قوم کو منجدھار سے نکالیں

قوم کو منجدھار سے نکالیں
قوم کو منجدھار سے نکالیں

  

میرا گھر گجومتہ سے،جہاں سے میٹروبس رواں دواں ہوتی ہے، تقریباً چھ یا سات کلومیٹر دورقصور کی طرف واقع ہے، جب یہ منصوبہ شروع ہوا تو اکثر اوقات ٹریفک جام نظر آتی تھی۔گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنے سے اس منصوبے پر جہاں لوگ منفی تبصرہ کرتے تھے۔ہم بھی اس میں شامل ہوجایا کرتے۔لوگ ٹریفک میں پھنسے رہنے کی وجہ سے نوازشریف ، خاص طور پر شہبازشریف پر دشنام طرازی کرتے ہوئے نظر آتے۔ہر وقت اس سڑک پر گرد کے بادل چھائے نظر آنے لگے۔منفی پروپیگنڈہ کرنے والے اس کے مضر اثرات سے لوگوں کو آگاہ کرنا اپنا فرض منصبی سمجھ رہے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی تو نظر آ رہا تھا کہ یہ منصوبہ کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے گا، کیونکہ ملک کے بڑے بڑے رہنما اس پر اس انداز سے تنقید کرتے تھے،جیسے میٹروبس منصوبہ ان کے لئے گالی کے مترادف ہو،اسے کبھی دیوار برلن کا نام دیا گیا اور کبھی جنگلہ بس سروس کہا گیا۔ہر سیاسی جماعت کی توپوں کا رخ اس منصوبے کی طرف تھا اور وہ چاہ رہے تھے کہ اسے کسی نہ کسی طرح ناکام بنایا جائے۔

میٹروبس کا یہ ٹریک تقریباً 22کلومیٹر طویل ہے اور دیکھنے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ اس کے گردونواح بسنے والے لوگ غریب اور نوکری پیشہ یا پھر لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں اکثریت اس بات سے ہمیشہ پریشان رہی کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو لاہور نہیں رہے گا، بلکہ کھنڈرات کی شکل اختیار کر جائے گا۔ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہوں گی اور ٹریفک کا طوفان بدتمیزی ہر وقت ان کے استقبال میں رہے گا اور ان کی زندگی ان کے لئے مسائلستان بن کر رہ جائے گی،لیکن ایسا نہ ہوا، سالوں کا سفر مہینوں میں طے ہوا اور پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ تنقید کرنے والے نہ صرف شرمسار ہوئے ، بلکہ اس شاندار منصوبے کی ناکامی کے لئے بدعاﺅں پر اُتر آئے اور میٹروبس سروس کے منصوبے کو لاہور کا منصوبہ کہنے لگے ۔

ان نادان دوستوں کے لئے عرض ہے کہ اس منصوبے سے ضلع قصور، گوجرانوالہ، کامونکی،مریدکے، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور گردونواح کے لوگوں نے بھی استفادہ کیا، پھر 11مئی کے الیکشن میں دیکھا کہ لوگوں نے کس طرح اس منصوبے کو پذیرائی بخشی۔عوام یہ بات سمجھ رہے تھے کہ اگر شہبازشریف کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو پھر کیا ہوگا۔لاہور کھنڈرات کی شکل اختیار کر جائے گا، اگر کسی طرح یہ تمام قوتیں مسلم لیگ(ن) کو ہرانے میں کامیاب ہوگئیں تو میٹروبس بھی دم توڑ دے گی اور یہ ایک قومی المیہ ہوگا۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگ گھروں سے نکلے۔انہوں نے مسلم لیگ(ن) کو ووٹ نہیں دیا، بلکہ اس منصوبے کو بچانے کے لئے انہوں نے اس منصوبے کی مخالف سیاسی قوتوں کو شکست فاش دی اور اب پھر وہ میٹروبس کے خالق سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔

الیکشن سے چند ماہ پہلے میاں شہبازشریف نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ الیکشن جیت کر پانی و بجلی کی وزارت حاصل کریں گے اور قوم کو اندھیروں سے نجات دلائیں گے۔مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ بیان ان کا سیاسی بیان تھا۔میٹروبس کے منصوبے کی کامیابی کے بعد لوگوں کا اعتماد ان پر بڑھ گیا ہے۔عوام بھی یہ سمجھنے لگے کہ شہبازشریف ہی وہ شخصیت ہیں،جو انہیں ان اندھیروں سے نجات دلا سکتی ہے۔مَیں سمجھتا ہوں میٹروبس منصوبے کے بعد اس بیان نے لوگوں کو ان کی طرف مائل کیا۔میٹروبس کے اس منصوبے نے عوام میں اعتماد کی ایک روح پھونکی اور وہ یہ بات تسلیم کرنے لگے کہ یہی وہ شخص ہے جو انہیں اندھیروں سے نجات دلا سکتا ہے۔عوام کے اعتماد نے بھاری اکثریت سے مسلم لیگ(ن) کو اس الیکشن میں جتوا کہ میٹروبس سروس کے منصوبہ کے سرسہرا باندھ دیا۔

میٹروبس سروس سے پہلے جب بھی لوگ بات کرتے تھے۔یہ کہا کرتے تھے کہ ووٹ نوازشریف کو دینا ہے یا پھر جسے بھی دینا ہے، اس کا ذکر کرتے تھے، لیکن چند ماہ پہلے دیکھنے میں آیا کہ لوگ شہبازشریف کا نام لئے بغیر نہ رہ سکے اور انہیں کہتے سنا گیا کہ شہباز کو ووٹ دیں گے۔اب گزارش یہ ہے کہ قوم نے تو آپ کو آپ کے کئے کا انعام دے دیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ قوم کو اس منجدھار سے کس طرح نجات دلائیں گے؟ ٭

مزید :

کالم -