کشمیر کی تحریک آزادی اور پاکستان

کشمیر کی تحریک آزادی اور پاکستان
کشمیر کی تحریک آزادی اور پاکستان

  

کرونا وائرس کی پوری دنیاپر گرفت اس بات کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز پر قادر ہے وہ انسانوں کو ایسی آزمائشوں سے دوچار کرنے کی قدرت رکھتاہے کہ سپرپاورز بھی بے بس ہو جاتی ہیں اور سائنس دانوں اورموجدو ں کو بھی اپنی کم علمی اور کم فہمی کااحساس ہونے لگتاہے ۔ یقیناًمقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی نولاکھ فوج بھی محض ہمارے ایمان کی آزمائش ہے,اگراسلامی نظریاتی پاکستان کے حکمرانوں نے اپنے دلوں میں بھارت کی فوجی طاقت اور بڑی معیشت کے خوف کو مستقل جگہ دے دی تویہ بڑی بدقسمتی کی بات ہوگی اورہم ترکیب میں خاص قوم رسولِ ہاشمیﷺکہلانےکےحقدارنہیں ہوں گے۔مقبوضہ کشمیرکے کشمیری مجاہدین یقین وایمان کی بہترین مثالیں پیش کر رہے ہیں۔

5 اگست 2019ءکو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردینے والے بھارتی اقدام کے خلاف کشمیری عوام کاشدید ردعمل اور بھارت کا ان پرجبر اس بات کامظہر ہے کہ کشمیرنہ بھارت کاحصہ تھا اور نہ ہے اور یہ کہ مقبوضہ کشمیرمیںحریت کانفرنس اور دیگرعلیحدگی پسندسیاسی پارٹیوں اورمسلح تنظیموں کو کشمیری عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور بھارت نواز کشمیری مہرے جن کو بھارت الیکشن کا ڈھونگ رچاکر اقتدار سونپ دیتاتھا ان کی مقبوضہ کشمیر میں اب کوئی سیاسی حیثیت اور کردار باقی نہیں ہے ۔ بھارتی فوج خصوصی اختیارات کے ساتھ بھی مجاہدین پر قابو پانے میں ناکام تھی اورہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کشمیری عوام کی طرف سے بھارتی تسلط کو مسترد کرنے کانتیجہ تھا ۔ بھارت نواز نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی دونوں کی قیادت اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے بھارت کو پاکستان سے مذاکرات کا کہہ رہی تھی اوردونوںکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حق میں نہ تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 5اگست 2019ءکے اقدام کے بعد ا ین سی اور پی ڈی پی کی قیادت بھی نظر بند کردی گئی تھی ۔اب آٹھ ماہ کے بعد شیخ فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ کو رہاکردیاگیا ہے اورسا بق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی صاحبہ بدستور نظربند ہیں۔ امکان نہیں ہے کہ فاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ کی رہائی کا بھارت کو کوئی فائدہ ہو۔ محبوبہ مفتی نے اپنی حکومت ختم ہونے کے بعدمرکز سے دوری اختیار کر لی تھی اور اب بھی وہ شاید اپنی سیاست کی بقا کیلئے بھارت کا آلہ کار بننا قبول نہ کریں ۔

درحقیقت بھارت کا5اگست کاانتہائی اقدام بھارتی حکمرانوں کی کشمیرکے حوالے سے تاریخی غلطیوں اور غلط فہمیوں کا تسلسل ہے بھارت میں تقسیم ہند کے وقت سے یہ سوچ چلی آ رہی تھی کہ وہ کشمیریوں کو طاقت اور مکاری سے دبالیں گے اور پاکستان بھارت کاعسکری اور سفارتی محاذپر مقابلہ نہ کرسکے گا اور اسے حالات سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیاجاسکے گا لیکن بھارت کا یہ خواب اب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوا بلکہ کشمیر ی نوجوانوں کی قربانیوں نے تحریک آزادی کو بڑا مضبوط کردیاہواہے ، کشمیری ماؤں کیلئے ان کے بچوں کی قربانیاں ان کیلئے سرمایہ افتخار ہیں ۔ سیّد علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق ، یٰسین ملک اورسیّد شبیرشاہ کشمیریوں کے ہیروزہیں اور ان کی استقامت کشمیری نوجوانوں کیلئے راہ عمل بن چکی ہے اور وہ جان ومال کی قربانی سے دریغ نہیں کررہے۔

بی جے پی کی قیادت اپنے پانچ اگست کے اقدام کوبظاہر ایک بڑے کارنامہ کے طور پر پیش کررہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ۔اسے اب بھی غلط فہمی ہے کہ پاکستان کی کمزورمعیشت ، ایف اے ٹی ایف اور جہاد کو دہشت گردی اورمسلح مزاحمتی گروپوں کو دہشت گردقرار دلوائے رکھنے کی کامیاب بھارتی سفارتکاری پاکستان کو کشمیریوں کی زبانی کلامی حمایت تک محدود رکھے گی اور بھارت مجاہدین پر آخرکار قابو پا سکے گا۔ بھارت یہ کچھ کر بھی رہاہے اور پاکستان بظاہر محدود ہی دکھائی دے رہا ہے لیکن کشمیرکے عوام اور مجاہدین نے حوصلے نہیں ہارے اور پختہ ایمان کےساتھ بھارت کےجبر کاسامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کے موقف پر قائم ہے اور رائے عامہ کا پرزور تقاضا بھی یہی ہے ۔

