کالا باغ ڈیم:بجلی کی لوڈشیڈنگ کا حل

کالا باغ ڈیم:بجلی کی لوڈشیڈنگ کا حل
کالا باغ ڈیم:بجلی کی لوڈشیڈنگ کا حل

  

یوم تکبیر کے موقع پر ایوانِ کارکنان پاکستان میں منعقد خصوصی تقریب میں ڈاکٹر مجید نظامی، چیف ایگزیکٹو نوائے وقت گروپ نے اپنے استقبالیہ خطاب میں آئندہ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد نواز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں، جس کے جواب میں میاں نواز شریف نے بھاشا ڈیم اور چند دوسرے ڈیموں کا تذکرہ کیا کہ وہ ان ڈیموں پر خصوصی توجہ دیں گے۔ میاں نواز شریف کو چاروں صوبوں کے عوام نے ایک مینڈیٹ دیا ہے اور یہ وہ پوزیشن ہے، جہاں وہ باہمی افہام و تفہیم کی فضا بنا کر اس اہم قومی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ہمارے حکمران کالا باغ ڈیم کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر کے پیچھے کیوں ہٹ جاتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف اپنے دور اقتدار میں اس پوزیشن میں تھے کہ وہ اس منصوبے پر کام کا آغاز کریں ، انہوں نے بڑی تیزی سے اس پر صوبوں کے درمیان افہام و تفہیم کے لئے بات چیت بھی شروع کی۔

میرے ایک دوست نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو خط لکھا کہ آپ کہتے ہیں کہ مَیں کمانڈو ہوں اور جس تیزی سے آپ نے کام شروع کیا ہے، اس سے پیچھے نہیں ہٹنا، اس پر جنرل (ر) پرویز مشرف کا جواب تھا کہ مَیں اپنی بات کا پکا ہوں اور یہ ضرور بنے گا، مگر صرف دو ماہ بعد ہی انہوں نے اپنے ارادے ملتوی کر دئیے اور منصوبہ پھر دھرے کا دھرا رہ گیا اور آج بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جو صورت حال ہے، وہ ہمارے انہی ادھورے منصوبوں کی وجہ سے ہے۔ اگر ہم ڈاکٹر مجید نظامی کی رائے پر ایٹمی دھماکے کر سکتے ہیں تو میاں نواز شریف کو چاہئے کہ وہ اس اہم تجویز پر بھی غور کرتے ہوئے کم از کم اس منصوبہ کے بارے میں سب صوبوں کو اعتماد میں لیں اور وہ کچھ کر گزریں، جس کی خواہش نہ صرف ڈاکٹر مجید نظامی جیسے مدبر شخص نے کی ہے، بلکہ ہر وہ پاکستانی کر رہا ہے جو ملک کا خیر خواہ ہے اور ملک کو بجلی اور پانی جیسے مسائل سے چھٹکاروہ دلوانا چاہتا ہے۔

خداوند عظیم نے فرمایا ہے کہ مَیں نے دنیا کی ابتداءپانی سے کی ہے اور کسی بھی ملک کی بقا اور سلامتی کا دارومدار اس کے پانی کے ذخائر ہوتے ہیں، کیونکہ پانی ہوگا تو غذائی تحفظ کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ پانی ملے گا تو فصلوں کی افزائش ہوگی۔غلے کی فراوانی ہوگی اور لوگوں کو بھوک سے نجات ملے گی۔ کشمیر کا مسئلہ لوگوں کی رائے دہی کے علاوہ پاکستان کے لئے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہیں سے پاکستانی دریاو¿ں کو پانی ملتا ہے، اسی لئے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ کشمیر، جسے ہماری حکومتوں نے بھلا دیا ہے، آج بھی اس کا آزاد ہونا پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔ بھارت کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں کوئی جان ہوتی تو آج ہمارے دریا خشک اور سوکھے ہوئے نہ ہوتے۔ سندھ طاس کا معاہدہ بھی غیر منصفانہ اور غیر فطری نظر آتا ہے، کیونکہ اسی معاہدہ کے تحت عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور تین دریاو¿ں ستلج، بیاس اور راوی کا پانی مکمل طور پر بھارت کو دے کر پاکستان کے لئے بہت سے مسائل کھڑے ہو چکے ہیں۔

یہ جنرل ایوب خان کی سنگین غلطی تھی کہ وہ ورلڈ بینک اور امریکہ کے دباو¿ میں آکر ملک کا نقصان کر بیٹھے۔ اس فیصلے کے بعد ان دریاو¿ں کے اردگرد رہنے والوں کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں آیا اور وہ ان مقامات سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جنرل ایوب خان کی اس غلطی کا خمیازہ قوم مختلف شکلوں میں بھگت رہی ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو سمجھا ہی نہیں۔ پاکستان کے اکثر حکمران بھارت سے بات کرتے ہوئے غالباً نروس ہو جاتے ہیں۔ ایوب خان کا بھی کچھ یہی حال تھا۔ اسی لئے دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ غیر ضروری منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں، مگر ضروری اہمیت کے منصوبوں کو زیر التواءرکھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج پورا ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے، اس کے باوجود روشن پاکستان کا نعرہ لگا کر الیکشن بھی جیتے جا سکتے ہیں، کیونکہ لوگوں کی تنگی بہت زیادہ ہے۔نہ کاروبارِ زندگی چل رہا ہے اور نہ ہی کوئی کارخانہ اپنی پوری استعداد کے ساتھ پیداوار دے کر ملک کو کوئی اقتصادی فائدہ پہنچا رہا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی فوجی حکومت آتی ہے، عوام زیر التواءمسئلوں اور منصوبوں کے لئے ان سے امید لگا لیتے ہیں، مگر جنرل پرویز مشرف کا احوال تو آپ جان ہی چکے، وہ بھی کالا باغ ڈیم جیسے مسئلے کو حل کرنے سے گریز کر گئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جنرل ایوب خان اسلام آباد نہ بناتے اور کالا باغ ڈیم بنا جاتے تو پاکستان اقتصادی لحاظ سے بہت مضبوط ہو جاتا۔

بھارت کے حکمران اس لحاظ سے بہت اچھے رہے کہ انہوں نے ہزار سے زیادہ ڈیم بنائے، جنہوں نے ملک کو اقتصادی لحاظ سے اس قابل بنا دیا کہ وہ دنیا کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ یہاں 1964ءمیں اگر کالا باغ ڈیم شروع ہو جاتا تو ہمارا ہر شہر اسلام آباد ہوتا۔ ہم بھی دنیا کے برابر کھڑے ہو سکتے اور ہمارا امداد دینے والی تنظیموں سے کوئی تعلق نہ رہتا اور ہم کشکول لے کر ان کے پیچھے نہ پھر رہے ہوتے، جبکہ امریکہ بھی ہم سے اپنی شرائط نہ منوا رہا ہوتا۔ سندھ طاس معاہدے سے پہلے دریائے سندھ پر کوئی ڈیم نہیں تھا اور نہریں سیلابی پانی سے صرف تین ماہ چلا کرتی تھیں، جبکہ معاہدے کے بعد دریائے جہلم اور دریائے سندھ پر ڈیم تعمیر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اُن دریاو¿ں کو، سندھ طاس معاہدے کے تحت جن کا پانی بھارت کو دے دیا گیا،ان کو متبادل نظام دے دیا جائے، مگر بعد ازاں سندھی رہنماو¿ں نے سندھ کا پانی سندھ کے لئے رکھنے کا کہنا شروع کر دیا اور سندھ کی نہریں پورا سال چلنا شروع ہوگئیں، جبکہ راوی، ستلج، بیاس کی صورت حال وہی رہی جو پہلے بتائی گئی ہے۔ حقیقت دیکھی جائے تو دریائے سندھ کا زیادہ حصہ خیبر پختونخوا اور پنجاب سے گزرتا ہے اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کا بھی زیادہ فائدہ سندھ کو ہی ہوا۔

اب حالت یہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی نہریں فی ہزار ایکڑ اوسطاً4.2 کیوسک فٹ پانی کے ساتھ چل رہی ہیں، جبکہ سندھ میں یہی اعداد و شمار11 کیوسک فٹ فی ہزار ایکڑ ہیں جو ایک بڑی ناانصافی ہے۔ پنجاب کے زرعی حلقے ہمیشہ اس سلسلے میں مطالبہ کرتے چلے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ نقصان جنوبی پنجاب، خصوصاً بہاولپور کا ہوتا ہے، جہاں جانوروں کو بھی ضرورت کے مطابق پانی نہیں مل رہا اور وہ اس شدید ناانصافی پر نالاں ہیں۔ سندھ کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ پہلے تربیلا ڈیم سے جو فائدہ سندھ کی نہروں اور زمینوں کو ہُوا ،وہ کالا باغ کی تعمیر سے سندھ کو پھر ہوگا اور ساتھ ہی دوسرے صوبوں میں بھی پانی کی بہتات ہوگی تو مسائل کم ہوں گے اور خوش حالی کا دور دورہ ہوگا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے فائدہ اٹھانے کے لئے سب سے آگے تو ہوتے ہیں، مگر وہ اس کی افادیت کو سمجھنے کے لئے سب سے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔

اس ملک کے تمام انجینئرز، دانشور اور سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد ایسے منصوبوں کو قابلِ عمل اور ضروری منصوبے قرار دیتے ہیں، مگر اس کی مخالفت میں چند سیاسی رہنما ہی ہوتے ہیں جو قطعی سمجھ میں نہ آنے والی رائے دے کر منصوبے کو مسلسل التواءمیں رکھ رہے ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف اس کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ مسائل بڑھتے جا رہے ہیں جن کا شاید آئندہ چل کر کوئی حل نہ نکل سکے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ شروع کیا جائے، مگر ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر مجید نظامی کے واضح مطالبے کے باوجود میاں محمد نواز شریف نے جوابی تقریر میں اس پر بات نہیں کی اور بھاشا ڈیم وغیرہ کی بات کر کے اپنی پالیسی واضح کر دی۔

یہ ضروری ہے کہ میاں نواز شریف جو تیسری بار حلف اُٹھانے جا رہے ہیں، اُن سے توقعات بہت زیادہ ہیں اور وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ ایک قومی لیڈر کے طور پر مفاہمت کرتے ہوئے کالا باغ ڈیم کے سلسلے میں تمام صوبوں کو اکٹھا کرنے کا تاریخی کام انجام دیں، جہاں تک باقی ڈیموں کا تعلق ہے، وہ بھی ملک کو اقتصادی طور پر خوشحال بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر کالا باغ ڈیم کی اہمیت مسلم ہے، اسے بناتا آج کل ہر طرف پھیلے ہوئے مسائل کا ایک اہم حل ہے۔ ہم مستقبل کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ان گزارشات پر غور کرتے ہوئے اسے اہم تصور کریں گے اور اس سلسلہ میں عملی اقدامات اُٹھاتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کریں گے، کیونکہ وہ یہ کر سکتے ہیں اللہ انہیں ہمت دے کہ وہ ایک پُرعزم لیڈر ہیں، جن کی راتوں کی نیند مسائل کا سوچ کر اُڑی ہوئی ہے تو میاں نواز شریف آگے بڑھیں اور ان مسائل کو کم کرنے والے منصوبہ کا آغاز کریں، اللہ آپ کی مدد کرے گا۔  ٭

مزید : کالم