سندھ کے 8اضلاع اور ایک تعلقہ میں مردم شماری کا عمل مکمل

سندھ کے 8اضلاع اور ایک تعلقہ میں مردم شماری کا عمل مکمل

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مردم شماری کمشنر سندھ عبدالعلیم میمن نے کہا ہے کہ سندھ کے 8اضلاع اور ایک تعلقہ کے 50فیصد علاقے میں مردم شماری کے پہلے بلاک میں مردم شماری کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے ۔پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر سندھ میں 567شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے اکثریت شمارکنندگان کے نہ پہنچنے کے بارے میں تھیں ۔دوسرے بلاک کی خانہ شماری اور مردم شماری 31مارچ سے 12اپریل تک جاری رہے گی ۔2اپریل تک اگر کسی گھر کی خانہ شماری نہ ہوتو عوام محکمہ مردم شماری کو فوری طور پر آگاہ کریں ۔پہلے بلاک کی مردم شماری کے دوران کراچی میں 2بھارتی شہری پکڑے گئے ہیں جو غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے ۔میڈیا اور عوام مردم شماری عملے کے ساتھ تعاون کریں ۔فارم کی فوٹو کاپی اور پنسل فارم پرکروانے کی پابندی ہے ۔جبکہ فارم سے ہٹ کر سوال پوچھنے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو مردم شماری آفس میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر فوکل پرسن برائے مردم شماری شوکت نظام اور دیگر حکام بھی موجود تھے ۔عبدالعلیم میمن نے کہا کہ مردم شماری کے پہلے مرحلے میں سندھ کے 8اضلاع اور ایک تعلقہ میں مردم شماری ہورہی ہے ۔یہ عمل 15مارچ سے شروع ہوا ہے اور 12اپریل تک جاری رہے گا ۔پہلے مرحلے میں کراچی کے 6اضلاع ،ضلع حیدر آباد ،گھوٹکی اور تعلقہ سیہون شامل ہیں جہاں 463مردم شماری چارجز ،2912سرکلز اور 18162بلاکس بنائے گئے ہیں ۔پہلے مرحلے کے پہلے بلاک میں 8اضلاع اور ایک تعلقہ کے 50فیصد حصے میں 15مارچ سے 28مارچ تک خانہ شماری اور مردم شماری کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔جبکہ دوسرے بلاک میں 31مارچ سے 12اپریل تک خانہ شماری اور مردم شماری کا عمل جاری رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 14552بلاکس ہیں جن میں سے 7276بلاکس میں مردم شماری مکمل ہوچکی ہے ۔اسی طرح حیدر آباد میں 2070میں سے 1035،ضلع گھوٹکی میں 1294میں سے 647اور تعلقہ سیہون میں 246میں سے 123بلاکس کی مردم شماری کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔اس طرح مجموعی طور پر ہم ان علاقوں میں 50فیصد مردم شماری مکمل کرچکے ہیں ۔باقی 50فیصد حصے میں 31مارچ سے 12اپریل تک خانہ شماری اور مردم شماری ہوگی ۔2اپریل تک اگر کوئی گھرانہ یا عمارت خانہ شماری سے رہ جائے تو متعلقہ افراد فوری طور پر محکمہ مردم شماری کو آگاہ کریں ۔ہمارے پاس اضافی عملہ اور تمام مواد تیار موجود ہے ۔عبدالعلیم میمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اب تک ہونے والی مردم شماری میں کراچی میں 2بھارتی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے جو غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تھے ۔ایک کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں جبکہ دوسرے کی تحقیقات جاری ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پہلے بلاک کی مردم شماری کے دوران اسلام آباد میں ملک بھر سے 1400شکایات موصول ہوئی ہیں جبکہ کراچی میں 567شکایات موصول ہوئی تھیں ،جن میں سے اکثریت شمار کنندگان کے نہ پہنچنے کے بارے میں تھیں ۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے دوران پنسل اور فوٹو اسٹیٹ فارم کے استعمال پر مکمل پابندی ہے ۔جہاں پر شکایات ملی تھیں اس پر سخت ایکشن لیا گیا ہے ۔اسی طرح فارم سے ہٹ کر سوالات پوچھنے پر بھی ایکشن لیا گیا ہے اور سختی سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی ایسا سوال نہ پوچھا جائے جو فارم میں درج نہ ہو ۔اس موقع پر فوکل پرسن شوکت نظام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عملہ مکمل تربیت یافتہ ہے ۔عوام اور میڈیا تعاون کریں ۔انہوں نے کہا کہ جو افراد غلط اطلاعات فراہم کریں گے انہیں 50ہزار روپے جرمانہ یا 6ماہ قید یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے عمل میں فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے مکمل طور تعاون کررہے ہیں اور دو فارم پر کیے جارہے ہیں جن میں سے ایک شمارکنندہ جبکہ دوسرا فوجی اہلکار پر کررہا ہے اور ان کے ساتھ دو اہلکار سکیورٹی پر مامور ہیں ۔اب تک کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے ۔پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دوسرے مرحلے کی تیاری کی جائے گی اور دوسرا مرحلہ 25اپریل سے 25مئی تک جاری رہے گا اور یہ مرحلہ بھی بنیادی طور پر دو مراحل پر مشتمل ہے ۔اس مرحلے میں سندھ کے 21اضلاع میں 30838مردم شماری بلاکس بنائے گئے ہیں ۔آدھے بلاکس پہلے مرحلے میں اور آدھے بلاکس میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے دوران ہر اس آدمی کو شمار کیا جائے گا جو مردم شماری کے وقت وہاں موجود ہوگا تاہم مخصوص افغان بستیوں کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔شوکت نظام نے کہا کہ مردم شماری کو شفاف بنانے کے لیے مختلف مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں صوبائی حکومت کی ٹیم بھی شامل ہے اور یومیہ بنیادوں پر مردم شماری کے عمل کو مانیٹر کیا جارہا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی ایک ٹیم بھی جائزہ لے رہی ہے ۔اب تک کہیں سے کوئی ایسی شکایات موصول نہیں ہوئی ہے جس میں کسی بڑی بے ضابطگی کا اظہار کیا گیا ہو ۔

مزید : کراچی صفحہ اول