بھارتی پولیس کا انوکھاقانون : ایک دوسرے کیخلاف تشدد کی درخواستوں پر دونوں خواتین کیخلاف مقدمے درج

بھارتی پولیس کا انوکھاقانون : ایک دوسرے کیخلاف تشدد کی درخواستوں پر دونوں ...
بھارتی پولیس کا انوکھاقانون : ایک دوسرے کیخلاف تشدد کی درخواستوں پر دونوں خواتین کیخلاف مقدمے درج

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) بھارتی ریاست اترپردیش میں پولیس نے ایک دوسرے کیخلاف تشدد کی درخواستوں پردونوں خواتین کیخلاف مقدمے درج کر لیے ۔

”دی ٹائمز آف انڈیا “ کے مطابق بھارتی پولیس نے خاتون وکیل کے ”کتے “ کے بھوکنے پر جھگڑے اور تشدد پر قانون کی طالب علم لڑکی کیخلاف مقدمہ درج کر لیا جبکہ اس کی تشدد کی درخواست پر خاتون وکیل کیخلاف بھی مقدمے کا اندراج ہو گیا ۔

پولیس کے مطابق طالبہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ اپنے ہاسٹل کے سامنے ہاﺅسنگ سوسائٹی میں دوست کیساتھ بیڈمنٹن کھیل رہی تھی جس نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سوسائٹی کی رہائشی خاتون وکیل کے ”کتے “ نے بھونکنا شروع کر دیا جس پر وہ آکر جھگڑا کرنا شروع ہو گئی اور الزام عائد کیا کہ ہم نے کتے پر تشدد کیا ہے ۔

طالبہ نے اپنی درخواست میں پولیس کو بتایا کہ اس کے ہاتھ میں ریکٹ تھا تاہم خاتون نے میرے بازو کو پکڑ کر زور زور سے کھینچنا شروع کر دیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں ۔

پولیس کے مطابق لڑکی کی درخواست کے بعد شیواجی نگر ڈسٹرکٹ کورٹ میں 52سالہ وکیل خاتون نے بھی طالبہ اور اس کے دوست کیخلاف تشدد کی درخواست دائر کر دی جس نے موقف اپنایا کہ واقعے کے روز مجھے اپنے ”کتے “کے بھوکنے کی آواز سنائی دی ۔”میں نے دیکھا کہ لڑکی ہاسٹل کے قریب سڑک پر بیڈ منٹن کھیل رہی ہے جو میرے منع کرنے کے باوجود ہر روز کتے کو تشدد کانشانہ بناتے تھے ۔

خاتون وکیل نے درخواست میں مزید کہا کہ واقعے کے روز بھی میں نے لڑکی کو کتے پر تشد د کرنے سے روکا مگر وہ غصے میں آگئی اور مجھ پر چیخنا چلانا شروع کر دیا اور جب میں اپنی بیٹی کے ہمراہ گیٹ پر گئی تو اس نے اپنے ریکٹ کیساتھ مجھے مارنے کی کوشش بھی کی جس دوران میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر تشدد سے روکنا چاہااور پھر وہاں سے واپس گھر آگئی ۔

مگر کچھ گھنٹے بعد لڑکی اپنے دوستوں کے ساتھ میرے گھر آئی اور مجھ پر تشدد شروع کر دیا حتی کہ میرے بیٹی کو بھی زدوکوب کیا گیا اور پھر وہاں سے گالیاں دیتے اور قتل کرنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے چلے گئے ۔

پولیس کے مطابق دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر تشدد کیخلاف دائر درخواستوں پر مقدمے درج کر لیے گئے ہیں جبکہ حکومتی وکیل سے قانونی رائے لینے کیلئے کیس ارسال کر دیے گئے ہیں ، مقدمے درج ہونے کے باوجود کسی خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا تاہم دونوں نے حفاظتی ضمانتیں کروا لی ہیں ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس