اڑتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے وا݄ی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

اڑتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے وا݄ی ...
اڑتالیسویں قسط۔ ۔ ۔ سید نوشہ گنج بخش ، شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے وا݄ی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂ نوشاہیہ کی خدمات

  

نظر غضب

حضرت مرزا احمد بیگ نوشاہی لاہوری رقمطراز ہیں کہ حضرت ساہن پال ؒ کی وفات کے بعد ایک ظالم حکمران موضع ساہن پال پر حملہ آور ہوا۔ اتفاقاً آپ کا اس طرف گزر ہوا۔ آپ نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ میرک کون ہے؟ اس نے بتایا کہ جو آدمی جناب کی طرف پشت کرکے کھڑا ہے وہ میرک ہے۔

آپ نے میرک کی طرف نظر کرکے فرمایا کہ ہر آدمی جیسا کرتا ہے ویسا پالیتا ہے اور جو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ اسی وقت اس کی پشت پر ایک ایسا پھوڑا نمودارہوا کہ چند دنوں کے بعد وہ ہلاک ہوگیا۔

سنتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وجع مفاصل سے نجات

حضرت صاحبزادہ تاج الدین نوشاہی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں حضرت محدث اعظم سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل کی مجلس میں بیٹھا تھا۔ آپ کی خدمت میں وجع مفاصل کا ایک بیمار لایا گیا جو حافظ قرآن تھا۔ آپ نے فرمایا اسے روضہ عالیہ حضرت نوشہ گنج بخشؒ کے اندر لے جاؤ اور حکم دیا کہ یہ مزار پاک کے قریب سورہ ملک تلاوت کرے ۔چنانچہ جب اس نے مزار پاک پر حاضری دے کر سورہ ملک تلاوت کی تو اسی وقت اسے شفا حاصل ہوگئی۔

مسند سجادگی

سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل کو حضرت نوشہ گنج بخشؒ نے اپنی زندگی میں ہی ولی عہد خلافت نامزد کر دیا تھا۔

علامہ پیر کمال لاہوری نے لکھا ہے کہ

’’پیر محمد سچیار نوشہروی اور دوسرے خلفاء نے آپؒ سے اپنا ولی عہد نامزد کرنے کی التماس کی تھی۔حضرت نوشہ گنج بخشؒ نے پہلے سیّد برخوردار فرزند اکبر کو بلا کر ہدایت کی کہ اگر تم مہمان نوازی اور خدمت خلق کا عہد کرو تو میں تمہیں مسند سجادگی سپرد کر دوں۔ لیکن انہوں نے اس سے معذوری ظاہر کی تو حضرت مجدد اعظمؒ نے جناب پیر سچیار کو حکم دیا کہ سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دلؒ کو بلا لاؤ۔ چنانچہ جب وہ خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورؒ نے انہیں مہمانوں کی خدمت خاطرکرنے کا حکم دیا جسے انہوں نے بسرو چشم تسلیم کر لیا۔

مرزا احمد بیگ لاہوری نے بھی اپنے رسالہ میں یہی لکھا ہے

’’جب حضور کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ کے بعض خلفاء نے بوساطت پیر محمد سچیار نوشہروی حضور کی خدمت میں اپنا جانشین مقرر کرنے کی درخواست کی تو آپ نے اپنے فرزند اکبر سّید برخوردار کو بلا کر خدمت خلق کی وصیت فرمائی۔ لیکن جب انہوں نے یہ خدمت سرانجام دینے سے معذوری کا اظہار کیا تو آپ نے حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ کو ولی عہد خلافت نامزد کرکے انہیں مہمانداری کی ہدایت کی جسے انہوں نے بطیب خاطر منظور کر لیا۔

چنانچہ حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ نے جب ۵ ربیع الاول ۱۰۶۴ھ میں انتقال فرمایا تو ان کی وصیت کے مطابق سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل ان کی مسند سجادگی پر پہلے سجادہ نشین کی حیثیت سے متمکن ہوئے۔

سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دلؒ کی سجادہ نشینی کا واقعہ ثواقب المناقب میں ،حضرت محمد اشرف منچری نے مناقبات نوشاہیہ میں، مفتی غلام سرور لاہوری نے خزینۃ الاصفیاء میں صاف لفظوں میں بیان کیا ہے۔ کلید گنج الاسرار میں بھی ان کی سجادگی کا تفصیل سے ذکر موجود ہے۔

حضرت سیّد محمد ہاشم شاہ دریا دل کے سجادہ نشین اوّل ہونے سے متعلق علاوہ ان منقولی شہادتوں کے جمیع متوسلین سلسلہ نوشاہیہ یہ واقعہ اپنے آباؤ اجاد سے نسلاً بعد نسلاً سنتے چلے آرہے ہیں لیکن باوجود ناقابل تردید شواہد کے اس حقیقت واقعی کو جھٹلانے کے لیے حضرت سیّد برخوردار کے خلفا میں سے کچھ افراد نے یہ مہم شروع کر رکھی ہے کہ حضرت نوشہ گنج بخش ؒ کی وفات کے بعد سیّد محمد ہاشمؒ کی بجائے سیّد برخوردارؒ سجادہ نشین تھے۔ اور اس خلاف واقعہ بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں۔

۱۳۴۲ھ میں انہوں نے ’’امر ذات‘‘ ایک چھوٹا سا پمفلٹ ایک شیعہ بزرگ سے لکھوا کر شائع کیا تھا۔ شیخ المشائخ حضرت سخی شاہ سلیمان نوری قدس سرہ، کے سجادہ نشین جناب شیخ فضل حسین پھلوالی نے اس کے جواب میں رسالہ ’’النیابتہ‘‘ لکھ کر اس کے پرخچے اڑا دیئے تھے اور آج تک اس واقعہ خلافت کے مدعی اس کا جواب نہیں دے سکے۔

جناب شیخ صاحب نے النیابت کے علاوہ اس مسئلہ پر ایک اور مبسوط رسالہ بنام ’’خلافت نوشاہیہ‘‘ بھی لکھا تھا جو ابھی تک طبع نہیں ہوا اور اس کا خطی نسخہ کتب خانہ سلیمانیہ بھلوال شریف میں محفوظ ہے۔

حضرت برق ؒ نے محدث اعظم ؒ پر اپنی تصنیف میں لکھا ہے’’حضرت سیّد برخوردار ؒ کی اولاد سے ہمارے ایک معاصر جو مجدد اور خدائے سخن ہونے کے ساتھ ساتھ شیخ طریقت ہونے کے بھی مدعی ہیں ۔اپنی تصانیف میں خلافت ہاشمیہ کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں اور اپنے اس خیال فاسد کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کچھ بے سرو پا دلائل بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض عبارتیں از خود وضع کرکے بطور ثبوت پیش کرکے اپنی دیانت اور شرافت کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔

مجددیت کے اس مدعی نے اپنے رسالہ ’’اذکار نوشاہیہ‘‘ میں جو حوالجات پیش کیے ہیں وہ ان کی بددیانتی اور کذب گوئی پر ایک واضع شہادت ہیں۔اذکار نوشاہیہ میں انہوں نے تحقیقات چشتی کا حوالہ پیش کرنے میں یہ خیانت کی ہے کہ لفظ ہاشم برخوردار کو تبدیل کرکے حافظ برخوردار بنا دیا ہے حالانکہ تحقیقات چشتی میں لفظ ہاشم ہے حافظ نہیں ہے۔ ان کی یہ کارروائی اور چالاکی ان کے مطبوعہ رسالے اذکار نوشاہیہ سے دیکھی جا سکتی ہے اور تحقیقات چشتی مطبوعہ کو سامنے رکھ کر ان کی دیانت کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔

جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