گذشتہ سال پاک فضائیہ کابھارت کوبالاکوٹ فضائی حملےکاکرارا جواب اورمعاشی بحران کےباوجودوزیراعظم عمران خان  کی کشمیرکازپرجارحانہ سفارتکاری پاک بھارت کشمکش کا ایک ٹریلر تھا جو واضح پیغام تھا کہ بھارت پاکستان کیلئے کوئی بڑا عسکری چیلنج نہیں ہے اور یہ کہ پاکستان میں چور چور کی سیاست کا باب بندہوجائے، سیاسی عمل کے ذریعے ملک سے عیاشیوں، بدعنوانیوں اور نااہلیوں کا خاتمہ ہوجائے اور ریاستی نظام کومضبوط بنالیاجائے تووہ بھارت پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکے گا جس میں ریاستی دہشت گردی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ،اقلیتوں اور عورتوں کے ساتھ زیادتیاں روزمرہ کا معمول ہیں ، پچیس کروڑ مسلمان احساس بیگانگی سے دوچار ہیں اورفوج مختلف ریاستوں میں علیحدگی پسندوں سے برسرپیکار ہے ۔

کشمیرکی تحریک آزادی اب بین الاقوامی توجہ کامرکزہے اور بھارت امریکہ کے جتنا بھی قریب ہے مگر صدر ٹرمپ کی کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش کم ازکم اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ امریکہ بھارت کے بیانیہ ”کشمیر ہمارااندرونی معاملہ“ کو تسلیم نہیں کرتا ۔ بھارت جیسے بڑے ملک میں توکسی منتخب حکومت کیلئے کشمیر پرغاصبانہ قبضہ جاری رکھنا ہی بڑا مشکل ہے چونکہ ذی شعوربھارتی شہری کب چاہتے ہوں گے کہ کشمیر میں ان کے فوجی مرتے رہیں وسائل ضائع ہوتے رہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھارت پر بین الاقوامی دباو¿ کا سبب بنتی رہیں اور دنیا کے سرکردہ ممالک بھی بھارت کے ساتھ جڑے مفادات کے باوجود اس کے بارے میں تحفظات کا شکاررہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بھارت کی سیاست پر انتہاپسند ہندوو¿ں کاتسلط قائم ہے اوراب وہاں سیکولرازم اور جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔بی جے پی کی سیاست کامحور بھی ہندتواکافروغ اور پاکستان اور مسلمان دشمنی ہے۔ بھارت کی پارلیمنٹ اور عدلیہ بھی وہی کچھ کررہی ہےں جو ہندوانتہاپسند چاہتے ہیں لہٰذا امکان نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات معمول پر آسکیںیا بھارت کشمیر پر کوئی لچک دکھائے جب تک اسے بہت مجبور نہ کیاگیا۔ بہرحال بھارت پاکستان کے کمزور معاشی حالات اور جنگ سے گریز کی پالیسی کا فائدہ اٹھارہاہے کشمیری نوجوانوں کو مجاہدین یا مجاہدین کے سہولت کار قرار دے کر انہیں شہید یا گرفتارکرکے جیلوں میں ڈال رہاہے جو بڑی تشویش کی بات ہے۔

بھارت کی کشمیری علیحدگی پسندوں کے خلاف جبرکی پالیسی اور بھارتی مسلمانوں سے امتیازی سلوک میں مغرب میں اسلامو فوبیا اور امریکی ارباب اختیار کے اسلام مخالف رجحان کا بھی بڑا عمل دخل ہے یعنی غیراعلانیہ طور پر بھارت مغرب سے خیرسگالی کیلئے مسلمانوں کو زیر کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ہمارے ارباب اختیار شاید امریکہ سے کوئی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کو اس حوالے سے اسلامی ممالک اور برصغیر کے مسلمانوں کو آگاہی بھی دینی ہوگی اور ان کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی۔

دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے ارباب اختیار اس ساری صورت حال کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔ بظاہر تو بڑی معنی خیز خاموشی ہے ۔ یقیناً حالات بھی ہیں اور شاید مسئلہ کی سنگینی کے باعث کوئی بے نتیجہ جلد بازی بھی مناسب نہیں خیال کی جارہی البتہ بھارت کو کشمیر میں فری ہینڈ دینا بھی کوئی مناسب حکمت عملی نہ ہوگی۔ملکی حالات کی درستگی اور قومی یکجہتی اہم ضرورت ہےں مگر ملک کودرپیش چیلنجز کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا ۔ خارجی محاذ پر پاکستان کو غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت ہے دنیا بھارت کی ریاستی دہشت گردی پر کیوں خاموش ہے اور کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد کہناکیاظلم نہیں ہے ؟ اس کیلئے پاکستان کو بھارت کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں جاناچاہیے۔ پاکستان نہ صرف ایک خود مختار ملک ہے بلکہ بطورنیوکلیرپاور اور سی پیک پار ٹنر اقوام عالم میں اس کی اہم حیثیت ہے ۔اسے مضبوط فارن پالیسی کے ساتھ چین ، ترکی اور ملائیشیا وغیرہ کو ساتھ لے کر سفارتی محاذ پر آگے بڑھنا ہوگا۔ متزلزل فارن پالیسی سے دوست ممالک بداعتمادی کاشکار ہوں گے۔ عرب ممالک کوبھی اب پاکستان کو آسان نہیں لیناچاہیے جب تک کہ وہ بھارت کے خلاف مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -