” پولیس کاکنواں“

” پولیس کاکنواں“
” پولیس کاکنواں“

  

یہ خبر سب سے پہلے تو میرے ایک پرانے اور پیارے دوست نے دی کہ ایک ہزار سے زائد تھانے داروں اور ڈی ایس پی حضرات کو آئی جی پنجاب آفتاب سلطان کی مرضی اور منظور ی سے شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں کہ آپ لوگوں نے اپیل کے ذریعے اینٹی ڈیٹ سنیارٹی کیوں حاصل کی، پھر مجھے اس پر انسپکٹر اور ڈی ایس پی صاحبان کی طرف سے ایک مراسلہ موصول ہوا جس میں اسی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب محمد سلیم بھٹی کی طرف سے جاری ہونے والے یہ شوکاز نوٹس پولیس رولز کو نظرانداز کرکے جاری کئے گئے جیسے ان افسران نے اپنی ترقی کے احکامات خود جاری کر لئے ہوں حالانکہ تمام ترقیاں بذریعہ بورڈ اور قواعد وضوابط کے مطابق ہوئی ہیں۔ تنازعہ یہ ہے کہ بہت سارے انسپکٹروں اور ڈی ایس پی حضرات نے آو¿ٹ آف ٹرن ترقیاں لیں ، ان ترقیوںکو ہر دور میں چیلنج کیا جاتا رہا اور اب ترقیاں دینے والوں سے پوچھنے کی بجائے ترقیاں لینے والوں سے پوچھا جا رہا ہے تم نے ترقیاں کیوں لیں؟۔

اس تنازعے کی تفصیلات تو بہت ہی دلچسپ ہیں، کہتے ہیں کہ یہ رینکرز اور پی سی ایس افسران کے درمیان پروموشن اور سنیارٹی کا ایشو ہے، رینکرز میں ایسے بھی ہیں جو بیس، بیس سال سے تھانے داری کر رہے ہیں مگر ڈپٹی نہیں بن سکے دوسری طرف پی سی ایس کر کے آنے والے افسران نوجوانی میں ہی ترقیوں اور بڑے بڑے عہدوںکے مزے لوٹنے لگتے ہیں، پولیس کے بہت سارے کیڈر ہیں اور کئی کیڈروں میں شارٹ کٹ لگ جاتے ہیں۔ میں نے کرائم کی کوریج کرنے والے سینئر صحافیوں سے پوچھاکہ کیا یہ درست نہیں کہ جو ایس ایچ اوہمت اور جرات والا ہو،جوئے کے اڈے ختم ، سٹریٹ کرائم کی روک تھام کررہا ہو، سنگین جرائم میںملوث اشتہاریوں کو نہ صرف پکڑ رہا ہو بلکہ پولیس مقابلوں میں پار بھی کر رہا ہو ، کسی بھی دوسرے نااہل اور کرپٹ افسر کے مقابلے میں پہلے ترقی پانا اس کا حق ہے۔ مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب پولیس کو سال ہا سال سے قریب سے دیکھنے اور جاننے والوں نے یک زبان ہو کے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس انسپکٹر کا کیا قصور ہے جسے پوسٹنگ ہی نہ دی گئی ہو جبکہ سفارشوں، رشتے داریوں اور مال پانی کی بنیاد پر تھانے داری کرنے والوں کے لئے ترقیوں کی لوٹ سیل لگا دی جائے۔ انہوں نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ پولیس مقابلہ کسی ایک تھانے کی حدود میں ہوتا تھا مگر جس کو نوازنا ہوتا تھا ، چاہے وہ اس وہ اس کا علاقہ بھی نہ ہو، اس کے کریڈٹ پر ڈال دیا جاتا تھا۔ یہاں ترقیوں کے لئے افسروں کی رشتے داریوں اور گروپوں نے بھی بہت کام دکھایا ہے۔

دوسری طرف ترقیاں حاصل کرنے والے پولیس انسپکٹروں اور ڈی ایس پی حضرات کا کہنا ہے کہ اپیل کے ذریعے ترقی حاصل کرنا کوئی جرم نہیں، اگر کسی سینئر کو مقررہ وقت پر ترقی نہیں ملی تو ہو سکتا ہے کہ اس کا سروس ریکارڈ اچھا نہ ہو یا فارم 13-15(1) پولیس رولز کے تحت ڈی آئی جی یا ایس پی صاحبان نے ان کی ریکمنڈیشن ہی جاری نہ کی ہو۔ ان کا موقف ہے کہ انہیں قواعد وضوابط کے عین مطابق ترقی دی گئی، پولیس رولز کے باب تیرہ میں واضح طور پر درج ہے کہ ترقی کے لئے سالانہ لسٹیں آئی جی کو ارسال کی جائیں گی اور وہ اس کے مطابق جن افسران کو مناسب سمجھیں گے، ان کا ریکارڈ چیک کرکے ترقی دیں گے، یہ ترقیاں قواعد وضوابط کے مطابق بورڈز کے ذریعے ہوئیں، افسران نے اپنی ترقیوں کے آرڈز خود جاری نہیں کئے ، اب شوکاز نوٹس وصول کرنے والے پولیس افسران عدالت سے رجوع کریں گے اور بعد ازاں ہرجانے کا دعویٰ بھی کریں گے۔ ان کا موقف ہے کہ جو افسران یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ترقی کے جائز حق سے محروم رکھا گیا انہیں افسران بالا کے پاس پیش ہو کے عرض و معروض کرنی چاہئے تھی۔آٹھ ،دس برسوں کے بعد ایسے نوٹس بھجوانا اذیت دینے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

میں قائل ہو چکا ہوں کہ پولیس والوں کی ترقیوں میں انصاف نہیں ہو رہا مگر جواور جتنا ہورہا ہے اس کو وہ خود نہیں ہونے دے رہے، پولیس ایک ڈسپلنڈ فورس ہے مگر یہاں سپاہی ، آئی جی کو عدالتوںمیں گھسیٹ رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئی جی آفس اپنے ماتحتوں سے انصاف کر رہا ہے۔ خود آئی جی آفس سے جاری کردہ ایک تفصیل میں تسلیم کیا گیا ہے کہ سنیارٹی ککے معاملات تیس تیس سال سے زیر التواءہیں، ابھی مئی میں اسی کام کو نمٹانے کے لئے پھر کمیٹیاں بنی ہیں۔آفیشئل ریکارڈ کے مطابق 2005ءمیں جو پہلی باقاعدہ سنیارٹی لسٹ فائنل ہوئی،اس میں 1991تک کنفرم ہونے والے انسپکٹر شامل تھے مگر جو آفیسرز 1993اور1995 میں براہ راست انڈکٹ ہوئے انہوں نے اسے پنجاب سروس ٹریبونل میں چیلنج کر دیا چنانچہ 2006 میں یہ لسٹ ختم کر کے ایک اور تیار کی گئی تو وہ بھی ماتحتوں کی طرف سے پنجاب سروسز ٹریبونل اور ہائی کورٹ میں چیلنج ہو گئی،2008 میں سنیارٹی لسٹ بنی جس کے بارے دعویٰ ہے کہ اسے پنجاب سروسز ٹریبونل اور سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں بنایا گیا جس سے2009اور2010 میں 187 انسپکٹرز ڈی ایس پی بنے مگر اسے 1998 میں براہ راست بھرتی ہونے والوں نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں چیلنج کر دیا، یہ معاملہ ایک سووموٹو کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے پاس دوبارہ گیا اور وہاں سے ملنے والی ہدایات پر 2012 میں ایک اور سنیارٹی لسٹ بنی جسے چار سو پولیس انسپکٹروں نے پھر ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا اور یہ سلسلہ ابھی تک نہ صرف جاری ہے بلکہ تازہ ترین شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد مزید جاری رہنے کا بھرپور امکان ہے۔

