بلند حوصلہ جماعت: نئی حکمت عملی کی ضرورت؟

بلند حوصلہ جماعت: نئی حکمت عملی کی ضرورت؟
بلند حوصلہ جماعت: نئی حکمت عملی کی ضرورت؟

  

جماعت اسلامی بہت بلند حوصلہ جماعت ہے۔ جرا¿ت، اخلاص، کردار اور ایثارجماعت کے لوگوں کی پہچان ہے۔ قومی بحرانوں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔سیلاب ہو یا زلزلہ، یہ لوگ سب سے پہلے مصیبت زدہ افراد تک پہنچتے ہیں اور سب سے زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔ مستحق طلبہ، بے سہارا اور نادار لوگوں کی مسلسل مدد کرنے کا بڑا مو¿ثر نیٹ ورک قائم ہے، شائد ہی کسی سیاسی جماعت کا ایسا وسیع اور مربوط نظام ہو۔ حق داروں تک امانتیں پہنچانے کا اتنا شفاف نظام ہے کہ لوگ آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتے ہیں اور اپنی امانتیں ان کے سپرد کرتے ہیں۔ جماعت ملک کی سلامتی کے لئے کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹی، متحدہ پاکستان کی سا لمیت کی آخری جنگ میں اس نے اپنے ہزاروں لوگوں کی قربانی دی،جس کا ”اجر،، وہ آج بھی بھگت رہے ہیں ۔ سیاسی میدان میں بھی جماعت بڑی فعال رہی ہے۔اسے حکومت میں آنے کا کم کم موقعہ ملا، مگر جہاں کہیں بھی اختیار ملا اس کے نمائندوں نے ایمانداری سے فرائض ادا کئے،ان پر کسی قسم کی کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا،لیکن نہ جانے کیا معمہ ہے کہ لسانی و نسلی تعصبات سے بے نیازہوکرنہایت دردمندی سے انسانی خدمت کرنے والے،ایثار و قربانی میں گندھے اور نظم و ضبط میں بندھے اتنے باکمال اوراتنے اجلے کردارکے لوگ انتخابی میدان سے خالی ہاتھ لوٹتے ہیں؟ عوام سے ان کا رابطہ مو¿ثر نہیں ہے،ان کی سیاسی پالیسیاںعوامی امنگوں کی عکاس نہیں،ان کا پیغام عوام کے لئے ناقابل فہم ہے، یا عوام کے انتخابی اور سیاسی پیمانے کچھ اور ہیں اور اخلاقی پیمانے کچھ اور؟

 بڑے بلند حوصلہ لوگ ہیں،بار بار کے حوصلہ شکن نتائج کے باوجودہرالیکشن میں پوری تندہی سے انتخابی مہم چلاتے ہےں۔جماعت نے 1970ءسے 2013ءتک دس عام انتخابات میں سے آٹھ میں حصہ لیا۔1997ءاور 2008ءکے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔1970ءاور 2013ءمیں جماعت نے بغیر کسی اتحاد کے اپنے نام اور ترازو کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑا، جبکہ1993ءمیں پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے الیکشن لڑا۔ 1988ءاور 1990ءمیں مسلم لیگ کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوری اتحاد بنا یا اورکامیاب ہوکر حکومت میں شامل ہوئے، جبکہ 2002ءمیں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا اور خیبرپختونخوا کی حکومت میں شامل رہی۔

1970ءکے انتخابات میں پیپلز پارٹی سے سخت مقابلے کی توقع کی جارہی تھی، لیکن نتائج آئے تو جماعت صرف چار نشستیں حاصل کرپائی۔کراچی سے پروفیسر عبدالغفوراور محمود اعظم فاروقی،راجن پور جیسے پسماندہ اور جاگیردارانہ علاقے سے سابق صدر فاروق لغاری کے والد کے مقابلے میں کامیاب ہونے والے ڈاکٹر نذیر اور دیر سے صاحبزادہ صفی اللہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ڈاکٹر نذیر اسمبلی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو خوب لتاڑتے تھے، ان کی حق گوئی انہیں مقام شہادت تک لے گئی۔ 1985ءمیںجنرل ضیاءالحق نے غیر جماعتی انتخابات کرائے تو جماعت نے دس نشستیں حاصل کیں۔مقتدر قوتوں کی خواہش پر اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو جماعت اس کا اہم حصہ تھی،حکومت میں وزارتیں بھی لیں، مگر 1992ءمیں مسلم لیگ(ن) سے اختلاف ہوگیا تو جماعت علیحدہ ہوگئی۔ 1993ءمیں اس نے نیا تجربہ کیااور پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے الیکشن میں حصہ لیا اور بڑی تعداد میں امیدوار کھڑے کئے،تشہیری مہم سے لگتا تھا جماعت بہت بڑی سیاسی قوت بن کر اُبھرے گی، لیکن نتیجہ آیا توپھر وہی چار نشستیں،نتائج حوصلہ توڑنے والے تھے، لیکن جماعت کے لوگ ہمت نہیں ہارے۔اگلے الیکشن کا بائیکاٹ کرکے پچھلے الیکشن کی ساری محنت دریا بردکردی ۔

