”مَیں الزام اس کو دیتا تھا، قصور اپنا نکل آیا “

”مَیں الزام اس کو دیتا تھا، قصور اپنا نکل آیا “
”مَیں الزام اس کو دیتا تھا، قصور اپنا نکل آیا “

  

میاں محمد نواز شریف پاکستان کے پہلے سیاست دان ہیں جو تیسری بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے جارہے ہیں۔ قوم کو ان سے بے انتہا توقعات وابستہ ہیں۔ توانائی کے بحران کا حل، زخمی بلوچستان کا علاج، کر چی کرچی کراچی کو دوبارہ جوڑنے کا عمل، عام لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا فوری سدباب اور تدارک کے اقدامات، عام لوگوں کو بلا معاوضہ فوری انصاف کی فراہمی کا بندوبست، بے روزگاری کے عفریت کا مقابلہ، مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کا کام، وغیرہ.... پھر وفاق پاکستان میں موجود اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی اور عملی اعتماد و اتحاد کی فضا بحال کرنے کی ذمہ داری انجام دینا۔ یہ وہ کام ہیں جن کا عام لوگ فوری حل چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کی روک تھام اور خارجہ تعلقات دیگر اہم ترین مسئلے ہیں۔ میاں نوازشریف نے تو ابھی حلف بھی نہیں اٹھایا ہے اور انتخابی مہم کے دوران اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کی نفی شروع کر دی ہے۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔ میاں نوازشریف کہتے ہیں لوگ یہ توقع نہ رکھیں کہ بٹن دباتے ہی بجلی کے بحران کا حل نکل آئے گا۔ اپنی تاویلات میں انہوں نے لوگوں کو جو بھیانک اعداد و شمار بتائے ہیں اس سے تو ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ”نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی“۔ میاں نوازشریف کو اپنی ، ترجیحات بنانا ہوں گی۔ توانائی کے بحران نے عوام کو بے حال کردیا ہے۔ قبل اس کے کہ وہ بے کسی میں کچھ اور کر بیٹھیں ، حل تو تلاش کرنا ہی ہوگا۔ اس بحران کے نتیجے میں لاکھوں گھرانوں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔ انہیں گرم کرنا وزیراعظم کی اہم ترین ذمہ داری ہے.... دریائے فرات کے کنارے اگر ایک کتا بھی بھوکا مرجائے تو خلیفہ وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ عمر سے باز پرس ہوگی۔

لوگوں کو اس بات سے کوئی سرو کار نہیں کہ حکومت پاکستان کے پاس پیسہ ہے یا نہیں، اور پیسہ کہاں سے آئے گا؟ لوگوں کو اپنے مسائل کا حل آج چاہئے ، کل نہیں۔ وہ انتظار اس لئے نہیں کر سکتے کہ وہ بھوک سے مر رہے ہیں ،جبکہ وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حکمران طبقہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ آج توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ یہ اہم ترین سوال ہے۔ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے گھر میں بجلی نہیں ہے اور ان کے ہی شہر کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور رہائش ، افسران کے دفاتر اور رہائش گاہوں میں ایئر کنڈیشنر چل رہے ہیں ، ا ن کے نمائندوں کے گھروں میں بجلی کی فراہمی بلاتعطل جاری ہے ،خواہ وہ جنریٹر کے استعمال سے ہی ہو، تو وہ غصے میں اپنے اعصاب پر قابو کھو دیتے ہیں ۔ پورے ملک میں سوائے ہسپتالوں اور ایسے اداروں کے،جہاں ائر کنڈیشن کی موجودگی اہم ترین ضرورت ہے اور اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا ہے، باقی تمام مقامات پر بشمول ایوان صدر ، ایوان وزیراعظم، پارلیمنٹ ہاﺅس ائیر کنڈیشن کے استعمال پر کم سے کم دو سال کے لئے مکمل پابندی عائد کر دی جائے ۔ جنریٹر پر بھی اس کے استعمال کی ممانعت ہو۔ ان دو سالوں کے دوران جنگی بنیادوں پر توانائی کے متبادل انتظامات کئے جائیں۔ جائزہ لیا جائے کہ بھارت اور ایران سے بجلی خریدی جاسکتی ہے یا نہیں؟

