جنرل (ر)راحیل کی این او سی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا:خواجہ آصف

جنرل (ر)راحیل کی این او سی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا:خواجہ آصف
جنرل (ر)راحیل کی این او سی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا:خواجہ آصف

  

کراچی (ویب ڈیسک)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی فوجی اتحاد کا حصہ ہے اور جنرل راحیل شریف اس کی سربراہی کیلئے جارہے ہیں، جنرل راحیل شریف کی این او سی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا ہے، اس اتحاد کی پہلی میٹنگ میں وزیراعظم نواز شریف اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل بھی گئے تھے، یہ اتحاد اپنے خدوخال اور مقاصد کے ساتھ مئی میں فائنل ہوجائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس وقت گردشی قرضہ 145ارب روپے کا ہے جو دو سے ڈھائی سال پرانا ہے، نیپرا کی طرف سے کم ٹیرف رکھنے کی وجہ سے ہر سال 140ارب روپے گردشی قرضوں میں شامل ہوجاتے ہیں، آئی پی پیز کو حکومت پر اعتبار ہے اسی لئے وہ نئے پلانٹ لگارہے ہیں، حکومت نے گردشی قرضوں کی مد میں پچاس ارب روپے پچھلے ہفتے ادا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سروے کے مطابق ملک میں لوڈشیڈنگ میں کمی آئی ہے، اس وقت بجلی کی لوڈشیڈنگ وقتی ہے، گرمیوں میں بجلی کے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، پانی نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں پانچ ہزار میگاواٹ کمی ہوئی ہے، ساڑھے بارہ سو میگاواٹ بجلی کے پلانٹس مینٹیننس کیلئے بند کیے ہوئے ہیں، اگلے مہینے لائن میں ایک ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوجائے گا، اپریل کے آخر تک پانی کے ذخائر میں بہتری کے بعد ساڑھے سات ہزار میگاواٹ اضافی بجلی ہوگی۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ میں نے چند یونین کونسلوں کا کچرا اٹھانے کیلئے کہا تھا پورے کراچی کی ذمہ داری نہیں لی تھی، جن یونین کونسلوں سے کچرا اٹھانا تھا وہاں صفائی کردی گئی ہے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ پر ہر سال پینتیس کروڑ روپے خرچ ہورہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ کو پروپوزل دیا تھا کہ کچھ پیسے شہری حکومت کو دیدیئے جائیں، صفائی کیلئے فنڈز مل جاتے تو کسی حد تک کچرا صاف کرلیتے،وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے کچرے کے معاملہ پر مجھے آن بورڈ نہیں لیا۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ڈی ایم سیز اور کے ایم سی کے پاس کچرا اٹھانے کیلئے مشینیں نہیں ہیں، صوبائی حکومت ،وفاقی حکومت کے دیئے گئے پیسوں میں سے شہری حکومت کا حصہ نہیں دے رہی ہے، کچرے کی صفائی اور مشینری خریدنے کیلئے اختیارات کے ساتھ فنڈز کی ضرورت بھی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کے پاس اختیارات اور پیسے ہیں مگر کراچی صاف کرنے کا رادہ نہیں ہے، مراد علی شاہ مجھے دس ارب روپے دیں تو کراچی صاف کرسکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شہری حکومت کے 2009ء میں 13ہزار 763ملازمین تھے جبکہ 2015ء میں 13ہزار 560ملازمین ہیں، شہری حکومت کا بجٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھنے سے بڑھا ہے، پیپلز پارٹی کا گھوسٹ ملازمین کا واویلا صرف سیاسی بیان بازی ہے، صرف وارڈنز کے شعبہ میں گھوسٹ ایمپلائز ہیں ، اختیارات کے معاملہ میں اگر یہی حال رہا تو کراچی کی صفائی ہونا ممکن نہیں ہوگی۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے کچرے کون اٹھائے گا؟ یہ سوال کراچی سے باہر نکل کر ملکی سیاست میں بھی گونج رہا ہے،ایسا لگتا ہے کہ اگلے الیکشن کی مہم میں کراچی کا کچرا بہت بڑا موضوع ہوگا کیونکہ یہ صاف ہوتا نظر نہیں آرہا ہے، آصف زرداری نے جب پنجاب میں کامیابی کے دعوے کیے تو وزیراعلیٰ پنجاب نے انہیں کراچی کے کچرے کا طعنہ دیا، بلدیاتی انتخابات کے بعد کراچی کے مسائل حل ہونے کی امید تھی لیکن شہری حکومت ابھی تک اختیارات سے محروم ہے، شہری حکومت کی شکایت ہے کہ ان کے پاس اختیارات اور وسائل نہیں ہیں، کچرا اٹھانے کی ذمہ داری سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی ہے جو صوبائی وزیر بلدیات کے ماتحت آتا ہے، سپریم کورٹ نے بھی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کیلئے کہا ہے، سندھ حکومت اور شہری حکومت کچرے کے معاملہ پر ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہے ہیں، اس مسئلہ کا حل نکالنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنایا جارہا ہے۔

شاہ زیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ لاہور میں پندرہ مارچ 2015ء کو یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں کے باہر دو خودکش حملوں کے بعد مسیحی برادری مشتعل ہوئی اور ہجوم سڑکوں پر نکل آیا جس کے تشدد سے دو افراد بھی مارے گئے، اب یہ معاملہ عدالت میں ہے مگر ایک الزام سامنے آیا ہے، اس کیس میں ملزمان کو قانونی معاونت فراہم کرنے والے سماجی کارکن جوزف فرانسس نے الزام لگایا ہے کہ سماعت کے دوران ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سید انیس شاہ کی طرف سے گرفتار افراد کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو انہیں رہا کردیا جائے گا، سید انیس شاہ نے اس بات کی مکمل تردید کی اور بتایا کہ حکومت نے انہیں ٹرانسفر کردیا ہے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ ن لیگ کی حکومت نے الیکشن سے پہلے اور بعد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کیے اور اس وقت کے تمام گردشی قرضے ادا کردیئے گئے مگر لوڈشیڈنگ بھی ابھی تک ہورہی ہے اور گردشی قرضوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے، یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت اپنے بجٹ خسارے کو کم دکھانے کیلئے گردشی قرضوں کی ادائیگی نہیں کررہی ہے، حکومت کی طرف سے گردشی قرضوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے تیل کی سپلائی اور بجلی کی پیداوار مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ کراچی میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، مردم شماری کیلئے اندرون سندھ سے بلائے گئے پولیس اہلکاروں کی رہائش اور کھانے پینے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے جو رولز کے مطابق کیا جانا چاہئے تھا، سیکیورٹی اہلکاروں کو خیراتی اداروں سے کھانا لے کر کھلایا جارہا ہے، سندھ حکومت نے ان پولیس اہلکاروں کی رہائش اور کھانے کی مد میں ساڑھے دس کروڑ روپے جاری کردیئے ہیں مگر وہ پیسے ابھی تک تھانوں کے ایس ایچ اوز کو نہیں ملے ہیں، تھانوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو سیلانی ویلفیئر اور عبداللہ شاہ غازی کے مزار سے لایا گیا کھانا کھلایا گیا۔شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کی رہائی کا معاملہ لٹک گیا ہے،ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کی مشکلات ابھی تک تھمی نہیں ہے، سندھ ہائیکورٹ نے بدھ کو ڈاکٹر عاصم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا مگر ایک دن گزرنے کے بعد بھی انہیں رہائی کا پروانہ نہیں مل سکا ہے، ڈاکٹر عاصم کا ریلیز آرڈر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد جاری ہونے کا امکان ہے۔

سماجی کارکن جوزف فرانسس نے کہا کہ یوحنا آباد کیس میں ایک ہی جرم کی دو ایف آئی آرز کاٹی گئی ہیں، یوحنا آباد کیس کی سماعت کے موقع پر سرکاری وکیل نے ملزمان کو اسلام قبول کرنے کی شرط پر مقدمہ ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی، مگر ملزمان نے انہیں کہا کہ اگر آپ عیسائی ہوجائیں تو ہمیں پھانسی لگادیں، پولیس نے بھی دورانِ کسٹڈی ان ملزمان پر اسلام قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالا تھا، ایک لڑکے نے اس وقت اسلام قبول کرلیا تو پولیس نے اسے چھوڑ دیا تھا، یوحنا آباد خودکش حملوں کی تحقیقات سے ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔جوزف فرانسس نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب یوحنا آباد چرچ پر خودکش حملوں کے بعد ہمارے پاس نہیں آئے بلکہ دہشتگردوں کے پاس جاکر کہا کہ یہ مقدمہ میں لڑوں گا، وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس کون سی کسوٹی ہے جس پر وہ ان لوگوں کو بے گناہ قرار دیتے ہیں، پنجاب حکومت اس مقدمہ میں مدعی ہے اور ہمارے بے گناہ لوگوں کو ذلیل و خوارکیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں ہم پس گئے ہیں، جب بھی ن لیگ کی حکومت آئی ہماری بستیاں جلائی گئیں اور ہمارے لوگوں کو قتل کیا گیا، ن لیگ کے نامزد ایم پی ایز اور ایم این ایز نے کھڑے ہو کر ہماری بستیاں جلوائیں جنہیں ٹکٹیں دے کر ہمارے سروں پر بٹھایا گیا۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان نے کہا کہ یوحنا آباد کیس میں مسیحی ملزمان کے تحفظات دور ہونا بہت ضروری ہے، کوئی پراسیکیوٹر کسی پر دبائو ڈال کر مذہب تبدیل نہیں کراسکتا ہے، اگر کسی پراسیکیوٹر نے ملزمان پر اسلام قبول کرنے کیلئے دبائو ڈالا ہے تو وہ سخت سزا کا حقدار ہے، اس معاملہ کی مکمل انکوائری کروائی جائے گی، ہماری کوشش برداشت کے حامل معاشرے کی تشکیل ہے۔ نمائندہ جیو نیوز طلحہ ہاشمی نے کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے ساڑھے دس کروڑ روپے مردم شماری سے ایک دن قبل کراچی کے تین ڈی آئی جیز، ایس ایس پی سکھر اورا یس ایس پی گھوٹکی کو دیدیئے گئے تھے ، یہ پیسے ایس ایچ اوز کو دیئے جانے تھے جو پولیس اہلکاروں کی رہائش اور کھانے کے ذمہ دار تھے، چار تھانوں میں اہلکاروں کو خیراتی اداروں سے کھانا لے کر کھلایا گیا ہے، ان چار میں سے دو تھانوں نے سیلانی ویلفیئر سے ایک تھانے نے عبداللہ شاہ غازی اور ایک تھانے نے عالم شاہ بخاری کے مزار سے کھانا لے کر اہلکاروں کو کھلایا ہے ۔

نمائندہ جیو نیوز جواد شعیب نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ ڈاکٹر عاصم کو ضمانتی مچلکے اور پاسپورٹ جمع کرانے کے عوض ریلیز آرڈر جاری کرنے کا حکم دیا تھا، ناظر سندھ ہائیکورٹ نے پاسپورٹ جمع کروائے بغیر ضمانتی مچلکے منظور کرنے سے انکار کردیا ہے، جسٹس فاروق شاہ نے عدالتی حکم میں کسی بھی قسم کی ترمیم سے انکار کردیا ہے، اب یہ معاملہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ دیکھیں گے۔

مزید : اسلام آباد