آہ! وہ ہم سے تیز رفتار نکلے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ’’میں کسی بزدل کا بیٹا نہیں مجھے اس ماں نے جنا ہے جو مجھے تختہ دار پرلٹکتا دیکھ کر یہ کہے گی کہ ابھی اس خطیب کے منبر سے اترنے کا وقت نہیں آیا۔‘‘ وہ ساری زندگی آمریت سے لڑتے رہے۔ مگر مقام افسوس ہے کہ آج انکے جانشین کہلانے والے کبھی آمریت کی گود میں بیٹھتے ہیں اور کبھی اسے پروان چڑھانے والوں کی مدد کرتے ہیں۔ جبکہ ان کی سیاسی وتنظیمی فکر کی حقیقی ترجمانی کا فریضہ ادا کرنے والے ان کے جانشین جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اپنے مرحوم قائد کے مشن کو انہوں نے ٹھنڈا نہیں ہونے دیا۔ بقول شاعر مٹا سکیں نہ مجھے زمانے کی گردش ،گرچہ میں نہ رہامیرے نقش قدم باقی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1