شبستاں والو غریب کی جھونپڑی بھی  تو دیکھو

شبستاں والو غریب کی جھونپڑی بھی  تو دیکھو
شبستاں والو غریب کی جھونپڑی بھی  تو دیکھو

  

افراد ہی اقوام  کی تقدیر کے مالک ہوتے ہیں- وہی کسی قوم  کے قسمت کو بناتے سنوارتے یا بگاڑتے ہیں-یہی ستارے جگمگاتے ہیں تو سینہء دھرتی  روشن ہوتی ہے- جس ملک کے جوان بے روزگار اور کاہل ہوں وہاں اندھیرے ہی مقدر ٹھہرتے ہیں- جو حکومت اپنے جوانوں  کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں سے فائدہ نہ اٹھا سکتی  ہو وہ کب فلاح پا سکتی ہے- جس کی ترقی  کے محور   ایسے مقاصد   ہوں جن سے بنیادی  انسانی  بہبود  ممکن نہ ہو کب ترقی  کی منازل طے کر سکتی ہے- یہی جوان  سرحدوں کے تحفظ  اور آزادی کی ضمانت ہوتے ہیں- لیکن جس ملک کے  یہی فرزند اگر روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھریں وہاں  قرضوں پہ سڑکیں اور موٹر وے تو گروی رکھے جاسکتے ہیں لیکن قرض اتارے نہیں جاسکتے-                                                                                          

صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن  غیر فعال صحت  کے مراکز اور آئے دن  ڈاکٹرز کی ہڑتال  نے تو قوم کو اس حق سے بھی محروم کردیا ہے- سسکتے  ،درد سے بلبلاتے  اور  نظر کرم کے منتظر    کسی مسیحا کے انتظار ہی میں  شہر خموشاں میں جا بستے ہیں اور بیماری سے نجات پاتے ہیں- اس مسائل زدہ معاشرے میں کس کو موردِ الزام ٹھہراؤں جہاں کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے- قصور کس کا  ہے –  قصوروار ڈھونڈتے  ہی تو  ایک زمانہ گذر گیا ہے- صورتحال کب  واضح ہو پاتی ہے بس عوام بھگتتی ہے- جہاں  معاملات کو سلجھانے یا الجھانے کی بات آتی ہے وہیں پہ انتظامیہ کے جواہر کی قلعی کھل جاتی ہے- بابائے قوم کی جیب کے کھوٹے سکے شاید آج بھی اتنے ہی کھوٹے ہیں جتنے کہ قیامِ پاکستان کے وقت تھے- کھوٹے سکے نہ خود ترقی کی اس مارکیٹ میں چلتے ہیں  اور نہ ہی  عوام الناس کی بھلائی کاکام انجام دے سکتے ہیں- ہر شعبہ ء زندگی میں پسند و ناپسند کے معاملات ترجیح پاتے ہیں بلکہ ایسے الجھاتے ہیں کہ حل ممکن نہ ہو-

سرکاری اداروں کے سربراہان نوجوان ڈاکٹروں کے مسائل کی آگہی اور اصلاح میں ناکام نظر آتے ہیں- آئے دن کی ہڑتال اور مریضوں کو درپیش ان گنت مشکلات داد رسی  کی بجائے  گھمبیر  ہوتی جا رہی ہیں- پہلے سے ہی  صحت کی سہولیات کے فقدان کا شکار ہسپتال آئے دن کی ہڑتال کا متحمل نہیں ہے-  نہ ہی کسی نئے ہسپتال کا قیام حکومتی  ترجیح نظر آتا ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود نظام میں کوئی خاطر  خواہ  بہتری کی نوید آتی ہے- موجودہ حالات میں  وہی دہائیوں پہلے  وجود میں آئے ہسپتال  اس آبادی کے سامنے کم پڑتے دکھائی دیتے ہیں-  ہمارے جوان مسیحا جب  اپنے سروس سٹرکچر کے حصول میں آئے دن ہڑتال پہ رہتے ہیں تو پہلے سے ڈگمگاتا یہ نظام منہ  بل آ گرتا ہے- ایمرجنسی  خدمات معطل ہوتی ہیں تو  مریضوں کی آہ و پکار آسمان تو ہلا دیتی ہے لیکن ذمہ داران  کے کانوں پہ جوں نہیں رینگتی ہے-  تڑپتی اور روتی عوام  شاید  کسی کی طمانیت کا باعث ہے جبھی تو کوئی اس کو تدارک کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتا- ڈاکٹرز اور صوبائی حکومت مل بیٹھ کر بھی جب کوئی حل نہیں نکال سکتے تو نجی ہسپتال کی چاندی ہو جاتی ہے لیکن پہلے سے پسی عوام پناہ مانگتی اور گڑگڑاتی  ہوئی  شاہوں کے پاؤں پڑتی ہے یا  گریبان پکڑتی دکھائی دیتی ہے-                                                                   

 طرفین  کی  ضد ہر دفعہ کے مذاکرات  کو ناکام بناتی ہے- حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ  ،بے توجہی    ،باہمی  اعتماد کا فقدان  دونوں  کو کسی بھی  خاطر خواہ نتیجہ پر نہیں پہنچنے دیتا اور اگر کسی چیز پہ اتفاق ہو بھی جائے تو اس کے اطلاق میں سستی اور  ہٹ دھرمی پھر  ینگ ڈاکٹر ز کو  سڑکوں پہ لے جاتی ہے اور  مریض ملک عدم کی  راہ لیتے ہیں-  جن مسیحاؤں کو ہسپتالوں میں ہونا چاہئے وہ  کھلے آسماں تلے  اپنا مسکن بنا لیتے ہیں  - آئے دن کا یہ کاروبارِ زندگی سب کو مٹاثر کرتا ہے – لیکن ایسا کرنے سے  نہ مسیحاؤں کے شبستانوں کی رنگینی ماند پڑتی ہے اور نہ ہی حاکم ِ وقت  کے محلات کی روشنی ، دیا تو غریب کی جھونپڑی کا بجھتا ہے- اندھیرے جب گھیر لیتے ہیں  تو پھر  بے حس نہ کوئی شکوہ کرتا ہے نہ شکایت  اور خدا کی رضا پہ راضی زمین  کا پیٹ بھرتا ہے- ارباب ِ اختیار کو اگر سڑکوں اور میٹرو سے فرصت ملے تو میں یہ لکھنا چاہتا ہوں کہ صاحب یہ اہم ترین اور نازک ترین مسئلہ آپ کی توجہ کا مستحق ہے- آپ کوتو بیرونِ ممالک علاج کی  تمام سہولیات میسر ہیں اور آپ کی عوام دیس میں بھی  خوار ہے- بیکار کے بحث مباحثے کی بجائے جس کا جو حق ہے اسے دیجئے اور جو  حق سے تجاوز ہے وہ عوام کے سامنے لائیے  اور انہیں بتائیے کہ کون رستے زخموں پہ مرہم رکھنے میں شد و مد سے کام لے رہا ہے- اور کون ہے جس کو صرف اپنے شبستانوں کی فکر ہے اور غریب کے جھونپڑے کی کوئی پرواہ نہیں-                                                               

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