اپنے حصے کا دیا خود جلانا ہوگا

اپنے حصے کا دیا خود جلانا ہوگا
اپنے حصے کا دیا خود جلانا ہوگا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

25 مارچ 2020 کو بوقت عصر "پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈی" کی پر خلوص دعوت پر شہر اقتدار پہنچا جہاں گرمی سیاست سے اقتدار کے ایوانوں میں سخت تپش محسوس ہورہی تھی، عدم اعتماد کی تحریک آچکی تھی، ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے جوڑ توڑ میں شدید مصروف نظر آرہی تھی اور سیاسی قائدین ایک دوسرے پر زبانی گولہ باری میں شدید مصروف نظر آ رہے تھے.
اس قدر سیاسی آگ  برساتے موسم میں "پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈی" نے ملک بھر کی نامور یونیورسٹیوں میں سے 50 سے زائد طلباء و طالبات کو تین روز کے لیے اسلام آباد بلا رکھا تھا. 26 مارچ سے 28  مارچ تک  اسلام آباد ہوٹل میں ایک شاندار تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا. پورے ملک سے انتہائی ذہین و فطین، لائق و فائق اور سنجیدہ مزاج طلباء نے اس سیشن سے بھرپور فائدہ اٹھایا.
معروف صحافی جناب عامر رانا صاحب کی کاوشوں سے اسلام آباد میں ایک شاندار مکالمے کا اہتمام کیا گیا. 
پہلا مکالمہ "چارٹر آف پیس" پر تھا جس میں وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے ہم آہنگی و مشرقی وسطی جناب طاہر اشرفی صاحب،
وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی اسسٹنٹ برائے اطلاعات و براڈ کاسٹنگ جناب رؤف حسن صاحب، 
جج سپریم کورٹ آف پاکستان جناب ڈاکٹر خالد مسعود صاحب، 
ڈائریکٹر آف انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ کراچی جناب ڈاکٹر سید جعفر صاحب
اس مکالمے کی میزبانی جناب عامر رانا صاحب نے کی اور اس میں علاقائی امن و امان کے حوالے سے بہت اہم بحث ہوئی. 
طلباء نے اس نشست میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اپنے تند و تیز سوالات سے مزید اس کی چھپی تہیں کھولنے میں کوئی کسر نا چھوڑی. 
ڈاکٹر خالد مسعود صاحب نے قومی دفاعی پالیسی اور امن کے حوالے سے تاریخی گفتگو کی اور اس پالیسی کو مرتب کرنے کے تمام لازمی جزو زیر بحث لائے. 
علامہ طاہر محمود اشرفی صاحب نے ملک عزیز پاکستان میں میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور اختلافات ہونے کے باوجود تمام مذاہب کے لوگ کیسے ایک دوسرے سے محبت و اخوت کے ساتھ ایک ساتھ اکٹھے رہ سکتے ہیں اس پر سیر حاصل گفتگو کی. 
سیالکوٹ میں پیش آنے والے اندوہناک واقعہ پر کیسے پاکستان کی مذہبی قیادت نے اپنا مثبت کردار ادا کیا اور کیسے دنیا کو باور کروایا کہ ایسے انتہاپسندانہ واقعات ہمارے مذہب اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں علامہ صاحب نے تفصیلا اس پر روشنی ڈالی.
