کرونا فنڈ کا قیام اچھا اقدام، بتایا جائے ڈیم فنڈ کا کیا بنا؟

کرونا فنڈ کا قیام اچھا اقدام، بتایا جائے ڈیم فنڈ کا کیا بنا؟

  

تجزیہ؛ایثار رانا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کرونا فنڈ کا اعلان بہت اچھا اقدام ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ قوم کو اس سے پہلے ڈیم فنڈ کا بتایا جائے کہ اس کا کیا بنا۔اور یہ فنڈ فوری طور پہ ریلیف پیکج میں کیوں نہیں منتقل کیا جاسکتا۔قوم کو اور خاص طور پہ قطرہ قطرہ زندگی کشید کرنیوالے ریہڑی بانوں۔ فٹ پاتھوں پر ایک ایک نوالے کیلئے جان پر کھیل جانیوالوں دیہاڑی داروں،فیکٹری والوں،تنخواہوں کے منتظر میڈیا ورکرز کو آج اور ابھی مدد کی ضرورت ہے،یہ ڈیم فنڈ کہاں گیا،اسکا پتہ بھی چلنا چاہیے۔اگر قوم کا ڈیم فنڈ پر یقین ہوگیا تو کرونا کیلئے ڈیم سے زیادہ فنڈ اکھٹا ہوجائیگا۔اگر بھارت میں مکیش امبانی پانچ سو ارب روپیہ دے سکتا ہے تو اس قوم کا خون چوس کر قرضے لیکر معاف کرانیوالے،ٹیکسوں میں ہیر پھیر کرکے کھربوں پتی بننے والے، کیا لوگوں کے مرنے کا انتظار کررہے ہیں۔ایک ہندو اپنی قوم کا دکھ محسوس کرسکتا ہے تو تمام مسلما نو ں کو ایک جسم ماننے والے کہاں ہیں؟؟عمران خان سے آپ لاکھ اختلاف کریں، لیکن ان کے علاوہ کوئی ایک بتادیں جو ہر وقت ہر لمحے غر یب کی بات کرتا ہے۔ جو اپنے فیصلے میں غریب کے مفاد اور بہتری کو مدنظر رکھتا ہے۔مجھے ان کی نیت پہ کوئی شک نہیں،لیکن کہاں ہیں جہا نگیر ترین،کہاں ہیں پی ٹی آئی کے دولتمند اور نو دولتیئے؟؟؟،کاش جہانگیر ترین،شریف فیملی، زرداری اور ملک ریاض بھی اپنی دولت کا کچھ حصہ اس وقت ضرورتمندوں کو دیدیں۔کرونا نے چلے جانا ہے،یہ طے ہے،اسکے بعد ایک نئی دنیا ایک نئے رجحانات نئے انداز فکر کیساتھ وجود میں آئے گی۔ میری بات یاد رکھیں یہ وائرس جہاں غریب سے زیادہ امیر کا دشمن ہے،وہیں یہ حکمرانوں کے اقتد ا ر کا بھی جان لیوا ہے۔کرونا کے بعد نئی دنیا میں بہت سے حکمران نہیں ملیں گے۔ٹرمپ سے لیکر مودی تک بہت سے حکمرانوں کے اقتدار خطر ے میں ہیں۔میرا یقین ہے کرونا کے بعد نئی بین الاقوامی قیادت ابھرے گی۔تیسری دنیا سے نئی قیادت سامنے آئے گی۔عمران خان ان میں سے ایک ہونگے،بشرطیکہ وہ کرونا بحران میں پاکستانی قوم اور خاص طور پر مجبور اورغریب عوام کی بقا ء کی جنگ جیتنے میں کامیاب ہوگئے تو۔

تجزیہ؛ایثار رانا

مزید :

تجزیہ -