نیشنل بینک ،7.50روپے فی حصص ڈیویڈنڈ کی منظوری

نیشنل بینک ،7.50روپے فی حصص ڈیویڈنڈ کی منظوری

کراچی (اکنامک رپورٹر) نیشنل بینک آف پاکستان کا اڑسٹھواں (68th)سالانہ اجلاس عام بینک کے صدر جناب سعید احمد کی صدارت میں جمعرات ، 30مارچ، 2017 کو ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں حصص یافتگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اجلاس میں حصص یافتگان نے بینک کے مالی گوشواروں اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے سفارش کردہ فی حصص 7.50روپے نقد منافع منقسمہ کی منظوری بھی دی جو (قانونی reserveکے لیے مختص کیے جانے کے بعد)سال 2016کے لیے بینک کے قابل تقسیم منافع میں سے حصص کی ادائیگی کا 78فیصد بنتا ہے۔اجلاس میں حصص یافتگان کو بتایا گیا کہ سال 2016 کے لیے بینک نے 12فیصد قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا جو سال 2015 کے 33,216 ملین روپے کے مقابلے میں 3,925 ملین روپے زیادہ ہے یعنی سال 2016 کے لیے یہ رقم 37,141 ملین روپے ہے۔بعد از ٹیکس منافع کی رقم 22,752 ملین روپے ہے یعنی گزشتہ سال کے 19,219 ملین روپے کے مقابلے میں 18فیصد زیادہ ہے۔ منافع کی یہ شرح بینک کی تاریخ میں بلند ترین شرح ہے جو 10.69 روپے آمدنی فی حصص (earning per share) بنتی ہے۔بینکاری کے شعبے کے لیے نسبتاً ایک مشکل سال ہونے کے باوجود بینک نے انٹریسٹ/ مارک اپ انکم اور فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی (fee-based income) میں ریکارڈ اضافہ حاصل کیا ہے۔بینک کے ڈپازٹس (deposits)میں بھی 16 فیصد اور ایڈوانسز میں 13 فیصد کا قابل تعریف اضافہ ہوا ہے جب کہ اس کے سرمائے اور reserve کی مالیت 31دسمبر، 2016میں بڑھ کر 177بلین روپے ہو گئی۔حصص یافتگان کو یہ بھی بتایا گیا کہ نتائج میں یہ بہتری مختلف حکمت عملیوں پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے حاصل ہوئی ہے جس میں مختلف اقسام کے ڈپازٹس (deposit-mix)، اثاثوں پر حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافے اور ری پروفائلنگ (optimization and reprofiling)، اخراجات پر بہتر کنٹرول اور روایتی اور اسلامی کاروبار میں مارکیٹ فٹ پرنٹ میں اضافہ شامل ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر