اے میرے صاحب

اے میرے صاحب
اے میرے صاحب

  

اذان کی آواز نے مجھے کمرے سے باہر نکلنے پہ مجبور کر دیا میں چونکہ ساز وآواز کے ساتھ وابستہ ہوں سو جانتا ہوں کہ آواز کے لب ولہجے میں کیا کیا راز چھپتے ہوتے ہیں مجھے جلد معلوم ہوگیا کہ یہ اذان کسی مسجد سے نہیں،بھینسوں کے باڑے سے آرہی ہے۔ یہ تقریباً دوکنال کا گھر ہے، جس میں ایک درجن سے زائد بھینسیں بندھی رہتی ہیں،اِن بھینسوں کی دیکھ بھال کے لئے چند لوگ ہمہ وقت موجود رہتے ہیں، نوجوان میاں بیوی، دو بزرگ میاں بیوی،دو چھوٹے چھوٹے بچے، دس کے قریب ملازم اِس گھر سے اُٹھنے والی گوبر کی بدبو اردگرد کے لوگوں کی ناک میں یقینا کھجلی کرتی ہو گی، مگر گھر کے مکینوں کے لئے یہ بدبو خوشبو کی طرح ہے سو یہ لوگ شب و روز اِس خوشبو کی مستی میں مست رہتے ہیں۔

صبح صبح بھینسوں کی آوازوں سے پورا محلہ جاگ اُٹھتا ہے، اِن آوازوں میں بہت کرختگی ہوتی ہے، جس سے کان پھٹتے ہوے محسوس ہوتے ہیں، مگر باڑے کے مکینوں کے لئے بھینسوں کی یہ آوازیں رانجھے کی ونجلی جیسی ہیں اِن آوازوں سے ہی اُن کے سینے ٹھندے ہوجاتے ہیں، یعنی یہ بھینسوں کی طرف سے پیغام ہوتا ہے کہ ہمارے تھن دودھ سے بھر چکے ہیں انہیں اپنے ہاتھوں کی ہلکی ہلکی تھاپ سے باہر نکالو، سو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مختلف برتنوں کے ساز بج اُٹھتے ہیں، پورے محلے سے ہر عمر اور ہر طرح کے لوگ اپنے اپنے برتن اُٹھاے باڑے کی طرف چل پڑتے ہیں، مگر گزشتہ چند دِنوں سے ان لوگوں نے سب کو منع کر دیا ہے کہ کوئی بھی دودھ لینے نہ آئے ہم خود گھر گھر دودھ پہنچائیں گے یہ لوگ کسی قسم کی احتیاط نہیں کرتے ان کا خیال ہے کہ ہمارے جسموں میں لگا گوبر ہی کافی ہے میرے خیال میں یہ بد احتیاطی ہے، مگر ہے تو اس کا کیا جائے اس گھر سے گونجنے والی مدھانی کی آواز مجھے بہت بھلی لگتی ہے شررڑ شررڑ اور پھر ساتھ چوڑیوں کا ردھم جسے سن کے مَیں اپنے بچپن میں لوٹ جاتا ہوں، ہمارے گھر میں بھینس یا گاے تو بہت بعد میں آئی۔

البتہ ایک ٹیڈی بکری موجود تھی۔ یہ سفید رنگ کی بکری بلی سے کچھ بڑی تھی اماں اسے بہت کس کے باندھ دیتی تھی، مگر میں اسے کھول دیا کرتا تھا وہ پورے آنگن میں بھاگتی پھرتی تھی اس کے گلے میں گھنگروواں کا ایک…… ہار…… بھی باندھا ہوا تھا جب وہ آنگن میں بھاگتی تو نوری سمجھ جاتی کہ آنگن میں کھیلنے کا وقت ہوا چاہتا ہے وہ چوڑیاں چھنکاتے ہوئے مجھے پیغام دیتی کہ میں آئی…………وہ جونہی آنے کو لپکتی اس کے ابا کی آواز گونجتی کہاں جارہی ہو تپتی دوپہر میں …………نوری بھاگتے ہوے کہتی

ماسی دی بکری چھڑا گئی ہے

زرا نپائی اواں …………

اب نوری کے ابا کی جگہ اس کی اماں کی آواز گونجتی تھرکے ونج کتھائیں گھر دا کجھ زیان نہ کر چھوڑے

نوری کا ابا یہ سن کر کہتا

نوری دی ماں اے بکری ہے کہ ڈاند جیڑا نقصان کر چھوڑیسی

نوری کی اماں قدے تلخی سے کہتی، ٹیڈی مال دا کوئی اعتبار نی

مَیں اذان کے سرور میں کھو چکا تھا مجھے نہیں معلوم اس نے اذان کا یہ لب ولہجہ کہاں سے سیکھا تھا زیر زبر پیش کی درستگی کس نے کی، مگر اذان دِل پہ دستک دے رہی تھی، آنکھوں نے آنسوؤں کا غسل شروع کر دیا، زبان پہ رب کی حمد وثنا کے گیت رواں ہوگئے، جسم میں ایک عجب قسم کی کیفیت بیدار ہوگئی، آسمان کے ستارے مجھ سے ہم کلام ہونے لگے، چاند میرے چہرے کو چھونے لگا، مَیں جھومنے لگا اذان مکمل ہوتے ہی مَیں نے مسجد جانے کے لئے اپنا پاؤں آگے بڑھایا، مگر دوسرا پاؤں اٹھاتے ہی خیال آیا کہ رات کے دس بجے ہیں اس وقت کون سی نماز…………

یہ تو رب کو راضی کرنے کے لئے بے وقت کی اذان ہے…………

مَیں آج باڑے کے اس نوجوان کے پاس جاونگا اور اسے کہو نگا قدرت نے تجھے آواز بلالی عطا کی ہے اگر تو اسی لب ولہجے کے ساتھ مسجد میں اذان دیا کر تو لوگ دھاڑتے ہوے مسجد کی طرف بھاگیں اس وقت تیرے جیسے دل والے شخص کی آذان کی ہر مسجد کو ضرورت ہے جو محض اذان نہ دے اذان دیتے ہوے دل کی دھڑکن بھی دے…………

مزید :

رائے -کالم -