دُنیااورآخرت کی کامیابی

دُنیااورآخرت کی کامیابی
دُنیااورآخرت کی کامیابی

  

یہ اٹل حقیقت ہے اور قرآن وسنت کی تعلیمات و ثوق اور یقین کے ساتھ یہ پیغام دے رہی ہیں کہ تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو اور اللہ کی پارٹی والے ہی غالب ہوں گے اور جو لوگ ایمان و عمل صالح والے ہوں گے اُن کو زمین پر اقتدار ضرور ملے گا۔ اسلام کی تعلیمات میں اس وثوق و یقین کی بنیاد کیا ہے ؟ آخر کس بنیاد پر بار بار یہ دعویٰ کیا جاتاہے کہ دوسری قو میں خواہ کیسی ہی مادی وسائل کی مالک ہوں ان پر مسلمان صرف ایمان اور عمل صالح سے غالب آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا سورہ نور آیت ۵۵ میں ارشاد ہے ”اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیاہے کہ ہم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور انہیں ضرور خلیفہ بنائے گا زمین میں ۔ “ یہ ہی ایمان اور صالح سیرت و کردار ہے جو مسلمانوں کی طاقت ہے اقامتِ دین کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے اُن کی طاقت آراستہ فوجیں ، اسلحہ و بارود ، وسیع ذرائع ووسائل کرنے والوں کے لیے اُن کی طاقت جس میں کامیابی کا راز ہے وہ پاکیزہ اخلاق ، درست معاملات، مضبوط سیرت بلند تخیلات ، حسد وکینہ کی بجائے خوشی خلقی خیر خواہی ہے ۔ یہ طاقت وہ روحانی طاقت ہے جو مادی وسائل کے بغیر دنیا میں اپنا سکہ چلارہی ہے جو زمینوں اور تختِ اقتدار کا نہیں دلوں کا مالک بنادیتی ہے ۔ اہل ایمان کی ہمیشہ یہ ہی طاقت رہی جس سے انہوںنے دنیا میں فتح و کامیابی پائی اور انسانوں پر ظلم،جبر اور افلاس مسلط کرنے والے مقتدر طبقوں سے نجات دلائی۔

غلبہ دین کا کام کرنے والوں کے لیے کوئی خوف اور کسی طرح کا غم راستے کی رکاو ٹ نہیں بنا سکتا۔ قرآن کریم میں بار بار اہل ایمان کو رہنمائی دی گئی ہے کہ اُن میں کبھی کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے اس سے مراد یہ ہے کہ اُن کی ساری جدوجہد دنیا اور آخرت کی کامیابی خصوصاً آخرت کی نجات کا حصول ہے۔ دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے قرآن کریم میں فلاح، نجات ، خوف ، خسران سے آگ سے بچنے اور رنج نہ ہونے کا تصور دیا ہے ، رہنمائی یہ ہے کہ وقتی تکلیف ، شکست ، ناکامی انسان کو گھیر لیتی ہے اور مستقبل کے اندیشوں سے ہمیشہ خوف زدہ رہتاہے اور شیطان اُس کے دل میں مسلسل وسوسے ڈالتاہے ، انسان حال اور ماضی کے واقعات اور حادثات سے حزن و ملال کا شکار اور غمگین رہتاہے۔ انسان وقتی شکست اور پسپائی کے تجزیوں اور ملال میں گھیرا رہتاہے اور انجانے خوف سے خوف راہ کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ئنات کے مالک و خالق ہیں وہ اپنی مخلوق کی نفسیات اور رگ رگ سے واقف ہے اُسی نے حوصلہ ، استقامت اور غم سے عافیت کے طریقے بھی بتادیئے ہیں۔ اُن پر عمل سے ہی انسانی جدوجہد میںلذت ، سکون اور ولولے برقرار رہتے ۔

قرآن و سنت کی ہدایات کی پیروی ،رسولوں کا اتباع ، ایمان پروراور اثبات ،نماز زکوٰة اور دیگر اعمال و صالح پر کاربند رہنا ایمان اور تقویٰ کرتے ہوئے اللہ کا قرب حاصل کرنا، اللہ کی غلامی اختیار کرلینا ، اللہ کی راہ ،وقت ، مال ، صلاحیتوں کا ایثار ، انفاق فی سبیل اللہ پر کاربند رہنا اور قولی اور عملی شہادت کی پیروی کے لیے برسرپیکاررہنا اقامت دین کی جدوجہد کرنے کا زادِ راہ ہے ۔ یہ ہی سرمایہ حیات اور جنت کے حصول کا یقینی ذریعہ حالات کے تھپیڑے فرد میں اضمحلال پیدا کرتے ہیں ایمان میں کمزوری محسوس ہوگی حضور کا فرمان ہے کہ ”انسان کا ایمان کپڑوں کی طرح بوسیدگی کا شکار ہوتاہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دل میں ایمان کی تازگی اور بوسیدگی کے خاتمہ کے لیے دعا کرتے رہو۔ “

آج کا مسلمان نفسا نفسی ، دھوکہ اور فریب ،یاد الٰہی سے غفلت اور تہذیب و اخلاق سے عاری ماحول میں گھرا ہواہے استعماری قوتوں ، اللہ کی باغی قوتوں کی تہذیب اور مذہبی بیزار ثقافت کاغلبہ ہلاکت خیز غفلتوں کا شکار کررہاہے اس لیے دنیا میں مگن رہنا،زندگی بعد موت کے لیے تیاری سے غافل ہونا خسرا ن کا سودا ہے اصل کامیاب آخرت کی کامیابی ہے ۔ اگر ہم دین کی ان بنیادی تعلیمات کو حرزِ جان بنائیں تو دنیا اورآخرت کی کامیابیوں کی سبیل پیدا ہوسکتی ہے ۔

1۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی :

 خوف ،رنج اور غم سے بچاﺅ کا پائیدار طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی پیروی کی جائے ۔ سورہ البقرہ : ۳۸ میں فرمایا گیاہے کہ ”ہم نے کہاکہ تم سب یہاں سے اُتر جاﺅ پھر میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔ “ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی اور زمین پر چلے جانے کے حکم کے ساتھ یہ شرط عائد کردی اصولی بات سے آگاہ کردیا کہ خوف ، رنج ،غم اور افسردگی سے بچنا چاہتے ہو تو اللہ کی طرف سے ہدایت کی پیروی کرو اور جو لوگ اس سے انکار کرتے ہیں اُن کے لیے پکڑ ہے ، گرفت ہے اور نہ سنبھلنے والوں کے لیے اللہ کی ناراضگی اور جہنم کی آگ ہے۔ غرض زندگی کے ہر ہر گوشہ میں اللہ کی رضا ، اللہ کی ہدایات کی پیروی ،حضور کے اسوہ پر عمل لذتِ عمل بنالی جائے ۔ حضور سے محبت ہی بہترین معاشرتی عمل کی بنیاد ہے ۔ عالمِ عرب جہاں ہر طرف ظلم و فساد برپا تھا اس معاشرہ کی ایسی کایا پلٹی جس کی نظیر نہیں ملتی اس کی وجہ صرف اور صرف رسول اللہ سے محبت تھی ۔ اللہ کا فرمان ہے ”جس نے رسول کی اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ “ آج جس کی ضرورت ہے وہ یہ ہی اللہ کی ہدایت کی پیروی اور حُب رسول اللہ ہے۔

2۔اللہ پر ایمان اور استقامت :

دنیا کی ذلت اور آخرت کی گرفت انسان کے لیے سب سے بڑا خسارہ ہے ، دونوں محاذوں پر سروخروئی کے لیے انسان اللہ کی راہ پر چل پڑتاہے یا خوف ،اعمال کی خرابی پر مایوسی ، حالات کے دباﺅ کی بنیاد پر رنج و غم میں مبتلا ہو کر انسان شیطان کی راہ پکڑ لیتاہے جو بربادی کی طرف لے جاتاہے۔ سورہ الاحقاف :۱۳میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”خوف او ر رنج و غم سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ رب کائنات پر مکمل ایمان ہو اور اس ایمان پر سختی سے جمے رہیں یقیناً جن لوگوں نے کہاکہ اللہ ہی ہمارا رب ہے پھر اس پر جم گئے اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے“۔ یہ جذبہ ، کردار ، ایمان اور استقامت پیدا ہوجائے تو قرآن خوشخبری دیتا ہے کہ خوف اور غم سے عافیت کا مژدہ فرشتے سنائیں گے۔ جن کا یہ اقرار ہوتاہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ، مالک و خالق ہے اور اسی پر ثابت قدم رہتے ہیں ایسی سعید روحوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو یہ پیغام دیتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہوجاﺅ کہ اس جنت کی بشارت ہے جس کا تم سے وعدہ کیاگیاہے۔

3۔ایمان اور عمل صالح :

ایمان اور اعمال کو نجات اور کامیابی کا ذریعہ بتایا گیاہے ۔ اہل ایمان میں سے جو اپنی ہستی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک اعمال اختیا ر کرے ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ کے پاس بیش بہا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے مایوسی ، خوف اور رنج کا کوئی موقع نہیں ۔ قرآن میں اللہ کا پیغام ہے ”بے شک جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ۔(سورة البقرة ۲:۲۷۷) اسلام کی تعلیمات تو بندہ مومن کو یہ ہی پیغام دیتی ہیں کہ نقصان اور گھاٹے سے بچناچاہتے ہو تو ایمان لاﺅ ، نیک اعمال کرو ، حق اور صبر کی نصیحت بھی کرو اور اسی پر استقامت سے قائم رہو۔

4۔فضائل تقویٰ اور اس کے اثرات :سلف صالحین ، صحابہ کرام ؓ اور دین کی راہ پر چلنے والوں کو یہ عادت رہی ہے کہ ایک دوسرے سے رخصت ہوتے تھے تو کہتے کچھ نصیحت کی جائے ۔ چھوٹے اپنے بڑوں سے نصیحت کی فرمائشیں کرتے اور بڑے اپنے چھوٹوں سے نصیحت طلب کرتے تھے ۔ عام طور سے سلف کی یہ ہی نصیحت ہوتی تھی کہ میں تمہیں تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتاہوںجو شخص اللہ کے لیے تقویٰ اختیار کرتاہے اللہ اُس کے لیے مشکلات میں ایسے راستے کھولتا ہے کہ اُس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا ۔ مشکل میں پھنسا ہوا ہے اور ہر طرف سے راستے بند محسوس ہوتے ہیں غیب سے سامان ہوتاہے اور راہ نکل آتی ہے اور وہ مشکلات سے نکل جاتاہے ۔ جو تقویٰ اختیار کرتاہے اُس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ مشکلات میں اُس کے کام آتے ہیں ، حق تعالیٰ اُس کو ایسے انداز سے رزق دیتے ہیں کہ اُسے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ، جوتقویٰ اختیار کرتاہے اللہ تعالیٰ اس کی غلطیوں اور گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرنے والے کے اجر و ثواب کو اللہ تعالیٰ بہت بڑھا دیتے ہیں۔

تقویٰ کے معنی ڈرنے اور خوف کے ہیں جس کا حاصل تو یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو اور خوف و خشیت اختیار کرو کسی حالت میں بے فکر ہو کر مت بیٹھو خواہ دولت مند ہو ، خواہ مفلس ہو ہر حالت میں اللہ کا ڈر انسان کو رہنا چاہیے اگر ہم اس پر غور کریں کہ جتنے جرائم ہیں، مصیبتیں ہیں وہ اللہ کے ڈر سے ہی ختم ہوتی ہیں۔ جرائم کو نہ پولیس روک سکتی ہے نہ فوج روک سکتی ہے اور نہ ہتھیار روک سکتے ہیںجب تک کہ دل میں ڈرا ور خوف خداوندی نہ ہوگا ۔ آدمی جرائم سے بچ نہیں سکتا۔ انسانی معاشرہ میں بغض ، کینہ ، حسد ، چغلی ، غیبت ، نفاق ، انسان کو گھن کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ اس کاعلاج بھی تقویٰ ہے ۔ تقویٰ کی بنیاد پر نیک اعمال ہی اس بربادی سے بچاﺅ کا واحد راستہ ہیں۔

4۔اللہ کے لیے انفاق :

انفاق فی سبیل اللہ کرنے والوں کے لیے اجراور خوشخبری تویہ ہی ہے کہ وہ رنج ، غم ، نقصانات سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کا دیا ہوا

 مال اللہ ہی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور خر چ کرنے کے بعد احسان نہیں جتاتے نہ دکھ دیتے ہیں ۔ ایسے افراد کا اجر اللہ کے پاس ہوتاہے جنہیں اللہ بہت سی مشکلات اور آزمائشوں سے محفوظ رکھتاہے ۔ اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں جو انفاق کیا جاتاہے وہ بہت اہم ہے۔ مال خرچ کرنا بھی بہت اہم ہے لیکن اللہ کے لیے ، اللہ کے دین کی اقامت کے لیے وقت کا ایثار ، اپنی خواہشات اور آراءکا ایثار ،اخلاص کی نیت پر کی گئی کوششوں کے باوجود کامیابی کی بجائے ناکامی پر غم وغصہ کی بجائے صبر واستقامت حقیقت میں اللہ کے لیے انفاق کے زمرے میں آتاہے جس کا بڑا اجر ہے ۔ آج جن حالات سے اہل ایمان دوچار ہیں ، چہار اطراف سے لادینیت ، بے مقصد زندگی ، خوف ، لالچ اور مفادات کی یلغار ہے ، اہل حق کو مال و دولت ، ظلم وجبر ، ذرائع ابلاغ کی طاقت سے دیوار لگانے کی واردات مسلسل جاری ہے ۔ اس کے لیے اللہ کے دین کی محبت رکھنے والے اور اللہ کے دین کے غلبہ کی کوشش کرنے والوں کے لیے صبر و استقامت ،باہمی اعتماد ،صفوں کو متحد رکھنا اور کفر والہاد کے مقابلہ میں سیسہ پلائی دیوار بننے کے لیے ہر ہر محاذ پر اللہ کے لیے استقامت اور اللہ ہی کے لیے انفاق ہی دنیا وآخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔     ٭

مزید : کالم