دوم: ضلع کی سطح پر ایوان صنعت و تجارت سے کہا جائے کہ تاجر حضرات کے کنسورشیم بنا کر بجلی پیدا کرنے والے چھوٹے یونٹ میں سرمایہ کاری کریں اور اپنے اپنے علاقوں میں بجلی پیدا کریں۔ ملک بھر میں جہاں جہاں پاور ہاﺅس موجود ہیں ،ان میں سرمایہ کاری کرائی جائے ، ان پاور ہاﺅسوں کو چلانے کے لئے بورڈ تشکیل دیئے جائیں، اور سرمایہ کاری کرنے والے ہی نگرانی کریں۔واپڈا کی اس پابندی کو ختم کیا جائے کہ اس کی اجازت کے بغیر بجلی پیدا اور فروخت نہیں کی جاسکتی۔ غیر معمولی حالات ہمیشہ غیر معمولی اقدامات کا تقا ضہ کرتے یں۔ بجلی تقسیم اور فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں کو ختم کر کے ضلع کی سطح پر مقامی سرمایہ کاروں کی شراکت سے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ بجلی کی چوری اور وصولی کے نظام پر عمل کیا جا سکے۔ بجلی کی چوری کی روک تھام کا آغاز واپڈا اور تقسیم کار کمپینیوں کے ملازمین، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، وفاقی و صوبائی وزراءکے گھروں اور کاروباری دفاتر سے کیا جائے ۔ کاروباری اداروں اور دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ دس مربع فٹ میں صرف ایک سیور بلب روشن کریں گے۔ اندازہ تو لگائیں کہ اس قوم نے کئی بڑے پاور ہاﺅسوں کی قیمت کے برابر پیسے جنریٹر ، یو پی ایس اور بیٹریوں کی خریداری پر خرچ کر دیئے ہیں۔ کاش دانشمند لوگوں کی حکومت ہوتی تو یہ پیسے محفوظ رہ جاتے اور کئی پاور ہاﺅس تعمیر ہوجاتے۔ گیس کے گھریلو اور صنعتی استعمال کی بھی مفصل پالیسی بنائی جائے۔ نگران حکومت کے اس فیصلے پر سختی سے عمل کرایا جائے کہ ایک ہزار سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کو سی این جی فراہم نہیں کیا جائے گی۔ گیس کے استعمال کی پہلی ترجیح صنعتی اداروں کو اس کی مکمل فراہمی ہے۔

میاں نوازشریف کہتے ہیں کہ پنجاب کے عوام نے انتخابات میں دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ وہ اسے دانشمندانہ اس لئے کہتے ہیں کہ بظاہر ان کی لیگ نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں ۔ پھر ارشاد فرماتے ہیں کہ سندھ نے روایتی فیصلہ دیا ہے۔ سندھ نے اسی طرح کا روایتی فیصلہ دیا ہے، جس طرح پنجاب نے دانشمندانہ فیصلہ دیا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف امیدواروں سے معلوم تو کریں کہ انتخابات میں کیا ہوا تھا؟ لوگوں کے ووٹ چوری ہوگئے تھے۔ انتخابات میں جس بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دانستہ خاموش ہیں۔

مسلم لیگ(ن)اس لئے خاموش ہے کہ وہ تنازع کھڑا کرنا نہیں چاہتی ہے، وجہ میاں نوازشریف سے زیادہ بہتر کسی کو نہیں معلوم۔ پیپلز پارٹی اس لئے خاموش ہے کہ ڈھول کا پول کھل جائے گا۔ ٹپی اور ٹھپہ سامنے آجائیں گے۔سب کو جلدی ہے کہ اقتدار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو جائیں۔ رہ گئی با ت صوبہ خیبر پختونخوا کی کہ وہاں لوگوں نے جذباتی فیصلہ دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے ہی دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ ان کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ اس ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ لوگ ایسی تبدیلی چاہتے ہیں کہ بھرے اجتماع میں کوئی بدو کھڑا ہو کر خلیفہ وقت سے پوچھ سکے کہ آپ نے لمبا کرتا کس طرح سلوا لیا، جبکہ آپ کو جو کپڑا ملا تھا وہ تو کم تھا۔ میاں نوازشریف ہوں یا ان کے پیش رو، عام لوگوں سے سوا گز دور رہ کر بھی نہیں ملیں گے تو کیسے معلوم ہوگا کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو مسلم لیگ(ن)کی ماضی کی دو حکومتوں کا تجربہ ہے۔ دونوں ادوار میں حکمرانوں کا طرز حکمرانی شاہانہ تھا، رویہ بادشاہوں جیسا تھا۔ سندھ کے لوگ بادشاہ آدمی کسے کہتے ہیں ، یہ وضاحت لیاقت جتوئی، ارباب غلام رحیم اور غوث علی شاہ کر سکتے ہیں۔

خیبرپختونخواکے لوگوں نے تبدیلی کی خواہش رکھ کر ووٹ دیا ہے اور کیوں نہ دیتے ؟ کب تک یہ ملک خاندانی اور موروثی سیاست کرنے والوں کی جاگیر بنا رہے گا۔ خیبرپختونخواکے عوام نے عمران خان کو امتحان میں ڈال دیا ہے، لیکن میاں نوازشریف کو پنجاب کے لوگوں نے ان کی خواہش پوری کرنے کا سنہری موقع دیا ہے۔ انہیں لوگوں کی امیدوں کی لاج رکھنی ہوگی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ کہنے لگیں کہ ” ہم کو ان سے وفا کی ہے امید، جو نہیں جانتے، وفا کیا ہے “۔ لیگ کو بھی پیپلز پارٹی کی طرح لمیٹڈ کمپنی بنا دیا گیا ہے ۔ بس ایک ہی خاندان کی سرمایہ کاری ہے۔ عام حصص تو برائے نام ہیں ۔ میاں نوازشریف صاحب! مشہور تاریخ داں لارڈ ایکٹن لکھتے ہیں کہ ” اختیارات انسان کو بدعنوان بنادیتے ہیں اور مکمل اختیارات مکمل بد عنوان بنادیتے ہیں“۔ رہ گئے سندھ کے لوگ تو مسلم لیگ(ن) کے امیدوار، کچھ خود اپنی وجہ سے ، کچھ ان کے مخالفین کے ڈبے بھرنے کے سبب کامیاب نہیں ہو سکے اور جو لوگ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوئے ہیں ،انہیں لوگوں نے مسلم لیگ(ن) کی وجہ سے ووٹ نہیں دیئے تھے۔ میاں صاحب کو بہر حال وفاق میں شامل تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ہر فیصلے سے قبل ان کے مضمرات، اثرات اور نتائج کے بارے میں بار بار سوچنا ہوگا کہ چھوٹے صوبوں کے لوگوں میں احساس محرومی پیدا نہ ہونے دیا جائے۔

 انتخابات 2013ءکے نتائج اس لحاظ سے بہتر نظر نہیں آتے کہ تین صوبے مل کر بھی پنجاب کی عدوی اکثریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور جس طرح بقول میاں نوازشریف کے پنجاب کے عوام نے دانشمندانہ فیصلہ دیا ہے، اس کے نتیجے میں تو اس وفاق میں چھوٹے صوبوں کا وزیر اعظم آ ہی نہیں سکتا ۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت کی دانشمندی کا امتحان ہے کہ چھوٹے صوبوں کے ساتھ ایسا برتاﺅ کرے کہ لوگ 1954ءمیں بنائے جانے والے ون یونٹ کا مطالبہ نہ کر بیٹھیں۔ ون یونٹ ہمارے نام نہاد عقلمند اور دانشمند مغربی پاکستانی سیاست دانوں نے کھڑا کیا تھا تاکہ مشرقی پاکستان کے عوام کی عدوی اکثریت کے توڑ کے لئے غیر جمہوری حل تلاش کیا جائے۔

بنگالیوں نے جو بھی شور کیا، احتجاج کیا، مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی، لیکن جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاءکے نفاذ کے بعد ون یونٹ کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔ ”ایک فرد ایک ووٹ“ کی بنیاد پر انتخابات ہوئے ،مغربی پاکستان کے سیاست دانوں نے نتائج تسلیم نہیں کئے ، بنگالیوں کو اقتدار نہیں سونپا گیا اور ملک توڑنا گوارا کر لیا گیا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغربی پاکستان کے جن سیاست دانوں نے بنگالیوں کو اقتدار سونپنے کی مخالفت کی تھی ،وہ آج کے پاکستان میں جو 1954ءکا مغربی پاکستان تھا ، ون یونٹ قائم کرنے کا مطالبہ کھڑا کر دیں۔ وفاق پاکستان کی اس تماش گاہ میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے سیاست کرنا شیر کی سواری کے برابر ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بقول شاعر مومن خان مومن :

” یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا

 مَیں الزام اس کو دیتا تھا، قصور اپنا نکل آیا“

مزید : کالم