طور خم بارڈر کی بندش سے تاجروں کا کروڑوں کا نقصان ہوا ،ضیاء الحق

طور خم بارڈر کی بندش سے تاجروں کا کروڑوں کا نقصان ہوا ،ضیاء الحق

پشاور( سٹاف رپورٹر )پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(PAJCCI) کے سینئر نائب صدر اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(SCCI) کی ریلوے اور ڈرائی پورٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن(APCAA) پاکستان کے مرکزی نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی ہے کہ طورخم بارڈر پر جن کنٹینرز ڈرائیورز کے پاس پاسپورٹ نہیں ہیں اُنہیں 2ماہ کا وقت دیا جائے کیونکہ پاک افغان بارڈر کی بندش سے تاجروں کو پہلے ہی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور اب پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے کنٹینروں میں موجوداموال نہ صرف خراب ہو رہے ہیں بلکہ تاخیر کے باعث قابل فروخت بھی نہیں رہیں گے ۔ ایک بیان میں ضیاء الحق سرحدی نے 32 روز کے بعد وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے طورخم بارڈر پر جذبہ خیر سگالی کے طور پرکھولنے کے اقدام پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے پاک افغان بارڈر کھولنے کے احکامات کی وجہ سے تاجروں کو مزید کروڑوں روپے کے نقصانات سے تو بچالیاگیا ہے لیکن اب ٹرک ڈرائیوروں اور کلینرز سے پاسپورٹ کی طلبی کی وجہ سے بارڈر پر کھڑے کنٹینرز افغانستان ایکسپورٹ ہونے سے رُکے ہوئے ہیں اور اُن میں پڑے ہوئے اموال خراب ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث پہلے ہی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں آنیوالا 70فیصد مال ایران کے راستے بندرعباس اور چاہ بہار منتقل ہوچکا ہے جبکہ افغان ٹریڈ سے وابسطہ کراچی سے لیکر سرحد تک لاکھوں افراد کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔اور قومی معیشت کو بھی تین ملین ڈالرز روزانہ کا نقصان پہنچا جبکہ نجی ٹرانسپورٹرز،کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس بارڈرزاور شیپنگ ایجنٹس کے ساتھ تجارت پیشہ افراد کا بھی کافی نقصان ہوا ہے۔ اور اب بارڈر کی بندش اور اس کے باوجود پاسپورٹ کی طلبی کے باعث افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور ایکسپورٹ سے وابستہ تاجر کروڑوں روپے کے نقصان کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش سے قبل افغانستان جانے کے لئے شناختی کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس دکھا کر بارڈر کراس کیا جاتا تھا جبکہ افغانی ڈرائیور پاکستانی بارڈر کراس کرنے کے لئے روٹ پرمٹ دکھا کر بارڈر کراس کرتے تھے ۔ ضیاء الحق سرحدی جو کہ فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس گروپ خیبر پختونخوا (FCAG)کے صدربھی ہیں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور اعتماد سازی کیلئے ایک میکنزم کی اشد ضرورت ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر