پاکستان کے لئے صرف صدارتی نظام

پاکستان کے لئے صرف صدارتی نظام
پاکستان کے لئے صرف صدارتی نظام

  


ہمارے ملک کی 70 سالہ زندگی میں 3 دستور بنے۔ پہلا 1956ء میں چودھری محمد علی صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں بنا۔ یہ دستور روائتی جمہوری شکل میں تھا۔ اس دستور کو بنانے والے دیانتدار اور مخلص تھے۔ 1956ء سے 1958ء تک چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ چودھری محمد علی کے بعد سہروردی اور پھر چندریگرصاحب اور آخری وزیرِ اعظم فیروز خان نون تھے۔

1958ء میں ہی مارشل لاء لگ گیا۔ اگر قانونی طور پر دیکھا جائے تو 1947ء سے شروع ہو کر 1973ء تک پاکستان کا وزیر اعظم چیف ایگزیکیٹو نہیں ہوتا تھا۔ 14 اِگست1947ء کو پاکستان کی تشکیل کے وقت جس قانون کے تحت حکومت سازی ہوئی وہ انڈین ایکٹ 1935ء کے تحت ہوئی۔ اس قانون میں وائسرائے یا گورنر جنرل کے پاس اصل اختیارات ہوتے تھے۔ ہمارے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔ اُن کے پاس دوہرے اختیارات تھے۔ انڈین ایکٹ 1935ء کی وجہ سے بطور گورنر جنرل اور دوسرا اختیار اِخلاقی تھا، کیونکہ وہ بابائے قوم بھی تھے۔ لیاقت علی خاں بطور وزیرِاعظم اتنے اختیارات نہیں رکھتے تھے جو 1973ء کے آئین نے بھٹو صاحب کو بطور وزیرِ اعظم دئیے تھے۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1947ء سے 1973ء تک ریاستِ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ گورنر جنرل، یا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یا صدر ہی رہے۔ لیاقت علی خاں بطور وزیر اعظم ،جناح صاحب کی زندگی میں اِتنے خوش نہیں تھے ،کیونکہ اصل اختیارات کا منبع گورنر جنرل یعنی قائداعظم تھے۔ اسی لئے قائد اعظم کی وفات کے بعد لیاقت علی خاں نے ایک کمزور اورسیدھے سادے شخص خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل بنوایا ،تاکہ خان لیاقت علی ایک مضبوط وزیرِ اعظم بن سکیں۔ چوہدری محمد علی نے پاکستانیوں کی نفسیات کو جانے بغیر ایسا دستور بنا دیا جو ملکی سیاست کو استحکام نہ دے سکا ۔

اُس زمانے کے لحاظ سے کرپشن کا ذِکر بھی ہونے لگا تھا۔ قاسم بِھٹّی اور سیٹھ عابد نامورسمگلر مشہور ہو چکے تھے۔ اُن کی کرپشن کے ساتھ بیگمات کے ہیروں، موتیوں کے ہاروں کا ذِکر بھی آنے لگا تھا۔

1962ء کا دستور جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد بنا۔ یہ دستور صدراتی تھا۔ اَب اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو پاکستان کی صنعتی، زرعی، سماجی اور کمرشل ترقی ایوب خان کی صدارت کے زمانے میں ہی ہوئی۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی صدر ہی کی طرح ہوتا ہے۔

دو بڑے ڈیم ، واپڈا، زرعی بینک، زرعی تحقیقاتی اِدارہ لائلپور، صنعتی ترقیاتی بینک، PIA،ِ PIDC ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور ایسے ہی بہت کارآمد اِدارے یا تو صدارتی نظام کے دوران وجود میں آئے یا ان کی کارکردگی کو بے اِنتہا تقویت صدارتی نظام میں ملی۔ روائتی جمہوریت پاکستان کے اِبتدائی سالوں میں چل ہی نہیں سکتی تھی اور اَب بھی نہیں چل سکتی۔

جس ملک کی شرح خواندگی1947ء میں 16فیصد تھی، جہاں قبائلی نظام ابھی زندہ تھا۔ جس ملک کا ایک حصہ ثقافتی، لسانی اور نسلی اعتبار سے بالکل مختلف تھا، جہاں کے عوام اپنا ووٹ لحاظ داری یا لالچ کی خاطر دیتے ہوں وہاں پارلیمانی جمہوریت کامیاب ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

1973ء کا آئین جن حالات میں بھٹو صاحب نے بنایا وہ حالات ایک اچھے اور کار آمد آئین کے متقاضی ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ PNA کی تحریک نے مولویوں کو سیاسی طور پر طاقتور بنا دیا تھا۔ ووٹ کے لحاظ سے نہیں، بلکہ اپنی Nuisance )منفی طاقت( کے لحاظ سے ۔ ہمارے ملک کے عوام ووٹ مولوی کو نہیں دیں گے، لیکن مولوی کی اشتعال انگیز تقریروں سے توڑ پھوڑ اور دنگا فساد ضرور کریں گے۔ پچھلے 2 سالوں میں ہی ہم مولویوں کی منفی طاقت کا مظاہرہ دیکھ چکے ہیں۔ ہماری حکومت ، پولیس ، عدلیہ اور یہاں تک کہ فوج بے بس ہو چکی تھی۔ گالیاں، بیہودہ نعرے اور آتشزدگی کا مظاہرہ ہوتا رہا اور ریاستِ پاکستان بے بسی کے عالم میں دیکھتی رہی۔

آج سے 50 سال قبل مغربی جمہوریت پھر بھی اتنی ناکام اور کرپشن کی علامت نہیں تھی۔ ووٹوں کی خرید و فروخت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس لئے ممبر پارلیمنٹ بننے کے لئے کروڑوں کا بجٹ نہیں بنتا تھا۔ اَب تو چونکہ ہر ممبر اسمبلی کروڑوں خرچ کر کے اسمبلی کی سیٹ حاصل کرتا ہے اس کی وصولی بھی جمہوریت کے کرپٹ نظام سے کرتا ہے۔ مغربی جمہوریت کی اصل بنیاد لوکل باڈیز ہوتی ہیں۔

مغربی جمہوریتوں میں County ،Boroug اور کونسل ترقیاتی اخراجات کرتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں یونین کونسل ، تحصیل کونسل اور ڈسٹرکٹ کونسل کا کامیاب تجربہ جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں ہوا تھا۔ ترقیاتی بجٹ جب مقامی منتخب نمائندوں کے ذریعے خرچ ہو گا تو اُس میں ہیرا پھیری کا عنصر کم ہو گا۔ مقامی حکومت کے تمام فرائض اگر مقامی منتخب نمائندوں کو دے دئیے جائیں تو ملک کی بہتر ترقی ہوگی اور ہمارے ممبرانِ پارلیمنٹ کرپشن کی طرف کم مائل ہونگے۔

یوں اسمبلیوں میں قانون سازی کرنی آسان ہو گی ،کیونکہ پارلیمنٹ میں سنجیدہ ، پڑھے لکھے، اعلیٰ پیشوں سے تعلق رکھنے والے دانشور منتخب ہو کر آئیں گے۔ پارلیمنٹ مچھلی بازار نہیں بنے گا ،بلکہ وہاں قانون سازی کاکام ہو گا۔ پارلیمانی نظامِ جمہوریت میں کرپشن ، اقرباپروری، نالائقی اور بد کرداری خوب پروان چڑھتے ہیں۔

صدارتی نظامِ حکومت بھی جمہوری ہے۔ امریکہ، فرانس، جرمنی اور ترکی کے آئین صدارتی ہیں۔ صدر کو عوام ہی چنتے ہیں۔ ممبرانِ پارلیمنٹ کو بھی عوام چنتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ صدارتی نظام میں ملک کا مقتدرِ اعلیٰ صدر ہوتا ہے۔وہی اپنی کابینہ اپنی صوابدید سے چنتا ہے۔ ہر وزیر صدر کو جواب دہ ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں صدر کا چناؤ بلاواسطہ ہوتا ہے اور بعض ممالک میں بالواسطہ ، لیکن چیف ایگزیکٹو صدر ہی ہوتا ہے۔

ہمارے جیسے ملک میں جہاں تعلیم کی کمی ہے،عوام الناس اپنی رائے کا وزن ووٹ کی شکل میں تول کر نہیں دیتے، بلکہ لحاظ داری، برادری یا لالچ کی وجہ سے دیتے ہیں۔ ہمارے پارلیمانی نظام میں اُمیدوار روپیہ پانی کی طرح بہاتے ہیں۔

کروڑوں کا کھیل ہوتا ہے۔ اتنی رقم خرچ کر کے امیدوار جب نیشنل اسمبلی کا ممبر بنے گا تو اُس کے لئے نہائت اہم کام اپنی خرچ کی ہوئی رقم کی واپسی ہو گی۔ یہی سوچ کرپشن کا نقطہ آغاز بنتی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو اسلام جس سیاسی نظام کی سفارش کرتا ہے وہ صدارتی نظام سے ہی ملتا جلتا ہے۔ اسلام میں رائے دہی کی بھی حدود ہیں اسلامی جمہوریت میں اہل الرائے کے ووٹ میں وزن ہوتا ہے ،جبکہ جہلا اور کمزور ذہن رکھنے والوں کو رائے شماری سے باہر رکھا جاتا ہے۔

اسلامی جمہوریت میں بندوں کو تولا کرتے ہیں گِنا نہیں کرتے۔ دنیا کے بڑے دانشوروں نے پارلیمانی جمہوریت افریقہ اور ایشیائی ممالک کے لئے نہائت غیر موزوں قرار دی ہے۔ جارج برنارڈ شاہ،انگلستان کے مشہور ڈرامہ نویس، دانشور اور جمہوریت پسند تھے)وہ برطانیہ کی Fabian society کے بانی ممبر تھے(۔ اُن کا مشہور مقولہ ہے۔ Democracy without education is hypocrisy without limitationیعنی مغربی طرزِ جمہوریت کی کامیابی کے لئے تعلیم لازم ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں تعلیم بھی کام نہیں کرتی۔ تعلیم یافتہ جمہوریت پسند ذاتی مفادات کو سامنے رکھ کر سیاست کرتے ہیں۔

صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ اور نظریاتی سیاست کار اُنگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ایسے لوگ پاکستان کی ہر سیاسی پارٹی میں موجود ہیں، لیکن وہ ہمارے لالچی عوام الناس سے اِتنے ووٹ نہیں لے سکتے کہ وہ اپنے دم خم پر سیاست پر اثر انداز ہو سکیں۔ ہمارے ہاں Anchor Leader یعنی مرکزی لیڈر ہوتا ہے جو اپنی کرشماتی شخصیت سے یا مال و زر کے زور پر ووٹروں کومتاثر کرتا ہے۔لہٰذا نظریاتی سیاست کا ر بھی اُسی اینکر لیڈر کے گِرد گھومتے ہیں۔

کرپشن تو ہمارے ہاں صدارتی نظام میں بھی ہو گی، لیکن کم ہوگی۔ سب سے بڑی بات کہ سیاسی، انتظامی اور معاشی فیصلے جلد ہونگے۔ کالا باغ ڈیم کبھی کا بن چکا ہوتا، اگر ہمارے ہاں قانونی صدارتی نظام ہوتا۔ جنرل ضیا اور پرویز مشرف جیسا جعلی صدارتی نظام نہیں، بلکہ اصلی والا۔صدارتی نظام میں پارلیمانی جمہوریت کی طرح بلیک میلنگ نہیں ہوتی۔ پاکستان کے موجودہ سیٹ اپ کوہی دیکھ لیں۔

وفاقی حکومت کی اکثریتی پارٹی اپنے پیروں پر نہیں کھڑی ہو سکتی جب تک کہ کسی اور اقلیتی پارلیمانی پارٹی کے افراد کی خوشنودی نہ حاصل کر لے۔ وزیر اعظم کی پارٹی اپنی پالیسیاں نافذ نہیں کر سکتی، کیونکہ ہر وقت حکومت کے گرنے کا ڈر ہوتا ہے۔ صدارتی نظام میں صدر اپنے چُنے ہوئے وزیروں کے ذریعے اپنی پالیسوں کو زیادہ آسانی سے نافذ کر سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...