پارا چنار تاریخی ہسپتال کی خستہ عمارت کسی بھی وقت بڑے حادثہ کا سبب بن سکتی ہے :ساجد طوری

پارا چنار تاریخی ہسپتال کی خستہ عمارت کسی بھی وقت بڑے حادثہ کا سبب بن سکتی ہے ...

پاراچنار(نمائندہ پاکستان)پاراچنار کا تاریخی سول ہسپتال مسائل کا شکار ،انگریز دور میں ہسپتال کے تعمیر ہونے والیذیادہ تر تعمیرات کسی بھی وقت گر سکتے ہیں اور کسی بڑے المئے کا سبب بن سکتے ہیں۔ایم این اے ساجد طوری کا ہسپتال کے زنانہ او پی ڈی کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت ۔پاراچنار شہر میں 1902 کے انگریز دور میں سول ہسپتال کی عمارت تعمیر کی گئی تھی عمارت کے ذیادہ تر حصے بوسیدہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکارہیں اور کسی بھی وقت گرکر کسی بڑے المیئے کا سبب بن سکتے ہیں ہسپتال میں نہ صرف پانی اور بجلی کا نظام تباہ حال پڑا ہے بلکہ وارڈوں اور چار دیواری کی حالت کھنڈارت کا منظر پیش کررہے ہیں۔ ہسپتال کے دورے اور زنانہ او پی ڈی کے افتتاح کے موقع پرہسپتال میں موجود لیبارٹری اور الٹرا ساونڈ کی سہولت کی موجودگی کو سراہا ساتھ ساتھ پاراچنار کے واحد زنانہ ہسپتال میں سہولیات کی شدید فقدان پر افسوس کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ ٹاوں کمیٹی کی ایک باقاعدہ سیٹ اپ موجود ہونے کے باوجود ہسپتال کی یہ حالت قابل افسوس ہے ساجد طوری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زنانہ ہسپتال میں پانی اور بجلی کی سہولیات کی کمی سمیت عمارت کی بوسیدگی کا فوری ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے فاٹا سیکریٹیرٹ کو بھی مراسلہ بھیجا گیا ہے اور عنقریب ہسپتال کو جدید حطوط پر استوار کرینگے اس موقع پر ایجنسی سرجن ڈاکٹر معین بیگم نے ہسپتال کے مسائل بیان کئے ۔ اپنے دورے کے دوران ایم این اے ساجد طوری نے ٹی بی لیب کیلئے پانچ لاکھ روپے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ہسپتال لیب میں بائیو کمیسٹری ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرنیاور ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کیلئے ہاسٹل بنانے کا بھی وعدہ کیا۔ ایجنسی سرجن ڈاکٹرمعین بیگم نے کہا کہ انتہائی قلیل سہولیات کے باوجود وہ شب و روز ایک کرکے مریضوں کو سہولیات بہم پہنچانے میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے ہسپتال میں سہولیات کی کمی کو دور کرے تو علاقے کے عوام خصوصا حواتین کو صحت کے حوالے سے درپیش مسائل بہتر طریقے سے حل کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر