مودی کا 2اپریل کو دورہ کشمیر ، حریت رہنما ؤں کا مکمل ہڑتال اور مظاہروں کا اعلان

مودی کا 2اپریل کو دورہ کشمیر ، حریت رہنما ؤں کا مکمل ہڑتال اور مظاہروں کا ...

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،صباح نیوز) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے2؍اپریل کو دورہ جموں کشمیر کے حوالے سے حریت رہنماؤں سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی کال دے دی، بھارتی وزیر اعظم 2اپریل کو چنانی نشری سرنگ کے افتتاح کیلئے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے۔ حریت رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم ایک ایسے موقع پر مقبوضہ کشمیرآرہے ہیں، جب اس کی قابض افواج ہر روز نہتے کشمیریوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کررہی ہیں اور پیلٹ سے ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کررہی ہیں،ہزاروں نوجوانوں کو پولیس تھانوں، انٹروگیشن سینٹروں اور جیلوں میں پابند سلاسل بنادیا گیا ہے اور آزادی پسندوں کی پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر مکمل طور پابندی لگادی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کرانا ہمارا کوئی شوق یا مشغلہ نہیں ہے، البتہ ریاست کی سنگین صورتحال کو اُجاگر کرانے کا ہمارے پاس دوسرا آپشن بھی دستیاب نہیں ہے۔ حریت رہنماؤں نے کہا کہ کشمیر کوئی اقتصادی پرابلم نہیں ہے، جس پر ٹنل یا سڑکیں بنانے سے قابو پایا جاسکتا ہے اور نہ یہ کوئی لائاینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے، جس کو نیم فوجی فورسز کی اضافی ٹکڑیاں بھیجنے سے حل کیا جاسکتا ہے۔ آزادی پسند رہنماؤں نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اور یہاں کے عوام اپنے بنیادی اور پیدائشی حقوق کیلئے پچھلے 70سال سے ایک جائز جدوجہد کررہے ہیں۔ بھارت جس کو دنیا کی بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویٰ ہے، کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کا کوئی احترام نہیں کرتا ہے بلکہ وہ ان کی پُرامن آواز کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کررہا ہے۔ ریاست میں افسپا اور ڈسٹربڈ ائیریا ایکٹ جیسے کالے قوانین نافذ ہیں اور ان کی وجہ سے بھارتی افواج کو کُھلی چھوٹ حاصل ہوگئی ہے۔ وہ جس کو چاہے گولی مارتے ہیں اور جس کو چاہیں عمر بھر کیلئے اندھا بنادیتے ہیں۔حریت رہنماؤں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹنل اور سڑکیں بنانے سے کشمیریوں کو رام کیا جاسکتا ہے نہ ان کے درد کا درماں کیا جانا ممکن ہے۔ ہم نے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی پیش کی ہے۔حریت رہنماؤں نے کہا کہ کشمیریوں کی مودی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے البتہ وہ بھارت کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے مُجرم ہیں کہ نہتے کشمیریوں کے قتل عام پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ایسا کرنے والوں کو وہ ترقیوں اور تمغوں سے بھی نوازتے ہیں۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں کہ جو 10ہزار کشمیری حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردئیے گئے ہیں وہ کہاں ہیں اور ان کا کیا قصور تھا۔ وہ 7ہزار گمنام قبروں کی دریافت پر خاموش ہیں، جن میں معلوم ہی نہیں کہ کن لوگوں کو دفن کیا گیا ہے اور وہ کس جرم میں مارے گئے ہیں۔ نریندر مودی کُنن پوشہ پورہ اور اس نوعیت کے دیگر سینکڑوں سانحات پر آج تک ایک لفظ بھی نہیں بولے ہیں اور نہ اس کے لیے ذمہ دار مجرموں کو کوئی سزا دی گئی ہے۔