دوسرا مکالمہ " پارلیمنٹ، آئین اور جمہوریت" کے دقیق موضوع پر تھا جس میں معروف سیاسی رہنماءقمر زمان کائرہ صاحب، سیاسی رہنماء و سابق سینیٹر ثناءاللہ بلوچ صاحب، سابق نیشنل سیکورٹی آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ر جناب ناصر خان جنجوعہ صاحب. کواررڈینیٹر گلگت بلتستان جناب تقی خانزادہ صاحب نے سیر حاصل گفتگو کی اور اس کی میزبانی معروف لکھاری جناب غازی صلاح الدین صاحب نے کی.
پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے لیکن تاحال پاکستانی عوام اور سیاست دان ہر وقت اس نظام کے پوری طرح سے رائج نا ہونے کا شکوہ کرتے ہیں لیکن ابھی تک اس وطن عزیز کو  اس نظام سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوسکیں.
یہ موضوع انتہائی تلخ اور نازک تھا کہ جس پر لب کشائی کرتے وقت ہر زبان لرکھڑاتی نظر آتی ہے کیوں کہ اس میں عوام، سیاست دان، بیوروکریٹ، ملٹری، صحافت اور ہر ادارہ اپنی اپنی جگہ کسی نا کسی حد تک ذمہ دار ہے.
انتہائی خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ سول و ملٹری قیادت نے بجائے ایک دوسرے کو الزام دینے کے وہاں خوش اسلوبی سے اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور اس ملک عزیز کا مستقبل ہر صورت اور ہر حال میں جمہوریت کو قرارا دیا.
جنرل ر ناصر جنجوعہ صاحب نے فرمایا کہ اس ملک کا مستقبل صرف جمہوریت تھا جمہوریت ہے اور جمہوریت رہے گا اس کو اگر چلانا ہے تو جمہوریت کے طرز حکومت پر ہی چلانا پڑے گا اس کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا حل موجود نہیں.
موجودہ سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری رویوں اور موروثیت کے خلاف ایک لڑکی نے بہت سخت سوال کیا تو قمرزمان کائرہ صاحب نے فراخدلی سے اس پر غلط ہونے کا اقرار کیا اور انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اگر ہر سیاست دان اور ہر مقتدر سے اس کی غلط پالیسی پر اس سے باز پرس شروع کردے تو غلطی دھرانا کسی کے بس کی بات نا رہے.
تیسرا مکالمہ افغانستان کی بدلتی صورتحال سے پاکستان کو درپیش مسائل پر تھا جس میں افراسیب خٹک، احسان غنی، نعمان وزیر خٹک، معید پیرزادہ شہزادہ ذوالفقار اور ڈاکٹر سنبل صاحبہ نے اس میں حصہ لیا.
اس کی میزبانی کے فرائض عامر رانا صاحب نے ادا کیے.
اس کے بعد"پاکستانی نوجوان نسل ریاست، سوسائٹی، مذہب اور سیاست کو کیسے دیکھتی ہے" کے موضوع پر مکالمہ ہوا جس میں نیدر لینڈ کے سفیر واؤٹر پلامپ، احمد علی صاحب، ڈاکٹر فضہ صاحبہ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب، خورشید ندیم صاحب نے حصہ لیا لیکن اس پینل کے دو نہایت اہم لوگ محترم قبلہ ایاز صاحب اور فواد چوہدری صاحب اپنی سیاسی مصروفیات کی وجہ سے تشریف نہیں لاسکے.

"آزادی اظہارِ رائے اور اس کو کہاں مسئلہ ہے"کے موضوع پر وسعت اللہ خان صاحب، گل نوخیز اختر صاحب، ہمایوں خان صاحب، عون ساہی صاحب، سبوخ سید صاحب، منیزے جہانگیر صاحبہ اور عادل شاہ زیب صاحب نے آزادی صحافت کو درپیش مسائل پر گفتگو کی.
وسعت اللہ خان صاحب نے اس مسئلہ پر کہا کہ اگر آج کا نوجوان بات کہنے کا سلیقہ سیکھ لے تو بہت سارے مسائل صرف اسی سے حل ہوجائیں.
ٹرانسپرنسی اور گورننس کے عنوان پر بیرسٹر شہزاد اکبر صاحب، حفیظ الرحمان صاحب، ثناءاللہ بلوچ صاحب،مولانا عبدالقادر لونی صاحب اور عادل شاہ زیب صاحب نے اس پر بحث کی.
یوں قومہ مکالمے کے انتہائی مصروف دن کا اختتام ہوگیا اور سو سے زائد لوگوں نے اس میں نے وہ چیزیں سیکھیں جو شائد وہ کئی سال تک نا سیکھ پاتے.
اس سیشن میں مختلف رنگ، نسل، ذات، گروہ، جماعت، مذہب، مسلک اور قوم کے لوگ شریک تھے جو یقینا ایک دوسرے سے بہت سارے اختلافات رکھتے ہوں گے.
لیکن جب سب کو ایک دوسرے کو سننے کا اور خود کو سنوانے کا موقع ملا تو یقینا بہت ساری غلط فہمیاں ختم ہوچکی تھیں.
اگلے دو روز مزید سبوخ سید صاحب، احمد علی صاحب، عامر رانا صاحب، ڈاکٹر فضہ صاحبہ اور رانا اظہر صاحب نے ان 50 لوگوں کی بھرپور تربیت کا اہتمام کیا.
پاکستان سے نفرت انگیز مواد (جو فساد، لڑائی، نفرت اور وطن عزیز میں آگ لگانے کا کام کرتا ہے) کے خاتمے  کے لیے زبردست پالیسیاں بنائی گئیں اور اس کی روک تھام کے لیے پاکستان کے متعلقہ اداروں تک ان تمام لوگوں کی عام رسائی کا اہتمام کیا گیا.
آخری روز سارے گروپ کو اسلامی نظریاتی کونسل کا دورہ کروایا گیا جہاں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے دو گھنٹے تک طلباء کے انتہائی تابڑتوڑ سوالات کا سامنا کیا اور جوابات دیے.
سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ وہاں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے دوستوں نے جب تبدیلی مذہب کا مسئلہ اجاگر کیا تو ڈاکٹر صاحب نے انتہائی مدلل جوابات دیے.
ان کا کہنا تھا کہ جبری تبدیلی مذہب پر تو کوئی دورائے نہیں کہ یہ کتنا قبیح فعل ہے.
اور اسلامی نظریاتی کونسل پورے پاکستان کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اس کے خلاف جتنی بھی سخت سزا لائی جائے گی کم ہے لیکن جو لوگ اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کریں ان کی کے اس فیصلے کا بھی ہر کسی کو احترام کرنا چاہئے.
ان 50 طلباء و طالبات میں ہر مذہب و مسلک کے لوگ موجود تھے لیکن ان جے دلوں میں کسی کے خلاف بھی کوئی نفرت و حقارت موجود نا تھی.
اپنے اپنے عقائد کے ساتھ وابستگی کے ساتھ اختلاف تو موجود تھا مگر کسی کا بھی احترام زائل نا ہوا.
یہ کام ریاست کو ماں ہوتے ہوئے کرنے چاہئیں تاکہ مختلف علاقوں، رنگوں، قوموں، مذہبوں اور مسلکوں کے لوگ ایک دوسرے کے احترام اور محبت کر مقدم جانیں اور وطن عزیز پاکستان سے نفرت و انتہاپسندی کا جڑ سے خاتمہ ہو.
ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے بتایا کہ گذشتہ محرم الحرام میں چند لوگوں نے مقدس شخصیات کے خلاف تقریر کر کے منافرت پھیلانے کی کوشش کی تو انہی کے مذہب و مسلک کے لوگوں نے درخواستیں دے کر ان کے خلاف مقدمات قائم کروائے جو یقینا نہایت خوش آئند بات ہے.
اس ورکشاپ سے واپسی پر یقینا ہر شریک کا یہ مصمم ارادہ تھا کہ وہ وطن عزیز پاکستان کی خوشگوار فضاء سے نفرت، تعصب، انتہاپسندی اور عدم برداشت کی زہریلی گیس سے پاک کرکے دم لے گا.
بقول شاعر
خواہش سے نہیں گرتے ہیں پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا
کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود جلانا ہوگا

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.  

مزید :

بلاگ -