سسٹم ٹھیک ہو سکتا ہے 

  سسٹم ٹھیک ہو سکتا ہے 
  سسٹم ٹھیک ہو سکتا ہے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ای چالان کے رواج سے پہلے جب یہ واقعہ ہوا اُس وقت گمان میں نہیں تھا کہ اِسے کالم کا موضوع بنایا جا سکتا ہے۔ گھر سے نکل کر نہر والی سڑک پر صبح سویرے نیو کیمپس یا مزید پچیس کلو میٹر آگے ایک نجی یونیورسٹی کا رُخ کر لینا کوئی عجیب بات تو نہیں۔ ہاں، یہ خلافِ معمول تھا کہ پُل پار کرتے ہی ایف سی کالج گیٹ سے پہلے دو چاق چوبند ٹریفک سارجنٹ میرے بائیں ہاتھ نمودار ہوں اور رُکنے کا اشارہ دیا۔ ”سلام علیکم سر، آپ کے پاس ڈرائیونگ لائسنس یا رجسٹریشن تو ہو گی؟“ لہجہ نہائت شائستہ تھا۔ ”ضرور دیکھیں مگر ہوا کیا ہے؟“ ”اوور سپیڈنگ ہوئی ہے۔“ یہ مجھ پر ایک نئی طرز کا الزام تھا۔ لمحے بھر کو چیزیں گھومتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ ساتھ ہی بے تکلف دوست اسلم ڈوگر کی نصیحت یاد آئی کہ پولیس کے سامنے دلیل کی جگہ انسانی عذر پیش کیا کریں، جیسے رات بے آرام رہا یا طبیعت خراب تھی اور غلطی ہو گئی۔

 قانون کے طالب علم کے طور پر میرا جبلی ردِ عمل تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ گھر سے یہاں تک کوئی تحریری انتباہ ہے ہی نہیں، پھر ضابطے کا نفاذ کیسے ہو گیا؟ دوسرے حدِ رفتار کچھ بھی ہو، ڈرائیور کو ٹریفک کی روانی کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ بہرحال، خود پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ بیٹا، تنگ نہ کرو، اِس عمر میں بھی اگر رات تین بجے لاہور شہر میں کوئی سرخ اشارے پر رُکتا ہے تو وہ میں ہوں۔ کار بھی پرانے ماڈل کی تھی، سو از رہِ احتیاط اپنے ساتھ اُس کی کبیر سنی کا حوالہ بھی دے دیا۔ اب ڈوگر صاحب کے فارمولے کی رو سے میرا بزرگانہ لہجہ خاصا موثر تھا لیکن ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہوا کرتا۔ ”بعض بے احتیاطیوں پر کار ضبط بھی ہو سکتی   ہے مگر آپ نفیس آدمی ہیں، بس جرمانہ کر رہا ہوں جو مین مارکیٹ کے نیشنل بینک میں جمع کرا دیں۔‘‘ سارجنٹ نے دوٹوک جواب دیا۔ 

  یونیورسٹی سے واپسی پر چوک پرانی انارکلی میں اپنے پبلشر سے ملنے کا پروگرام تھا۔ پھر بھی محبِ وطن شہری نے سوچا کہ باقی کام چھوڑ کر بلاتاخیر جرمانہ ادا کر دوں تاکہ ذہنی دباؤ سے نجات ملے۔ اب یہ تفصیل بے ربط سی لگے گی کہ بینک کی جرمانوں والی کھڑکی پر گہری سیاہ رنگت والے کیشئیر کو دیکھ کر احساس ہوا کہ اُس کا ظاہر باطن ایک جیسا ہے، یعنی دل بھی چہرے جتنا کالا۔ اسی لیے تو وہ لائن میں مجھ سے اگلے آدمی کو زور زور سے کسی کے متعلق کہہ رہا تھا ”وہ ہوتا کون ہے یہ کہنے والا؟“ ساتھ ہی ’کہنے والا‘ سے پہلے ایک موٹی گالی اور میری طرف داد بٹورنے کے انداز میں ”کیوں جی، ٹھیک ہے نا؟‘‘ ”جناب، مَیں صرف شکل سے عقل مند لگتا ہوں، ورنہ مجھے اِن باتوں کی کچھ سمجھ نہیں۔“ 

 یہاں تک پڑھ لینے کے بعد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہو نہ ہو کالم نگار نے آج کے لیے موضوع کا چناؤ سیاہ رُو کیشئر کی ڈانٹ سے گھبرا کر کیا۔ یا آپ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ اگر صیغہ واحد غائب یا تھرڈ پرسن سنگولر میں کسی آدمی کو برا بھلا کہا جا رہا ہو تو اُس پر ایک شریف انسان کا رد عمل کیا ہونا چاہئے۔ اکثر لوگ ٹریفک چالان یا کوئی اور قانونی اذیت سہنے کے عمل میں زیادہ صاف گو ہو جاتے ہیں۔ مَیں بھی انتہائے سادگی میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ آپ نے ایک غیر حاضر شخص کو کچھ دیر پہلے جو گالی دی اُس میں ہم سب کی بہتری کا کوئی نہ کوئی پہلو تو ہوگا۔ معلوم نہیں کہ میرے مخاطب کو یہ پوائنٹ پسند آیا یا نہیں۔ بہرحال اُس نے مجھ سے اگلے آدمی کو نظرانداز کرتے ہوئے میرے کاغذات اور روپے ہاتھ میں لیے اور پھیکی سی رسید تھما کر فارغ کر دیا۔ 

 یہاں تک خاصا مواد جمع ہو چکا تھا، مگر انگریزی میں ایک مخصوص طرز کے کھیل کے لیے میلو ڈرامہ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ واقعات کا اتار چڑھاؤ، کرداروں کا باہمی تال میل، پھر سوشل میڈیا چینلز کی مانند کہانی کے سنسنی خیز ہونے کی شرط۔ ساتھ ہی انسانی جذبات کو ابھارنے والا کوئی نہ کوئی واقعاتی عنصر، آخر میں مکمل انصاف اور تمت بالخیر کا اختتامی مرحلہ۔ انصاف سے مراد یہ ہے جو کردار بے قصور تھے وہ بری الذمہ ٹھہریں اور جو قصور وار ہیں اُنہیں سزا مِلے اور وہ بھی اپنے اپنے جرم کی شدت کے تناسب سے۔ اِس قسم کا انصاف حقیقی زندگی کے تسلسل سے مختلف ہوتا ہے، چنانچہ دانشور اور ادبی نقاد اِس کے لیے تخیلاتی عدل یا پوئٹک جسٹس کی ترکیب استعمال کرتے ہیں۔ تو کیا جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا تھا اُسے بھی پوئٹک جسٹس کہیں گے؟

  یہاں میرا جواب ’ہاں‘ اور ’نہیں‘ دونوں کے درمیانی علاقے میں ہے۔ یہ اِس لیے کہ اگلے دن نہا دھو کر ڈرائیونگ لائسنس واپس لینے کے لیے پہنچے تو سکیورٹی گارڈ نے رسید دیکھ کر رہنمائی کی کہ آپ کو کاغذات سامنے والی نئی بلڈنگ سے ملیں گے۔ سرخ اینٹوں کی یہ عمارت اِتنی صاف ستھری تھی کہ روایتی پولیس سے دُور دُور تک اِس کا تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ پھر بھی ’مکاں کو مکیں سے شرف‘ تو ہے۔ پہلے ہی دریچے پر مامور ایک صاحبہ نے کہا کہ مین مارکیٹ والے ڈرائیور اگلی کھڑکی پہ چلے جائیں۔ اگلی خاتون نے رجسٹر پہ نظر ڈالی اور یہ کہہ کر جان نکال دی کہ آپ کے کاغذات ابھی یہاں نہیں پہنچے۔ اور لوگ اِن موقعوں پر نہ جانے کیا کرتے ہیں، پر مَیں تو چکرا گیا کہ یا الہی، یہ ماجرا کیا ہے۔ 

  اسلم ڈوگر نے قصہ سُن کر حسبِ عادت کہا تھا کہ ”تسیں مینوں فون کر لینا سی۔“ اُن کا کہا سر آنکھوں پر۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر شعبے میں مغرب کی نقالی کرنے والے لوگ ریلوے ٹکٹ حاصل کرنے، کھڑکی پر بجلی کا بِل دینے اور چالان شدہ لائسنس کی واپسی کے لیے لائن لگاتے ہوئے ندامت کیوں محسوس کرتے ہیں۔ میری ندامت البتہ لائن سے نکل کر شروع ہوئی جب یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب کدھر کا رُخ کرنا چاہیے۔ سوچا کہ ایک چکر اُس مقام کا لگا لیا جائے جہاں چوبیس گھنٹے پہلے ’ساہنوں نہر والے پل تے بلا کے‘ ماہی نے چالان کیا۔ مجھ جیسے کمزور دل انسان کو اُس گھڑی اِسی چھوٹے سے نکتے کا آسرا تھا کہ چالان کی رسید پر سارجنٹ کے دستخط ایک ایسے عالمِ دین کے نام سے کے مشابہہ ہیں جن کا محرم کی مجالس سے خطاب ہماری نوعمری میں صلح پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 

 پُل پر رُکنے کی دیر تھی کہ ٹریفک کا ایک باوردی افسر خود بخود سڑک پار کرکے متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ مَیں متعلقہ لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں، آپ گرمی کے پیش ِنظر کار ہی میں بیٹھیں۔ مَیں نے یہ کہہ کر اترنے پر اصرار کیا کہ ہم دونوں اِسی ملک کے باشندے ہیں اور یکساں طور پر گرمی کے عادی۔ اِتنے میں عالم ِ دین کے نام والا سارجنٹ بھی آ گیا۔ ”کاغذات تو کل ہی جمع کروا دیے تھے مگر کبھی کبھار اندراج دیر سے ہوتا ہے۔ مَیں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔“ سرخ اینٹوں والی بلڈنگ تک پہنچ کر سارجنٹ نے مجھے اندر جانے کی زحمت سے بچایا اور پانچ منٹ میں لائسنس واپس دلا کر دوبارہ ڈیوٹی پر کھڑا ہو گیا۔ رخصت سے پہلے معذرت بھی کی تھی کہ سر، آپ کو بہت تکلیف ہوئی۔ مَیں نے شکریہ کے ساتھ مسکراتے ہوئے الوداعی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا تھا۔ اِس سال کے آغاز پر ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کے لیے گئے تو ہجوم کے باوجود عملے کی مستعدی نے اِس واقعہ کی یاد تازہ کر دی اور یوں لگا کہ سسٹم ٹھیک ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -