عالمی برادری بھارت کو کشمیر یوں کی نسل کشی سے روکے، سعودی فوجی اتحاد کا حصہ ہیں : پاکستان

عالمی برادری بھارت کو کشمیر یوں کی نسل کشی سے روکے، سعودی فوجی اتحاد کا حصہ ...

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک /ایجنسیاں) ؂ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم ممالک کے34رکنی سعودی فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار کر چکا ہے،یہ اتحاد انسداد دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا ہے جس کے ٹرمزآف ریفرنسز ابھی طے ہونا باقی ہیں، ممبئی میں جناح ہاوس قائداعظم کی رہائش گاہ رہا ہے اس لئے بھارت جناح ہاوس کی پاکستانی ملکیت اور اس کی اہمیت کا خیال رکھے، پاکستان ماسکو میں افغان مسئلے پر اجلاس میں شرکت کرکے مثبت تجاویز دے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاکستان بھارتی حمایت یافتہ اور مالی امداد سے جاری دہشت گردی کا شکار ہے،کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں موجودگی اور گرفتاری سے بڑھ کر بھارتی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں ہوسکتا،، بھارت میں اقلیتوں باالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک معمول بن چکاہے، او آئی سی کے غیر مستقل انسانی حقوق کمیشن نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا لیکن بھارت نے کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی جوکہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے بھارت مقبوضہ میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے روکے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے ۔ بھا ر ت پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے ۔پاکستان کیساتھ بھارت کی جانب سے کرکٹ نہ کھیلنے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا دونوں ممالک کو بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے ورنہ مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ پاکستان سعودی عرب کے بنائے گئے مسلم ممالک کے اسلامی فوجی اتحاد کا حصہ ہے ، مسلمان ممالک کی افواج کے اتحاد کا مقصد انسداد دہشتگردی ہے ۔ ابھی اس اتحاد ن کے ٹرمز آف ریفرنس نہیں بنےْ ۔میڈیا کو ہفتہ واربریفنگ دیتے ہوئے نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں ایک جنازہ پر فائرنگ کر کے تین کشمیریوں کو شہید کر دیا جس سے حالیہ دنوں میں کشمیری شہیدوں کی تعداد 150 سے زائد ہو گئی ہے ۔ اب تک10 ہزار کشمیریوں کو گرفتار ،11 ہزار سے زائد کی پیلٹ گن سے آنکھیں زخمی کی جا چکی ہیں ۔اسوقت او آئی سی کا انسانی حقوق مشن آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کر رہا ہے جبکہ بھارت کا او آئی سی مشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہ دینا قابل افسوس عمل ہے ۔ بھارت کاپہلے سے کشمیر میں موجود 10 لاکھ سے زائد فوج کے باوجود مزید 20 ہزار افواج کا اضافہ کرنا قابل مذمت ہے ۔ پاکستان بھارت کیساتھ ممبئی میں جناح ہاؤس کی ملکیت و تحفظ کا ایشواٹھاتا رہا ہے ، امید ہے بھارت اس پر عملدرآمد کرے گا۔ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے جسکا واضح ثبوت کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے ، بھارت کی جانب سے مسلمانوں ، عیسائی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے مخالف اقدامات کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہئے ۔ بھارت میں جو لوگ سبزی خور نہیں ان کے خلاف اقدامات کئے جا ہے ہیں اسکا بھی عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہئے ۔ حسین حقانی پاکستان کے سابق سفیر ہیں اور اگر وہ موجودہ سفیر بھی ہوتے تو انہیں پاکستان میں سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہو سکتا ۔جنرل (ر) راحیل شریف اب سویلین ہیں اور وزارت خارجہ کے دائرے میں نہیں آتے، وزراء پارلیمنٹ میں موقف دے چکے ہیں ،ہمارے پاس اس حوالے سے معلومات نہیں ۔ سعودی عرب کے بنائے گئے اسلامی فوجی اتحاد کے حوالے سے ابھی تک ٹرمز آف ریفرنس نہیں بنے۔ پاکستان ، افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور حال ہی میں لندن میں مشیر خارجہ اور افغان قومی سلامتی کے مشیر کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک کے سرحد کی مینجمنٹ کو مستحکم اورمنیج کرنے پر اتفاق ہوا تھا اب اس ضمن میں اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ سرحد پاردہشتگردی کو روکا جا سکے ۔ پاکستان ماسکو میں افغان مسئلے پر اجلاس میں شرکت کرکے مثبت تجاویز دے گا۔بین الاقوامی برادری کو بھارتی راہنماوں کے بیانات کا نوٹس لینا چاہیے، پاکستان بھارتی دہشت گردی کا شکار ہے،بھارت کے اندر دہشتگردی کوئی اور نہیں وہاں کی ہندو تنظیمیں کراتی ہیں۔پاکستان خود بھارتی حمایت یافتہ اور مالی امداد سے جاری دہشت گردی کا شکار ہے، سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ میں بھارتی سرکاری اداروں کا ہاتھ ثابت شدہ ہے مقبوضہ کشمیرمیں ایک شہید کے جنازے پربارود کا استعمال کیا گیا۔ سی پیک سے توانائی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی، اسی منصوبے کے تحت حب کول پاور پلانٹ کا افتتاح کیا گیا،کسی سفیر کو اپنے ملک میں سفارتی استثنیٰ نہیں ہوتا،حسین حقانی کے معاملے پر تبصرہ نہیں کروں گا،ویزا پالیسی وزارت داخلہ بناتی ہے۔

مزید : صفحہ اول