بیکن ہاﺅس سکول سسٹم کے زیراہتمام نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق کانفرنس کا انعقاد،صنفی امتیاز سے متعلق سیرحاصل مباحثہ

بیکن ہاﺅس سکول سسٹم کے زیراہتمام نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق کانفرنس کا ...
بیکن ہاﺅس سکول سسٹم کے زیراہتمام نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق کانفرنس کا انعقاد،صنفی امتیاز سے متعلق سیرحاصل مباحثہ

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مستقبل کی ایک دنیاکھوجنے کی جستجو لیے2017ءکا سب سے بڑا ایونٹ ایس او ٹی(SOT) بیکن ہاﺅس سکول سسٹم کے زیراہتمام 11تا 12مارچ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ ہفتے کے اختتام پر موسم قدرے سرد ہو گیا تھا لیکن اس کانفرنس کے اندر ماحول بہت گرم جوش تھا۔ یہ گرم جوشی کچھ حیران کن بھی نہیں تھی کیونکہ بہترین مقرر، انسانیت کے مستقبل کو سنوارنے کے نئے تخیلات لیے کانفرنس میں شریک تھے۔یہ تخیلات صنفی مساوات، تعلیمی اصلاحات، کھیلوں اور فنون لطیفہ سمیت تمام موضوعات کا احاطہ کیے ہوئے تھے۔ کانفرنس میں 5 متنوع جہتوں میں ملک و قوم کے مستقبل پر غوروخوض کیا گیا۔ ہر جہت پر میں آگے بڑھنے کے امکانات پر سنجیدہ بحث و مباحثے اور مذاکرے ہوئے۔ یہ 5جہتیں مندرجہ ذیل تھیں:

ڈیجیٹل مستقبل

متوازن مستقبل

محفوظ تر مستقبل

بامعنی مستقبل

شمولاً مستقبل

”محفوظ تر مستقبل“ کی جہت میں ”آب و ہوا کی حقیقت؟“ پر ایک مباحثہ ہوا جس میں دنیا پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر سیرحاصل بحث کی گئی۔ اس مباحثے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے غیرمانوس اثرات کا کھوج لگانے کی کوشش بھی کی گئی۔ ماہرین نے بتایا کہ گزرتے وقت کے ساتھ کتنی موسمیاتی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہیں اور ان کے اثرات کا تاحال سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

متوازن اور شمولاً مستقبل کی جہتوں کے تحت کانفرنس میں صنفی امتیاز کے متعلق مسائل پر جامع مذاکرے ہوئے جن میں ہر دو اصناف کے معاشرے میں کردار اورمردانگی کے مستقبل پر بحث سے آگے بڑھتے ہوئے وسیع تر موضوعات پر سیرحاصل بحث کی گئی۔ ان مذاکروں میں تمام اصناف کے ہم آہنگی اور مساوات لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ایک مذاکرے میں سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ ”جب آپ مرد کو کسی ایسے کردار تک محدود کرتے ہیں جس کے لیے وہ موزوں نہیں ہے، تو وہ تشدد پر آمادہ ہو جاتا ہے۔“

بامعنی مستقبل کے تحت ہونے والے مباحثوں میں معاشرے میں ہماری شناخت بنانے میں ثقافت، فنون اور زبان کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ قابل احترام سکالرز اور مصنفین نے ’ہماری زبان، ہماری پہچان‘ کے موضوع کے تحت ہماری قومی زبان کی زبوں حالی پر خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”حکومت قومی زبان کو آگے لانے کے لیے جو اقدامات اٹھا رہی ہے اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچنے گا بلکہ الٹا اس سے عوام کو کئی مشکلات درپیش آئیں گی۔”فنون لطیفہ، سرحدوں کی قید کے بغیر“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے معروف رقاصہ شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ ہم فنون لطیفہ کی ترویج کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاحال یہ ہالز اور آڈیٹوریمز تک محدود ہیں۔ یہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”ہم اپنے ملک میں تنوع کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ اس سے ہمارے فنون لطیفہ بھی متاثر ہوں گے۔“

ٹیکنالوجی دنیا کو بہت زیادہ متاثر کر رہی ہے چنانچہ ”ڈیجیٹل مستقبل“ ایک ایسی جہت ہے جس کے اثرات مستقبل کی باقی تمام جہتوں پر اثرانداز ہوں گے۔ ’ڈیجیٹل مستقبل‘ کی جہت کے تحت کانفرنس میں سوشل میڈیا کے اچھے اور برے پہلوﺅں سے لے کر تعلیم کے مستقبل تک کے ہر ایسے موضوع پر بحث کی گئی جس پر ٹیکنالوجی کے اثرات مرتب ہوں گے۔شریک بانی بریمرز بدر خوشنود اورمنیجنگ ڈائریکٹر ’کریم‘ جنید اقبال سمیت کئی بڑے ٹیکنالوجی ماہرین نے بتایا کہ کیسے ٹیکنالوجی پہلے ہی منقسم معیشت پیدا کر رہی ہے جو طویل مدتی تناظر میں ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔

ایس او ٹی 2017ءکے انعقاد کا مقصد سنجیدہ مذاکروں اور مباحثوں انعقاد تھا۔ اس میں شرکاءکے لیے تفریح طبع کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ کانفرنس کے پہلے روز کا اختتام شہیرخان کی پرفارمنس اور ایک اردومشاعرے پر ہوا۔ شرکاءنے شہیر کی پرفارمنس سے خوب حظ اٹھایا اور مشاعرے میں دل گداز شاعری سے تمام وقت لطف اندوز ہوتے رہے۔

کانفرنس کے دوسرے دن کا اختتام اس سے بھی بہتر انداز میں شفاعت علی کی قہقہوں سے لبریز کامیڈی پرفارمنس اور انگل سرگم کے شاندار پتلی تماشے پر ہوا۔ اختتامی تقریب میں پاکستان کے جانے مانے راک سٹار علی عظمت نے بھی اپنے فن کا جادو جگایا۔یہ ایسی وسعت کے حامل ایونٹ کا انتہائی موزوں اور شاندار اختتام تھا۔

مزید : اسلام آباد