قائم علی شاہ سے قائم علی شاہ تک

قائم علی شاہ سے قائم علی شاہ تک
قائم علی شاہ سے قائم علی شاہ تک

  

5مئی کو قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ ” ہم نے پانچ سالہ دور میں سندھ کی عزت ووقار کو بڑھا یا ہے“.... یہ دعویٰ ایسا تھا کہ عوام الناس اگر سر پیٹتے ہوئے اور کپڑے پھاڑ کر اظہار افسوس کے لئے سڑکوں پر نکل آتے تو کم ہوتا، مگر شاباش ہے پیپلز پارٹی کی قیادت کو جس نے ”ہورچوپو“ کہہ کر آئندہ پانچ سال کے لئے بھی وزارت اعلیٰ قائم علی شاہ کے نام لکھ دی۔ اب یقینی طور پر قائم علی شاہ گزشتہ پانچ سال کی طرح آنے والے پانچ سال میں سندھ کی عزت ووقار کو بڑھانے ،بلکہ بام عروج پر لے جانے کے لئے بڑھاپے میں جوانوں کی طرح کام کر کے عوام کو نانی یاد دلادیں گے، کیونکہ آصف علی زرداری کے بقول :”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ ۔

28فروری کو کراچی بد امنی کیس میں سپریم کورٹ نے استفسار کیا تھا : ”ہر آدمی ٹپی ٹپی کرتا ہے، یہ ہے کون“؟....مگر اب عزت مآب اویس مظفر ٹپی انتخابات کے ذریعے پردے کے پیچھے سے سامنے آگئے ہیں اور ٹھٹھہ سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو گئے ہیں، لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکے گا کہ قائم علی شاہ تو ڈمی ہیں، اصل وزیر اعلیٰ مظفر ٹپی ہیں، بلکہ اب اویس مظفر ٹپی سامنے بیٹھ کر وہ سب کچھ کریں گے، جو پہلے پردے کے پیچھے سے کرتے تھے۔سچ بات یہ ہے کہ اس سے بہتر انتظام ہو نہیں سکتا تھا کہ پردہ قائم علی شاہ کے نام سے اُٹھے اور آنکھ لڑائیں اویس مظفر ٹپی۔

جس طرح 6مارچ کو سپریم کورٹ نے کہا تھا : ”وزیر اعلیٰ کو کچھ پتہ نہیں“؟ اور 21مارچ کو کہا تھا: ”پتہ نہیں چلتا کراچی کس کے رحم و کرم پر ہے“، اسی طرح ممکن ہے اسے پھر کہنا پڑے: ”وزیر اعلیٰ کو کچھ پتہ نہیں“.... مگر اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے بے خبر ہونے کے تاثر سے معصوم اور بے خطا ہونے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے اور بڑے سے بڑے واقعہ کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ پر عائد کرنے والے شرمندہ ہوسکتے ہیں، جبکہ دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے فیصلہ ساز زیر بحث نہیں آتے .... ”تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو “ کی طرح وہ سب کچھ کرتے ہیں اور کوئی نہیں جان سکتا کہ کس کے حکم سے ہو رہا ہے۔

مگر اس کا سچ مچ یہ مطلب نہیں کہ قائم علی شاہ کو کچھ پتہ نہیں ، وہ ترنگ میں رہتے ہیں اور وزیر اعلیٰ ہاو¿س کا پتہ بھی منظور وسان سے پوچھتے ہیں ۔در حقیقت وہ بہت ہوشیار اور جہاں دیدہ ہیں۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کا دور دیکھا، پھر بےنظیر بھٹو کا دور دیکھا اور اب آصف علی زرداری کا دور دیکھ رہے ہیں۔ جس کسی کو ان کے تجربے، علم، ہوشیاری اور سیاسی سوجھ بوجھ پر شک ہو، وہ مشکل سے مشکل سوال کر کے دیکھ لے،قائم علی شاہ فوراً بتا دیں گے کہ اویس مظفر ٹپی، صدر آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی ہیں اور کہاں سے چلے تھے اور کہاں تک آگئے ہیں؟ اسی طرح انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ فریال تالپور، صدرآصف علی زرداری کی بہن ہیں، یہاں تک کہ وہ نوابشاہ کے وکیل ضیاءالحسن لنجار کا مقام ومرتبہ بھی جانتے ہیں اور انہیں فریال تالپور کے حکم نامے کی طرح آنکھوں پر سجاتے ہیں۔ بھلا اتنا حقیقت شناس اور واقف حال شخص پیپلز پارٹی کو اور کہاں ملتا؟ لہٰذا قائم علی شاہ کو بہترین انتخاب کہا جا سکتا ہے۔ سندھی قوم پرستوں، دانشوروں اور صحافیوں کی کڑوی باتوں کو چھوڑیں، یہ دیکھیں کہ قائم علی شاہ کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ نامزد کرنے پر سندھ کےعزت ووقار میں یکلخت کتنا اضافہ ہو گیا ہے، لہٰذا آگے چل کر جب وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے وزیر اعلیٰ ہاو¿س پر ان کے نام کی تختی آویزاں ہو جائے گی تو سندھ کی عزت میں اور کتنا اضافہ ہوگا۔

ممکن ہے منظور وسان نے شرارتاً یہ شوشہ چھوڑا ہو کہ انہوں نے خواب میں کسی نوجوان کو وزیر اعلیٰ دیکھا ہے، مگر غور کیاجائے تو یہ شرارت نہیں تھی، بلکہ اس پوشیدہ حقیقت کا اظہار تھا کہ پہلے کی طرح وزیر اعلیٰ نوجوان ٹپی ہوں گے جو ”ادی “فریال کی ہدایت اور رہنمائی میں ٹرانسفر، پوسٹنگ، ٹھیکوں، ملازمتوں وغیرہ کے تمام امور اس طرح خوبی کے ساتھ سر انجام دیں گے کہ قائم علی شاہ پھر کہہ سکیں: ”ہم نے سندھ کی عزت و وقار کو بڑھایا ہے“....یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سندھی میں ”ادی“ بہن کو کہا جاتا ہے اور ”ادا“ بھائی کو کہتے ہیں ،لہٰذا کوئی اردو داں غلط فہمی میں اسے آدھی اور آدھایا نصف نہ پڑھے اور انگریزی کے ففٹی ففٹی کا ترجمہ نہ سمجھے۔ ویسے بھی اب ففٹی ففٹی کا نہیں ”ہنڈرڈ پرسینٹ“ کا دور ہے۔

ایک بار قائم علی شاہ نے 2010ءمیں یہ کوشش کی تھی کہ عوام کو اصلی اور جعلی وزیر اعلیٰ میں فرق ملحوظ رکھنے کی تلقین کریں، چنانچہ 19جنوری 2010ءکے اخبارات میں خبر چھپی کہ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کو ہدایت کی ہے کہ چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے موصولہ ہدایات کی روشنی میں وزیر اعلیٰ کے احکامات اور جاری کردہ ہدایات کی واضح توثیق و شناخت کی جائے کہ آیا یہ درست ہیں یا فرضی، جعلی اور من گھڑت ہیں، وغیرہ وغیرہ....مگر اب قائم علی شاہ یہ کوشش قطعی نہیں کریں گے اور جو کچھ ہوگا پردے کے پیچھے نہیں،پردے کے سامنے ہوگا، چنانچہ حقیقت شناس لوگ پکار اُٹھیں گے ....”واقعی جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔ ٭

مزید :

کالم -