کیا یہ عجب ستم نہیں کہ جن پولیس افسران نے معاشرے کے مظلوموں کو انصاف دلانا ہے خود انہیں انصاف نہیںمل رہااور اس کی وجہ پولیس کا ہر دور میں تجربات کی زد میں رہنے والا عجیب و غریب نظام ہے۔ اچھے پولیس والے بھرتی کرنے کی سوچ پنجاب پبلک سروس کمیشن سے بھرتی کی طرف لے گئی اور اس کے بعد رینکرز منہ دیکھتے رہ گئے۔ ابھی تک ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ہم اپنی پولیس کو کس طرح چلائیں گے، پرویز مشرف نے پولیس آرڈر دیا اور پولیس کو ضلعی نظام کے ساتھ منسلک کر دیا گیا، جب ضلعی نظام ختم کرتے ہوئے دوبارہ کمشنری نظام کی طرف رجوع کرتے ہوئے سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کو منتخب ارکان کے ماتحت کرنا دیا جائے، یہ سوچ مسترد ہوئی تو کمشنری نظام کی بحالی کی آڑ میں ڈی ایم جی گروپ پولیس کے جن کو اپنی بوتل میں بند کرنے کے لئے متحرک ہو گیا، کمیٹیوںپر کمیٹیاں بنتی رہیں ، پولیس چاہتی ہے کہ وہ آزاد اور خود مختار رہے، اسے وزیراعلیٰ کے علاوہ کوئی پوچھنے کا اختیار نہ رکھتا ہو مگر اس آزادی کو پولیس آرڈر کے ذریعے جن پبلک سیفٹی کمیشنوں کے ذریعے کسی حد میں رکھنے کا سوچا گیا تھا، پنجاب پولیس کے منہ زوروں نے کبھی بننے ہی نہیں دئیے، کمیونٹی پولیسنگ کے خواب دکھائے گئے مگر کوئی ایس پی تک ایسے عہدے پر جانے پر تیار نہ ہوا اور سنا ہے کہ اب تو یہ عہدہ اور تصور دونوں ہی ختم ہو گئے ہیں، پولیس نے محلہ کمیٹیاں بنائیں اوران محلہ کمیٹیوں میں اپنے ٹاو¿ٹوں کو شامل کر لیا لہذا میں تو یہی کہوں گا کہ پولیس افسران عوام سے انصاف نہیں کرنا چاہتے اور جواب میںانہیں انصاف نہیں ملتا۔

میں امن و امان کو یقینی بنانے میں بنیادی کرداراداکرنے والے انسپکٹروںاور ڈی ایس پی حضرات کو دیکھتا ہوں، ان کی سنیارٹی اور پروموشن کے ایشوزتو ایسے خلط ملط ہو چکے ہیں کہ جیسے کسی لمبی سی ڈور میں گنجل پڑے ہوں، کوئی ایک طرف سے کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسری طرف سے مزید الجھا دیا جاتا ہے۔ پولیس کل کس نظام کے تحت چلے گی، آج تک یہ کسی کو علم نہیں ۔یہ پولیس والے تو اپنی ترقیوں کے حوالے سے جہنم کے اس مشہور گڑھے میں گرے ہوئے لگتے ہیں جہاں سے کوئی باہر نکلنے لگتا ہے تو باقی سب اس کی ٹانگیں کھینچ کے واپس گرا لیتے ہیں مگر ۔۔۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پولیس میں ناانصافیوں کا یہ نظام مسلسل بچے جن رہا ہے، یہ پولیس والے جہنم کے جس گڑھے میں ہیں وہاں سے آگ پھینک پھینک کے انہوںنے ہمارے پورے معاشرے کو جہنم بنا رکھا ہے ۔۔ ۔ہے کوئی غور کرنے والا؟؟؟

مزید :

کالم -