”جھک جائیں جھکنے والوں کے ساتھ“

”جھک جائیں جھکنے والوں کے ساتھ“
”جھک جائیں جھکنے والوں کے ساتھ“

  

ملکہ برطانیہ کو کورونا وائرس کے خوف پر بکنگھم پیلس چھوڑ کرونڈسر کے قلعے میں بنائے گئے خصوصی قرنطینہ،ہالی وڈ کیلیجنڈ فلم یاداکار دلیب کمار احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے خود ہی حفاظتی پناہ گاہ میں چلے گئے۔انہوں نے اپنے چاہنے والوں اور مداحوں کو بھی حفاظتی تدابیر اپنانے اور گھروں سے بلا ضرورت باہر نہ آنے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ گھبرانا نہیں، اور خود احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ملک کے جید عالم دین مولانا طارق جمیل کو ملاقات کے لئے بُلا کر ان سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا اور وفاقی کابینہ کے اجلاس کی ویڈیو لنک رابطے کے ذریعے صدارت کی۔ کورونا وائرس سے پاکستان سمیت دُنیا بھر میں ہلاکتوں کی خبروں سے دُنیا بھر کے لوگ پریشان ہو گئے ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلنے کے ساتھ ہی قرنطینہ میں منتقل ہونے یا رکھنے کی خبریں بھی پڑھنے کو مل رہی ہیں۔

قرنطینہ آخر کیا ہے؟اس بارے میں سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سلمان ظہیر کا کہنا ہے کہ اسے انگریزی میں qourrantion کہا جاتا ہے، کسی وباء کو پھیلنے سے روکنے کے لئے مریضوں کو قید طبی یا جبری حراست میں رکھا جاتا ہے، ایسی پابندی کو قرنطینہ کہتے ہیں کہ کسی وبائی مرض کے پھیلنے کی صورت میں متاثرہ علاقوں اور ممالک سے آنے والے کو مخصوص مدت، چودہ دن سے لے کر چند ہفتوں تک ہو سکتی ہے ان لوگوں کو مخصوص جگہ قرنطینہ میں رکھا، یا رہا جا سکتا ہے اور ڈاکٹر اُن کی دیکھ بھال کرتے ہیں تاکہ اگر ان میں مرض کے جراثیم ہوں تو سامنے آ جائیں اور پھر اس کا علاج کیا جا سکے۔ سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سلمان ظہیر کا کہنا ہے کہ ایسے شخص جس میں کسی وبائی بیماری کے جراثیم یا وائرس وغیرہ ہو تو معاشرے کے دوسرے صحت مند افراد کو ان جراثیم سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ یہ حفاظتی تدابیر ہیں ایسے قرنطینہ اِس وقت دُنیا کے ہر اس ملک میں قائم ہیں جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد موجود ہیں یا ان کے موجود ہونے کا خطرہ پایا جاتا ہے، ایسے تمام اشخاص کو قرنطینہ میں رکھا جانا بہت ضروری ہے، سب جانتے ہیں یہ عالمی وباء چین کے علاقے ووہان سے شروع ہوئی اور اب یہ دُنیا بھر کے ممالک میں پھیل چکی ہے۔

اس وباء کے دُنیا بھر میں پھیلنے کی بنیادی وجہ، اس وباء کے شروع میں ہی قرنطینہ کا طریقہ کار نہ اپنانا ہے، چین سے کورونا وائرس سے متاثر مریض جن، جن ممالک اور شہروں میں گئے ان ممالک کے ان شہروں میں یہ وباء پھیل گئی اور پوری نسل ِ انسانی کے لئے خطرہ بن گئی ہے،جس کے مزید پھیلنے کو روکنے کے لئے تجارتی و کاروباری سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔جہازوں کی پروازیں بند ہیں، بارڈرز بند کئے جا رہے ہیں،تعلیمی ادارے اور امتحانات آگے بڑھا دیئے گئے ہیں۔اچھی خبر یہ ہے کہ چین نے اس وباء پر تقریباً قابو پا لیا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ جرمنی کی ایک دوا ساز کمپنی نے کورونا وائرس کے تدارک کے لئے ویکسین دریافت کر لی ہے۔ابتدائی تجربات بھی تقریباً مکمل ہو چکے ہیں،چار سے چھ ماہ کے دوران ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔

ویکسین تیار کرنے والی جرمن کمپنی کو یہ پیش کش ہوئی کہ وہ یہ ویکسین امریکیوں کے لئے مختص کر دے اور منہ مانگے دام وصول کر لے،مگر کمپنی کے سربراہ نے انکار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ویکسین تمام قوموں کے لئے ہو گی۔پاکستان نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام تر حفاظتی تدابیر اختیار کر رکھی تھیں، اب بھی حکومتی ادارے محکمہ صحت کے ساتھ مل کر ان انتظامات کو فعال بنا رہے ہیں۔ایران سے تفتان بارڈر کے راستے واپس آنے والے زائرین کی سکریننگ، ٹیسٹوں کے ناقص انتظامات اور قرنطینہ میں ایک ایک شخص کی بجائے درجنوں مرد اور عورتوں کا ایک قرنطینہ میں جمع ہونے کے عمل سے ملک میں کورونا وائرس کے متاثرہ افراد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مثال ہم چین کی دیتے ہیں، باتیں زیادہ اور کام کم کرتے ہیں۔یورپی مصنفہ سلویا براؤن کی کتاب ”End of days“ ”یعنی دُنیا کا انجام“ کا اقتباس پیش کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ مصنفہ پیش گوئیاں ضرور کرتی ہیں، مگر وہ نجومی اور پامسٹ نہیں، یہ لوگ سائنٹیفک ایکسپرٹ ہوتے ہیں ان کی چھٹی حس تیز ہوتی ہے وہ حالات کا ادراک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور آنے والے حالات کی بُو سونگھ لیتے ہیں۔

سلویا براؤن نے 2008ء میں لکھا کہ2020ء کے قریب دُنیا میں ایک وائرس پھیلے گا، جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا یہ وائرس پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔یہ وائرس نمونیا کی قسم کا وائرس ہو گا، پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں کو متاثر کرے گا اورکسی دوا سے قابو نہیں آئے گا،اسی طرح کے ایک اور مصنف ڈین کوئز نے اپنے ایک ناول ”دی آئز آف ڈارکشن“ میں لکھا ہے یہ وائرس انسان کا ہی بنایا ہوا ہو گا،ان کی اِس کتاب کا دوسرا ایڈیشن 1989ء میں شائع ہوا،جس میں ”ووہان400“ کا ذکرملتا ہے۔ آج کل امریکہ اور چین میں بحث چھڑی ہوئی ہے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا انسان کے خلاف ہتھیار ہے،جو معیشت کو نشانہ بنانے کے لئے چین میں چھوڑا گیا ہے۔ ایک چینی آفیسر کے اس سے ملتے جلتے ریمارکس پر امریکی حکومت نے سخت بُرا مناتے ہوئے چینی سفیر سے احتجاج بھی کیا ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد ہالی وڈ اب چین کے پیچھے پڑ چکا ہے یہ ملک امریکی ناول نگاروں کے نشانے پر ہے۔ناول میں ووہان کا نام بطورِ محض لکھنا محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی راز چھپا ہوا ہے،اس سوال نے ابھی حل ہونا ہے کہ کورونا وائرس نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دُنیا کو ایک لمحے میں ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔

ضروری اِس امر کی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک اور اس سے محفوظ ممالک ایک چین بنا لیں اور عالمی وباء کے خلاف متحد ہو جائیں مشترکہ کاوشوں کے ذریعے اس خطرناک وائرس کو شکست دے سکیں گے، موجودہ صورتِ حال میں، جبکہ اس مہلک وائرس کے خاتمے کے لئے ویکسین کی تیاری میں وقت لگے گا،دوا کے ساتھ دُعا کی اشد ضرورت ہے،عذاب اور امتحان میں فرق ہے۔عذاب میں بندے کو معافی مانگنے کا بھی موقع نہیں ملتا،جبکہ امتحان میں خدا کے سامنے جھک جانے، رو کر، گڑ، گڑا کے معافی مانگنے، بلاؤں، مصیبتوں کو ٹال دینے کی دُعا مانگنے کا موقع موجود ہوتا ہے۔ہم مسلمان ہیں، ہمیں اپنے اعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کمی کو دورکرنے کی ضرورت ہے اور خدا کے سامنے جھک کر اپنی خطاؤں اور گناہوں کی معافی مانگنا چاہئے،آئندہ وہ کام نہ کرنے کا اللہ تبارک وتعالیٰ سے وعدہ کرنا چاہئے، جس سے وہ ناراض ہوتا ہے اور ایسے کام کرنے کی توفیق مانگنی چاہئے، جن کے کرنے سے وہ خوش ہو جاتا ہے،اسی میں ہماری کامیابی اور نصرت ہے۔ مفتی تقی عثمانی ملک کے بڑے عالم دین ہیں۔

انہوں نے اس مشکل گھڑی میں مسلم اُمہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ سورہئ فاتحہ، تین مرتبہ سورہ اخلاص اور 313 مرتبہ …… حسبنا اللہ نعم الوکیل، نعیم المولیٰ و نعیم النصیر …… انتہائی خلوص سے پڑھ لیا کریں۔ اللہ تعالیٰ رحمن اور کریم ہے تمام بلاؤں، مصیبتوں،دُکھوں،تکلیفوں کو دور کر دے گا، بڑی سے بڑی بیماری کو ٹال دے گا۔ احتیاطی تدابیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، پرہیز علاج سے بہتر ہے ایک بہترین حکمت عملی ہے۔ حکومتی سطح پر حفاظتی انتظامات جاری ہیں، کچھ کام حکومت کے کرنے کے ہیں وہ کر رہی ہے اور کچھ کام عوام نے کرنے ہیں، وہ ضرور کرنے ہیں،جب ہم سب اپنے اپنے کام کریں گے تواللہ تعالیٰ ہماری اور حکومت کی مدد کرے گا اور یہ آئی ہوئی مصیبت ختم ہو جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -