ارکانِ اسمبلی کے نام محمد شہباز شریف کا خط

ارکانِ اسمبلی کے نام محمد شہباز شریف کا خط

نامزد وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے ملک بھر سے مسلم لیگ ن کے نو منتخب ارکانِ اسمبلی کو خط لکھا ہے جس میں ان سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ جیسے سنگین مسائل سے نمنٹنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ سادگی اور بچت کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے مسلم لیگ کی حکومت سے تعاون کریں۔ عام لوگوں کی مشکلات میں کمی کرکے ان کی زندگی بہتر بنانے کے لئے دن رات محنت سے کام لیں۔ ہم لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی جیسے مسائل پر قابو پائے بغیر بیروزگاری، مہنگائی اور پسماندگی جیسے مسائل حل نہیں کرسکتے۔ پاکستان کو اس وقت وسائل کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال ہم سے انتہائی محنت کے ساتھ ساتھ دیانت ، قربانی اور ایثار کا تقاضا کرتی ہے۔ آپ سے توقع ہے کہ آپ حکومت کے دست و بازو ثابت ہوں گے۔ عوام آپ کی توجہ اور تعاون کے منتظر ہیں۔

جناب محمد شہباز شریف کی طرف سے ارکان اسمبلی کے نام یہ مراسلہ ایک رسمی تحریر ہی نہیں بلکہ ان کے دل کی آواز اور عوامی امنگوں اور آرزوﺅں کی صحیح ترجمانی بھی ہے۔ پاکستانی عوام کو ارکانِ اسمبلی سے یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ انتخابات کے دنوں میں تو ان سے بہت پرکشش وعدے کرتے ہیں لیکن پھر پانچ سال کے لئے ان سے رابطہ منقطع کرلیتے ہیں،نہ وعدے پورے ہوتے ہیں نہ وہ عوام کو دکھائی دیتے ہیں ،وہ مفادات سمیٹنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ انتخابات میں اپنی بھاری سرمایہ کاری سے کئی گنا زیادہ کمانے کا ہدف پورا کرنے پر تل جاتے ہیں۔ لیکن موجودہ سنگین ملکی حالا ت میں سیاستدانوں کے لئے اپنی اس روائتی روش پر قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔ انہیں عوام میں رہنا اور عوام کے لئے کام کرنا ہوگا۔ ورنہ ان کے لئے اور ان کی حکومت کے لئے مسائل کا اژدھا منہ کھولے کھڑا ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ ارکان اسمبلی عوام کی صفوں میں موجود رہیں ۔ ان کے لئے حکومت کی طرف سے بھی پالیسی بنائی جانی چاہئیے کہ وہ کس طرح دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے مختلف علاقوں میں نوجوانوں اور تجربہ کا رلوگوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں ،جو اپنے اپنے علاقے کے مشکوک افراد اور مشکوک گاڑیوں پر نظر رکھیں۔ اپنے علاقے میں کسی بھی جگہ کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دیں ۔ کسی بھی تنظیم یا شخض کو ملک دشمنوں کے لئے کام نہ کرنے دیں۔ پھر ان رضاکار نوجوانوں کا رابطہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں سے کرایا جائے ۔کسی طرح کے جرائم اور غیر قانونی واقعات کے خلاف فوری اور موثر اقدام کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ارکان اسمبلی اپنی صفوں میں جرائم پیشہ لوگوں کو نہ گھسنے دیں ۔ یہ بہت عام ہے کہ علاقے کے جرائم پیشہ لوگ انتخابات کے دنوں میں امیدواروں کو اپنے گھیرے میں لے کر سرگرمی سے ان کے لئے کام شروع کردیتے ہیں یا کم از کم خود کو ان کا مخلص اور متحرک کارکن ہونے کا تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، پھر یہی لوگ ہر وقت ان کے ارد گرد رہنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے سیاسی ورکروں سے پیچھا چھڑائے اور پرامن شریف شہریوں کے درمیان آئے بغیر ارکان اسمبلی کوئی حقیقی تعمیری کام کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے۔

اسی طرح بجلی کی بچت اور اس کی چوری کے خلاف مہم چلانے کے لئے بھی الگ کمیٹیاں بنائی جانی چاہئیں ، جو عوام میں سادگی اور کفایت شعاری کے علاوہ بجلی کی بچت کے لئے ترغیب و تحریص اور ضروری رہنمائی کا کام کریں ۔ایئر کنڈیشنرز کے کم سے کم استعمال کے لئے ارکان ذاتی مثال قائم کرکے لوگوں کو ترغیب دے سکتے ہیں۔ غیر ضروری روشنیوں کے استعمال سے اجتناب کے لئے بھی عوام میں آگہی مہم ڈور ٹو ڈور رضاکار بھیج کر کامیاب بنائی جاسکتی ہے۔ قوم کو بحران سے نکالنے کے لئے مسلم لیگی ارکان اسمبلی نے اپنے حامیوں اور طرفداروں کے تعاون سے اس طرح کام کیا تو اس سے نہ صرف ان سے عوا م کو انتخابات کے بعد غائب ہوجانے کی شکایت نہیں ہوگی بلکہ یہ کام ان کی اور مسلم لیگ کی عزت اور وقار میں اضافے کا باعث بھی ہو گا۔ مصیبت کی اس گھڑی میں صحیح وقت پر صحیح سمت میں کئے گئے اس کام کو لوگ بھولیں گے نہیں بلکہ اس کی آئندہ کے لئے مثالیں دی جایا کریں گی۔

 انتخابی مہم کے دوران اسمبلیوں میں پہنچنے کے لئے امیدوار کی حیثیت سے جو بھاری اخراجات کئے گئے سو کئے گئے ، اب انتخابات کے بعد ارکان اسمبلی کو اپنے قائدین کی ہدایات پر( ان کی تقلید کرتے ہوئے ) ہر سطح پر سادگی اور کفایت شعاری کی اچھی مثالیں قائم کرنی چاہئیں۔ اگر ارکان اسمبلی اپنے اپنے علاقوں میں بیاہ شادی کی تقریبات میں بھی سادگی لا سکیں تو اس سے بجلی کی بچت کے علاوہ بچوں کی شادی کرنے والے کم وسائل والدین کی زندگی میں بھی آسانیاں پیدا ہو ں گی۔ دینی سطح پر یہ نیکی کا کام ہے تو سماجی سطح پر اصلاح و فلاح کا کام۔ انتخابات میں لوگوں کا امیدواروں کے گرد جمع ہونا اور کامیابی کے لئے بے حد مستعدی اور محنت سے کام کرنا ، جہاں عوام کے سیاسی شعور میں اضافے اور امیدواروں کے پیغام کو عام لوگوں تک موثر انداز میں پہنچانے کا باعث بنتا ہے وہاں یہ سماجی رابطوں اور تحرک کو بھی جنم دیتا ہے۔ اس تحرک کو ایک نعمت سمجھ کر اگر انتخابات میں کامیابی کے بعد فہم و تدبر سے کام میں لایا جائے تو نہ صرف کامیاب ارکانِ اسمبلی عوامی بہبود کے لئے اسے صحیح سمت دے سکتے ہیں بلکہ ایسے کاموں سے ان کی گہری وابستگی انہیں عوام کے اندر رہنے کا بھر پور موقع بھی فراہم کرسکتی ہے۔ کسی کو ان کے غائب ہوجانے کی شکایت بھی نہیں ہوگی، اور وہ قومی کاموں میں معاونت کے ذریعے اپنی حکومت سے موثر تعاون بھی کررہے ہوں گے۔

اپنی طاقت اور اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک یہی طریقہ نہیں کہ اپنے لئے انتخابات میں کام کرنے کے دعوے کرنے والوں کو کسی میرٹ کے بغیر سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کراکے سرکاری خزانے پر بوجھ بنا دیا جائے، یا انہیں پیلی ٹیکسی یا مفت گھر سے بلا استحقاق نواز دیا جائے۔ بیروزگاروں کی تنظیم اور تربیت کے بعد انہیں حکومت کی طرف سے آئندہ شروع کی جانے والی قرضہ سکیموںاور دوسری روزگارسکیموں میں بھیجا جاسکتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ آپ بلا استحقاق اگر ایک سو افراد کو نوازتے ہیں تو اس سے آپ کے اردگرد جمع تین ہزار افراد کو شدید شکایت اور گلا پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن استحقاق کے مطابق کسی کی مدد بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت کئے گئے اقدامات اور مختلف معاشی منصوبوں کے لئے ضروری تربیت ایسی بے مثل چیز ہے کہ جس سے لوگوں میں عزت نفس اور خود اعتمادی بڑھتی ہے، جسے وہ ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اور خود کو اپنے پاﺅں پر کھڑے ہونے والوں کو اپنے علاوہ پوری قوم کے سچے خیر خواہ جانتے ہیں۔