حریت رہنماؤں نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ ایک ایسے وقت میں جب کشمیر میں ہر روز قیمتی انسانی زندگیوں کا قتل عام جاری ہے، بھارت یہاں ایک اور الیکشن ڈرامہ منعقد کرانے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے 7لاکھ افواج، نیم فوجی فورسز اور پولیس کی موجودگی میں ویسے بھی انتخابات کوئی جمہوری عمل قرار نہیں دئیے جاسکتے نہ ان کی اعتباریت کو تسلیم کیا جاسکتا ہے، یہ محض ایک فوجی آپریشن ہوتا ہے، جس پر الیکشن کا ٹھپہ لگایا جاتا ہے اور دنیا کو کشمیر کے حوالے سے گمراہ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔حریت رہنماؤں نے کہا کہ کشمیر 15ملین لوگوں کے جذبات، احساسات اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے اس کو الیکشن ڈراموں کے انعقاد سے حل کیا جاسکتا ہے اور نہ اسطرح سے اس گتھی کا سلجھایا جانا ماضی میں ممکن ہوا ہے۔ حریت رہنماؤں نے نریندر مودی کو مخاطب کیا کہ وہ اپنے پیش رو حکمرانوں کی کشمیر پالیسی کا ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ جائزہ لیں کہ آج تک کیا کچھ حاصل کیا جاسکا ہے۔ بھارت نے کشمیر میں اپنی پوری فوجی طاقت بھی استعمال کی ہے اور ٹنلیں، سڑکیں بناکر اور دیگر مراعات ورعایات دیکر بھی کشمیریوں کو خریدنے کی کوشش کی ہے البتہ نتیجہ صفر ہے اور مسئلہ کشمیر کا سٹیٹس اب بھی وہی ہے، جو 70سال پہلے تھا۔حریت رہنماؤں نے مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہتری اسی میں ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی ترک کرکے حقائق کو تسلیم کرلیا جائے اور کشمیریوں کی رائے کا احترام کیا جائے، اس میں بھارت اور یہاں کروڑوں عوام کی بہتری بھی مضمر ہے اور برصغیر میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی لانے کا بھی بس یہی ایک راستہ ہے۔دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کے بہیمانہ قتل عام کے خلاف احتجاج کیلئے آج نماز جمعہ کے بعد پورے مقبوضہ علاقے میں زبردست بھارت مخالف مظاہرے کئے جائیں گے۔ مظاہروں کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی ہے ۔ حریت رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی ایک غیر جانبدارادارے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ آزادی پسند رہنماؤں نے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے حالیہ بیان جس میں انہوں نے کشمیری مجاہدین کو ہتھیار ڈالنے کیلئے کہاتھا پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اور دیگر بھارت نواز سیاست دان مقبوضہ علاقے کی موجودہ ابتر صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ رہنماؤں نے کہاکہ بھارت نواز جماعتیں جموں وکشمیر پر بھارتی تسلط کو طول دینے کیلئے کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ محبوبہ مفتی نے قاتل بھارتی فورسز کو روکنے کی بجائے مظلوم کشمیری عوام کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کر کے سیاسی شائستگی کی تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ حریت رہنماؤں نے افسوس ظاہر کیاکہ بھارتی مظالم کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف نوجوان بھارتی ریاستی دہشت گردی کا براہ راست نشانہ بن رہے ہیں۔دریں اثنا بھارتی پولیس نے ضلع پلوامہ کے علاقوں میں جاری چھاپو ں کے دوران کم از کم ایک درجن کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے پارلیمانی ضمنی انتخابات سے قبل سرینگر، اسلام آباد، کولگام اور دیگر علاقوں میں بھی چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔گزشتہ روز بھیمقبوضہ کشمیر چاڈورہ میں تین نوجوانوں کی شہادتوں، نہتے مظاہرین پرگولیوں اور پیلٹ گن کے استعمال کے خلاف برہان وانی شہید د چوک مظفرآباد میں پاسبان حریت جموں کشمیر کے زیراہتمام بھارت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے آزادی کے حق اور بھارت کیخلاف نعرہ بازی کی۔

مقبوضہ کشمیر

 

مزید : صفحہ اول