انتہاپسندمودی دور ،مذبحہ خانے بند ہونے سے قصاب بھوکے مرنے لگے

انتہاپسندمودی دور ،مذبحہ خانے بند ہونے سے قصاب بھوکے مرنے لگے

نئی دہلی ( نیٹ نیوز/ بی بی سی )بھارت کی جن ریاستوں میں مذبحہ خانوں کو غیر قانونی قرار دے کر پابندی عائد کی گئی ہے وہاں زندگی کے مختلف شعبوں پر اس کے کئی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، انتہا پسند ہندو نظریات کی حامل جماعت بی جے پی نے ریاست یوپی اور جھاڑکھنڈ میں مذبحہ خانوں کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔اس حکم کے بعد گوشت کی فراہمی مشکل ہوگئی ہے، جس کے سبب کئی افراد کو اپنے ہوٹل بند کرنے پڑ رہے ہیں بھارت کے قصاب موجودہ صورتحال میں بھوکے مرنے لگے ہیں سب سے زیادہ برا اثر اس کاروبار سے وابستہ مزدوروں کی روزی روٹی پر پڑا ہے۔جھاڑکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں قریشی محلے کی سلیمہ خاتون کی چار بیٹیاں ہیں۔ان کا بیٹا مذبحہ خانے میں کام کرتا تھا تو کچھ پیسوں کی کمائی ہو جاتی تھی۔ دال روٹی کا خرچ اسی سے چلتا رہا ہے لیکن اب یہ بند ہوگئے ہیں تو بیٹا بھی بے روزگار ہوگیا ہے۔ بھارت میں بڑے جانور کے گوشت پر ایک عرصے سے تنازع جاری ہے اور بی جے پی کی حکومتوں کی جانب سے اس کے خلاف کارروائی جاری ہے۔سلیمہ کو اس بات کی فکر ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو چند دنوں بعد کھانے کے لالے پڑ جائیں گے۔سلیمہ خاتون نے بی بی سی گفتگو میں کہا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ غربت کی وجہ سے بچوں کو پڑھا لکھا نہیں سکے۔ کوئی کاروبار بھی نہیں ۔ کوئی اور کام آتا نہیں ہے۔ ہماری تو قسمت پر تالا لگ گیا ہے۔ اب کیا کریں؟ کیا کھائیں؟ان کی پڑوسی رومیلا خاتون کے شوہر کا چند برس پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ بیٹا مذبح خانے میں کام کرتا تھا جس سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔انھوں نے بتایا: 'ہم لوگ بھوک اور دکھ سے پریشان ہیں۔ گھر میں آٹا بچا تھا، تو آج کھانا بن گیا۔ کل کس طرح کھائیں گے، اس کا پتہ نہیں ہے۔گوشت کے تاجر تبریز قریشی نے بتایا کہ حکومت کے اس فرمان کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہورہی ہیں۔جھارکھنڈ میں بھی بیشتر مذبحہ خانے بند پڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پورے جھاڑکھنڈ میں برسوں سے لائسنز کی تجگیگ نہیں کی گئی۔ حکومت خود اس کو ٹالتی رہی ہے۔ رانچی کے تمام مذبحہ خانے غیر قانونی قرار پائے۔ پوری ریاست میں قانونی طور درست مذبحہ خانوں کی تعداد برائے نام ہوگی۔تبریزقریشی نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ ہمیں اپنے لائسنز کی تجدید یا پھر نئی درخواست کے لیے کم سے کم دو ماہ کا وقت دینا چاہیے تھا تاکہ، ہمارا روزگار متاثر نہ ہوتا۔وہ کہتے ہیں: '72 گھنٹے کے اندر دکانوں کو بند کرنے کا حکم دینا مناسب نہیں ۔ ہمیں کچھ بھی سوچنے یا کرنے کے لیے حقیقی طور پر صرف 36 گھنٹے ہی مل پائے۔جھارکھنڈ کے داخلہ سکریٹری ایس کے جی رہاٹے نے کہا کہ ان کے پاس اس کا کوئی ڈیٹا نہیں کہ ریاست میں کتنے قانونی طور پر درست مذبحہ خانے ہیں۔مقامی اخبارات میں وزیر اعلی رگھوور داس کی تصویر کے ساتھ ایک اشتہار شائع کرایا ہے۔لیکن اس سے بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ جھاڑکھنڈ میں کتنے مذبحہ خانے قانونی طور پر درست ہیں۔یو پی میں بھی مذبحہ خانوں پر کریک ڈاؤن کیا گیا ہے ۔شکیل احمد 1970 ء سے گوشت کا کروبار کر رہے ہے اور اب وہ بیکار ہو گیا ہے ۔ واضح رہے کہ مودی حکومت نے گوشت کو علی گڑھ یونیورسٹی کے مینیوسے بھی نکال دیا ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر