”مشکل گھڑی میں کہاں ہے وہ لوگ جو پاکستان میں اربوں روپے کے کارو بار کرتے رہے “روف کلاسرا ملک کی اشرافیہ پر برس پڑے

”مشکل گھڑی میں کہاں ہے وہ لوگ جو پاکستان میں اربوں روپے کے کارو بار کرتے رہے ...
”مشکل گھڑی میں کہاں ہے وہ لوگ جو پاکستان میں اربوں روپے کے کارو بار کرتے رہے “روف کلاسرا ملک کی اشرافیہ پر برس پڑے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )معروف تجزیہ کار روف کلاسرہ ملک کی اشرافیہ پر برس پڑے ،ان کا کہنا ہے کہ کہاں ہیں ایسے لوگ جو پاکستان میں اربوں روپے کے کاروبار کرتے تھے اور اربوں روپے وصول کرتے رہے ہیں آج وہ سب کہاں کس کونے میں چھپ کر بیٹھے ہیں جب پاکستان کو اس مشکل گھڑی میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں صاحب حیثیت لوگوں کی جانب سے کروڑوں روپے بطور عطیہ دئیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ کس نے کب اور کتنا پیسہ بنایا جبکہ ان تمام دو نمبر مافیہ نے اندھا پیسہ بنایا جس کا کوئی حساب نہیں۔ اگر کوئی ان سے پوچھ گچھ کے لیے کوئی ان پر ہاتھ ڈال دے تو کہتے ہیں کہ ہمارا کاروبار اور پاکستان خطرے میں پڑ گیا ہے پتہ نہیں اب کیا طوفان برپا ہو جائے گا۔ اگر ان کرپٹ اور چور مافیا اپنا سارا پیسہ بیرون ملک جانا چاہے تو کوئی انکو چھو بھی نہیں سکتا۔ جبکہ ایسا لوگ لینا جانتے ہیں نہ کہ کچھ دینا۔

اپنے ویڈیو پیغام میںان کا کہنا تھا کہ دوسروں پر بات کرنے سے پہلے خود کے گریبان میں جھانک لینا چاہیے اسی طرح سے میں کسی پر تنقید کرنے سے پہلے یہ واضح کر دینا چاہوں گا کہ بزات خود میں نے کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاون کی صورتحال میں ڈونیشن دی ہے تاکہ غریب اور مستحق افراد کی مدد کی جا سکے۔ تاہم میں نے اپنے گھر کے ملازمین کو بھی پوری تنخواہ اور راشن کے ساتھ چھٹی دے رکھی ہے۔روف کلاسرا کا اپنے ویڈیو پیغام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پوری دنیا کے ملکوں کے انٹرنیشنل پلیئرز ، اداکاراوں اور بزنس مینوں کی جانب سے کرونا سے نمٹنے کے لیے عطیہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ پاکستان میں لاک ڈاون کی صورتحال کو ہماری کرپٹ اشرافیہ کی نسبت ہمسایہ ملک میں سلیبرٹیز کی جانب سے کافی بھاری رقم عطیہ کی جا رہی ہے جو کہ ہمارے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

مزید :

قومی -