اسرائیلی کابینہ نے غرب اردن میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دیدی

اسرائیلی کابینہ نے غرب اردن میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دیدی
اسرائیلی کابینہ نے غرب اردن میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دیدی

  

یروشلم (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غرب اردن میں نئی یہودی بستی کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔نئی یہودی بستی کی تعمیر کا فیصلہ 20 سال سےزائد عرصہ کے بعد کیا گیا ہے ۔ تعمیرات نابلس کے قریب ایمک شلو کے علاقے میں کی جائیں گی۔

بی بی سی کے مطابق سرکاری سطح پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تعمیرات نابلس کے قریب ایمک شلو کے علاقے میں کی جائیں گی۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اسی وقت میں امریکی حکومت کے ساتھ آبادکاری سے متعلقہ اقدامات میں کمی کے حوالے سے امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے ہیں۔فلسطینی حکام کی جانب سے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔

امام کعبہ 6اپریل کو پاکستان پہنچیں گے ، تفصیلی خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطین لبریشن آگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن حنان اشروی کا کہنا ہے کہ آج کے اعلان نے ایک بار بھر ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل استحکام کی ضرورت اور صرف امن کے مقابلے میں غیرقانونی آبادی کی خوشنودی کے لیے عزائم رکھتا ہے۔امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اسرائیلی فیصلے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ غرب اردن اور مشرقی یروشیلم میں یہودی آبادکاریاں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین طویل عرصے سے تنازعے کا باعث ہیں۔

1967ءمیں اسرائیل کی جانب سے غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے یہاں تعمیر ہونے والے 140 بستیوں میں چھ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔یہ آبادکاریاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں جبکہ اسرائیل اسے تسلیم نہیں کرتا۔

جنوبی سوڈان میں پاکستانی انجینئر سمیت 3مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا

گذشتہ ماہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پولیس نے سب سے بڑی بستی امونا کو خالی کروالیا تھا کیونکہ عدالتی حکم کے مطابق یہ فلسطینی زمین پر قائم تھی اور اسے مسمار کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

 یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔برسراقتدار آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف اشارہ دیا تھا کہ وہ ان یہودی بستوں کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے ان بستوں کے حامی اہلکار کو اسرائیل کے لیے اپنا سفیر بھی مقرر کیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی