امریکی صدر نے بھی مایوس کیا

امریکی صدر نے بھی مایوس کیا
امریکی صدر نے بھی مایوس کیا

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے لگ بھگ ستر دِن مکمل ہو چُکے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے اِن مخصوص دِنوں میں اُنکی کار کردگی مجموعی طور پر مایوس کُن رہی ہے۔ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی پہلے دِن ہی اوبامہ ہیلتھ کئیر پلان کو بیک جنبش قلم مسترد کر دیا تھا۔ اسِ کے بعد دوسرا صدراتی حکم نا مہ آٹھ مُسلمان ممالک پر سفری پابندیاں لگا کر جاری کیا۔ لیکن عدلیہ نے ا مریکہ میں موجود مُختلف شہری تنظیوں کی اپیل پر فیصلے دیتے ہُوئے صدارتی حُکم نامے کو مسترد کر دیا۔ اِس سبب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو عدالتوں سے مُنہ کی کھانی پڑی۔ جس کی ڈونلڈ ٹرمپ کو با لکُل اُ مید نہ تھی۔ انہوں نے عدالت کے جج پر یہ کہہ کر غصہ نکا لنے کی کوشش کی کہ صدارتی احکامات کو مُسترد کرنے والا جج مُلک میں رونما ہونے دہشت گردی کے واقعات کا خود ذمہ دار ہو گا۔ تا ہم انہوں نے تین ھفتوں کی خاموشی کے بعد ایک نیا حکمُ نامہ جار ی کیا جس کا مقصد پہلے حُکم نامے کو تقویت د ینا تھا۔ نیز اِس صدارتی حُکم نامے کی رُو سے عراق کے باشندے مذکورہ پا بندیوں سے آزاد قرار دے د ئیے گئے۔ تا ہم یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔ جن کا ذاتی بزنس چلانے کا عملی تجربہ بے پناہ ہے۔ اُن سے اُمید تھی کہ وُہ دوسرے صدور کی نسبت زیادہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ لیکن افسوس کہ وُہ اپنے ابتدائی دِنوں میں متاثر کُن پر فا رمنس نہیں دسکے۔حتٰی! کہ اُنکی اپنی پارٹی ریپبلکن نے اوبامہ کئر پلان کو یکسر بدلنے سے منع کر دیا۔پار ٹی کے اراکین یہ سمجھتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنا ہیلتھ پروگرام اوبامہ ھیلتھ پلان سے بہتر نہیں ہے۔ 

ہم امریکی لوگوں کو مغرور اور متکبر لوگ سمجھتے ہیں۔ انتہائی خود غرض جو اپنے مطلب کے لئے گدھے کو بھی باپ کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستاں کو بہلا پھُسلا کر رُوس کے خلاف کھڑا کر دیا۔ اپنے نظرئے کی حمائت میں سعودی عرب، قطر اور خلیج کے دوسرے ممالک کو استعمال کیا کہ پاکستاں کو روس کے ساتھ لڑ نے کے لئے ہر صورت آمادہ کریں۔ جنرل ضیا کو بھی اپنا فوجی اقتدار بچانا تھا۔ لہذا انہوں نے امریکہ کے ساتھ ہی بنائے رکھنے میں اپنی عافیت سمجھی۔ لہذا امریکی اثر و رسوخ سے مغلوب ہو کر ہم نے کئی برس تک امریکہ کی جنگ لڑی۔ اپنے مُلک کو تباہ کر لیا۔ مہاجرین کی یلغار کو جھیلا اور ابھی تک میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کلاشنکوف کے اثرات سے نُقصان اُٹھایا۔ نا جائز فروشی اور منشیات نے کئی گھروں کے چراغ گُل کر دئیے۔ اسلحہ فروشی کے کاروبار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ بالآخر امریکہ نے پاکستان کو بفر سٹیٹ کے طور پر استعمال کرکے افغانستاں کو روس کے چُنگل سے آزاد کروا لیا۔ لیکن کام لینے کے بعد، پاکستان اور اُس کے عوام کی قُر با نیوں کو یکسر بھُلا دیا۔اِس پر بالائے ستم کہ جنرل ضیا کو اپنے سفیر کیساتھ طیارے کے حادثے مین مروا دیا۔ پہلے حادثے کی تحقیق میں مدد دینے کے بہانے پاکستانی عوام اور حکومت سے ہمدردی جتائی۔ جب سَب لوگ امریکی ٹیم کا انتظار کر رہے تھے۔ عین وقت پر فنی عذر کا سہارا لیکر ٹیم کو پاکستان آنے سے روک دیا۔ بد قسمتی سے وُہ تفتیشی رپورٹ حمود الرحمان کمشن کی طر ح آج تک منظرِ عام تک نہیں آ سکی۔ ہم امریکہ کی دو غلی پالیسیوں سے با لُکل عا جز ہیں۔ لیکن کچھ باتیں اُنکی اچھی بھی ہیں جن کا اعتراف نہ کرنا بھی غلط ہوگا۔اوبامہ نے پاکستاں میں امریکی فوجوں کو گھُس کر اوسامہ کو پکڑنے یا مارنے کے احکا مات جاری کئے۔ پاکستان کی دُنیا بھر میں رسوائی ہوئی کہ پاکستان میں چھپے ہوئے اوسامہ کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اور خاص طور پر آئی ایس آئی نے گرفتار نہیں کیا۔ اغلب امکان تھا کہ امریکہ تمام ملبہ پاکستاں کی فوج اور حکومت پر ڈال دیتا۔ لیکن اوبامہ نے نا جائز طریقے سے پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش نہیں۔ اِسی طرح ڈونلڈ ترمپ کے پاس بھی اختیار تھا کہ وُہ دوسرے اسلامی ممالک کی طرح پاکستاں پر بھی سفری پابندیاں عائد کر دیتا۔ لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ وُہ بھی پاکستاں کی خدمات کامعترف ہیں۔عدالتوں نے اپنے صدر کے احکامات کی پرواہ نہیں کی۔ عدالتوں نے مُسلم ممالک پر عائد پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انصاف کے تقاضوں پر امریکی ابھی تک پُورے اُترتے ہیں۔امریکی عوام، سول سوسائیٹی اور محکمہ عدل سے متعلق اہل کار انصاف کی فراہمی میں چُوک نہیں کرتے۔ اِسکے علاوہ، اداروں نے اپنے صدر کے تکبر کو پاش پاش کرنے کے لئے اور اُن کوسبق سکھانے کے لئے غیر اصُولی موقف سے متفق ہونے سے صاف انکار کردیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل نا کامی نے انہیں کانگریس کے ارا کین کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کر دیا۔اَب ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سمجھ آ چکُی ہے کہ مُلک چلانے اور کمپنی چلانے میں بڑا فرق ہے۔ کانگریس کا ہر رُکن عوام کو اپنی کارکردگی پر جواب دہ ہے۔ لہذا ہر کانگریس مین کو اپنا حلقہ انتخاب پیارا ہے۔ وہُ صدر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے غیر منطقی فیصلوں کی حمائت نہیں کر سکتے۔ بھلے اراکین کانگریس کا تعلقق اُنکی اپنی پارٹی سے ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے حکمران اور سیاستدان بھی امریکی نظامِِ حکومت سے بہت کُچھ سیکھ سکتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں ہر چیز بُری نہیں۔ اُن کا نقطہِ نظر ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ سُپر پاور ہے تو اُس میں کُچھ خوبیاں بھی ہیں۔ جن سے ہم بطور مُلک اور قوم استفادہ کر سکتے ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