جنرل(ر) پرویز مشرف کے تحت کرائے گئے پہلے انتخابات میں جماعت نے متحدہ مجلس عمل کے اتحادمیں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی، خیبر پختونخواکی حکومت میں شریک ہوئی ۔اگرچہ مولانا فضل الرحمن کے زیر سایہ قائم حکومت کرپشن الزامات کی زد میں رہی، مگر جماعت اسلامی کے لوگوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھی۔2008ءمیں جماعت اسلامی نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے تحت انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کردیا اور ایک بار پھر محنت و مشقت سے جمع کیا گیا ووٹ بنک دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔ حالیہ الیکشن میں جماعت کی خواہش تھی کہ مسلم لیگ (ن) یا تحریک انصاف سے اتحاد ہوجائے اور آخری وقت تک رابطوں کا سلسلہ جاری رہا ،مگر بوجوہ کسی سے بھی اتحاد نہ ہوا تو تن تنہا میدان میں اترنا پڑا۔نتیجہ پھر وہی چار نشستیں۔ جماعت گزشتہ انتخابات میں چار پانچ فیصدووٹ حاصل کرتی رہی، لیکن اس الیکشن میں یہ شرح دو فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے.... کیا اب بھی جماعت اپنی حکمت عملی کو بڑے منظر میں رکھ کر سوچنے کو تیار نہیں ہوگی؟اس میں کیا شک ہے کہ جماعت کے لوگ حوصلہ شکن نتائج سے بے حوصلہ نہیں ہوتے، لیکن کیا نتائج سے بے نیاز ہوکر قیمتی افرادکوکم ثمر جدوجہد میں استعمال(یا ضائع) کرتے رہنا دانشمندی ہے ؟

بنیادی پالیسی ایشوز کے علاوہ کچھ مسائل سیاسی اور انتخابی حکمت عملی کے بھی ہیں۔ جماعت کی ساری انتخابی جدوجہد اس تصور پر ہے کہ مسلمان معاشرے میں لوگ اسلامی نظام کی حمایت کریں گے....کون نہیں چاہے گا کہ صالح قیادت ملک کی باگ ڈور سنبھالے،یہ سب کچھ چاہنے والے ایسے لوگوں کو ووٹ کیوں نہیں دیں گے جو اُجلا کردار، صاف اور چمکتا ماضی رکھتے ہوں،جو معاشرے میں سچے، کھرے اور صالح انسان کی پہچان رکھتے ہوں،لیکن انتخابی تاریخ نے ثابت کیا کہ صرف صالح ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں۔یہ مسلمان معاشرہ نیک اور صاف کردار شخص کو سر آنکھوں پرتو بٹھاتا ہے، لیکن اسمبلی میں نہیں پہنچاتا۔ عوام اس سیاست دان کو اپنے ووٹ کا اہل سمجھتے ہیں جو مشکل وقت میں ان کی مدد کرنے کی اہلیت رکھتا ہو،چاہے یہ مشکل وقت ساری زندگی نہ آئے ،بس اس کو سہارے کا احساس اس چوکھٹ سے باندھے رکھتا ہے ۔جماعت کے امیدوار مستقل نہیں ہوتے ،انہیں الیکشن سے کچھ عرصہ قبل جماعت کی طرف سے حکم ملتا ہے کہ الیکشن لڑیں اور وہ امیدوار بن کر حلقے میں خود کو متعارف کرانے چل پڑتے ہیں۔یہ ”صالح“ امیدوار، ان مستقل امیدواروں کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں، جو سال ہا سال اور دہائیوں سے عوام سے رابطے میںہیں، ان کے دُکھ سکھ میں شریک ہو رہے ہیں، احسانات اور نوازشات کا ایک سلسلہ جاری ہوتا ہے،ان کا خاندان اور برادری نے ایک نیٹ ورک بُنا ہوتا ہے، جو کامیابی کے لئے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں قلابازیاں لگاتے رہتے ہیں۔

جماعت اسلامی کی منزل ملک میں اسلامی نظام کا قیام ہے اور انتخابات اس کا راستہ، لیکن اگر انتخابات منزل کو قریب ترنہیں کر رہے تو پھر بھی جان جوکھوں سے حاصل کئے گئے وسائل اور مردانِ کار اس راستے میں کیوںجھونکتے چلے جائیں؟بڑے فیصلوں کے لئے بڑی جرا¿ت اور دانش کی ضرورت ہوتی ہے ،کیا جماعت کے اندر پامال رستوں سے ہٹ کرنئی جہتوں میںسوچنے والے کم ہوگئے ہیں؟ان جماعتوں میں فکری جمود پیدا ہوجاتا ہے جو اپنے اندر تحقیق اور تخلیق کی حوصلہ افزائی نہیں کرتیں،جو اپنے بانی،اپنے پیشوا،اپنے مرشد کے ارشادات، خیالات اور نظریات کو عقیدت میں لپیٹ کر عقیدے کا درجہ دے دیتے ہیں۔بلند حوصلہ جماعت کے لئے اب سوچ سمجھ کر راہ متعین کرنے کا وقت ہے !   ٭

مزید :

کالم -