’میں اپنی تمام کمائی عیاشی میں لُٹا تا تھا، لیکن جب سے یہ چیز دیکھی ہے تو اپنی تمام دولت اور وقت لوگوں کی مدد کرنے کیلئے وقف کردیا ہے‘ کروڑ پتی عرب شہری نے پوری زندگی تبدیل کردینے والا واقعہ سنادیا

’میں اپنی تمام کمائی عیاشی میں لُٹا تا تھا، لیکن جب سے یہ چیز دیکھی ہے تو ...
’میں اپنی تمام کمائی عیاشی میں لُٹا تا تھا، لیکن جب سے یہ چیز دیکھی ہے تو اپنی تمام دولت اور وقت لوگوں کی مدد کرنے کیلئے وقف کردیا ہے‘ کروڑ پتی عرب شہری نے پوری زندگی تبدیل کردینے والا واقعہ سنادیا

  

دبئی سٹی (نیوز ڈیسک) زندگی کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے انسان کے ساتھ بعض اوقات ایسا حادثہ پیش آ جاتا ہے کہ وہ خواب غفلت سے ہڑبڑا کا جاگ اٹھتا ہے اور تب اسے احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں بسنے والے بے کس انسان کن دکھوں میں جی رہے ہیں۔ شام میں پیدا ہونے والے ماٹسی دوماتو کی زندگی بھی ایک حادثے نے بدل دی، اور ایسی بدلی کہ اس نے تمام تر عیش و عشرت کو چھوڑ کر خود کو عمر بھر کے لئے غربت اور بیماری کی ماری ہوئی انسانیت کے لئے وقف کردیا۔

ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 38 سالہ ماٹسی نے اپنی زندگی کا بیشتر وقت برازیل اور دبئی میں گزارا۔ انہوں نے ویب ڈیزائن، مارکیٹنگ اور رئیل سٹیٹ کے کاروبار سے ڈھیروں دولت کمائی۔ جب انہوں نے ڈیڑھ لاکھ ڈالر (تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے)مالیت کی اپنی پہلی فراری کار خریدی تو بے حد خوش تھے۔ ایک دن وہ پارٹی منانے کے بعد اپنی گاڑی پر فراٹے بھرتے جارہے تھے کہ انہیں حادثہ پیش آگیا اور وہ چار دیگر گاڑیوں کے حادثے کا سبب بھی بن گئے۔ انہیں گرفتار کرکے جیل پہنچادیا گیا جہاں ان کی کل متاع ایک گدہ اور تکیہ تھا۔

’میری بیوی نے بے وفائی کے بعد ناجائز بچہ بھی پیدا کیا‘ اہم عرب ملک کا سفیر دہائی دیتا عدالت پہنچ گیا

ماٹسی کہتے ہیں کہ جیل میں انہوں نے پہلی بار اپنی زندگی پر غوروفکر کیا تو اندازہ ہوا کہ وہ کوئی بہت بڑی شخصیت نہیں تھے، جیسا کہ خود کو سمجھتے رہے تھے، بلکہ ان کی کل حقیقت یہی تھی کہ وہ بس ایک گدے اور تکیے کے مالک تھے۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کو یکسر بدل دینے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کی اہلیہ ملینا بلڈ کینسر کی شکار تھیں۔ انہوں نے اپنی دولت کا ایک تہائی حصہ ان کے علاج پر صرف کیا۔ پھر وہ دونوں مل کر ڈمینیکن ری پبلک چلے گئے جہاں انہوں نے افریقی ملک ہیٹی سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے کام شروع کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے جنوبی امریکہ کے کئی ممالک میں بھی خیراتی ادارے قائم کئے۔

ماٹسی کہتے ہیں ”بنیادی طور پر میں نے اپنی تمام دولت ضرورتمندوں کو دے دی ہے۔ جب میں دبئی سے نکلا تو میرے پاس 30لاکھ ڈالر (تقریباً30 کروڑ پاکستانی روپے) تھے۔ میں نے اپنی رقم سے کئی خیراتی ادارے قائم کیے اور فلوریانو پولیس میں ایک انتہائی نگہداشت کا یونٹ بھی قائم کروایا۔ اب میرا کل اثاثہ ایک ویگن ہے جس میں مَیں سفر کرتا ہوں اور سونے کے لئے بھی اسے ہی استعمال کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب میری زندگی پہلے سے کہیں زیادہ مطمئن ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے تلخ تجربات سے جانا ہے کہ حقیقی خوشی دوسروں کے کام آنے میں ہے، اور میں اس بات سے خوش ہوں کہ مجھے حقیقی مسرت کا یہ راز معلوم ہوگیا۔“

مزید : عرب دنیا