ارکانِ ا سمبلی ذاتی مفادات اور کنبہ پروری کی پستیوں سے باہر آسکیں تو حکومت سے تعاون کرتے ہوئے معاشرے کو جرائم اور مایوسی سے نجات دلانے ، عوام کو سماجی فلاح و بہبود اور ترقی کی نعمتوں سے سرفراز کرنے کے ان گنت مواقع مستقبل قریب میں ان کے منتظر ہوں گے۔ اپنی سطح پر ان کی مخلص قیادت اور عوام کی تنظیم سازی اور مناسب تربیت کے انتظامات ہی ان کی اور ان کی جماعت کی کامیابی کے ضامن بن سکتے ہیں ۔ عمومی قومی مسائل کے بعد انہیں اپنے حلقے کے مخصوص مسائل اور ان کے حل پر بھی پوری توجہ دینی چاہئیے، ان کے حل کے لئے آگے چل کر اراکانِ اسمبلی کو یونین کونسل، تحصیل کونسل اور ضلع کونسل سطح کی قیادت کے ساتھ اپنا تعاون اور رہنمائی جاری رکھنا ہوگی۔

جناب محمد شہباز شریف اور پنجاب میں ان کی حکومت کا کام دوسرے صوبوں کے لئے ایک مثال بن چکے ہیں۔ ارکانِ اسمبلی کے علاوہ انہیں بیورو کریسی کے( عوام کے ساتھ) سلوک پر بھی توجہ دینی چاہئیے۔ جہاں صوبے کے سربراہ کی حیثیت سے وہ بیوروکریسی پر تیز اور صحیح کام کرنے کے لئے دباﺅ ڈالتے ہیں ، وہاں کچھ توجہ ان کے عوام کے ساتھ رویے پر بھی دینی چاہئیے۔ اگر یورپ و امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں پرائیویٹ اور سرکاری ہر طرح کے اداروں میں آنے والے شہریوں کوہر ملازم مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہہ سکتا ہے تو مصیبت اور مشکلات میں گھری اس قوم کے ساتھ بیوروکریٹ اور دوسرا عملہ معقول رویہ اختیار کرکے ان کے غم اور دکھ کم کرنے کا کیوں نہیں سوچ سکتا؟ ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کرکے خود کو عوام کا خادم ہونے کا تاثر دے کر اگر سرکاری و نیم سرکاری لوگ عوام میں حوصلہ اور صبر پیدا کرسکتے ہیں تو پھر وہ اپنی بداخلاقی کے ذریعے ہر وقت لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے ہی پر کیوں تلے رہتے ہیں ؟ تھانے کچہری میں بیٹھنے اور پینے کے لئے ٹھنڈے پانی کا معقول انتظام کرنے سے اگر عوام کے آدھے غم غلط ہو سکتے ہیں تو ہم ایسا کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں ہیں؟ عوام کی رسائی سے باہر رہنے والے بیوروکریٹس جو بالعموم ائیر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھے گپ شپ میں مصروف رہتے ہیں، انگریزی بول کر خود کو ساتویں آسمان پر محسوس کرتے اور سیدھے منہ عام شہریوں سے بات کرنے پر راضی نہیں ہوتے، اگر ان کو سادگی اپنانے اور عام آدمی کی سی زندگی اور لب ولہجہ اپنانے پر مجبور کردیا جائے تو کیا یہ پاپولر سیاسی قوتوں کا بہت بڑا کارنامہ نہیں ہوگا ؟ آخر چھوٹے موٹے تمام سرکاری افسروں کے کمروں کا ایر کنڈیشنڈ ہونا کس طرح قومی مفاد میں ہے؟ قوم وملک کے لئے مفید اور اہم کام کرنے کے بجائے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے اور محض اپنے وسائل اور اختیارات پر نازاںیہ لوگ آخر قومی خزانے کے بے دریغ استعمال کے ذریعے یہ تنمکنت اور کروفر کب تک دکھائیں گے؟

مزید : اداریہ