پتے ہوا دینے لگے، (ق) لیگ کے بعد اے این پی اور متحدہ خود مختار!

پتے ہوا دینے لگے، (ق) لیگ کے بعد اے این پی اور متحدہ خود مختار!
پتے ہوا دینے لگے، (ق) لیگ کے بعد اے این پی اور متحدہ خود مختار!

  

انتخابات کے نتائج کی روشنی میں ملک کے اندر سیاسی تبدیلیوں کا عمل جاری ہے جس میں حکومت کے قیام اور کام شروع ہونے کے بعد ہی ٹھہراﺅ کا امکان ہے۔ اس وقت تو صورت حال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی ہزیمتکے بعد پتے بھی ہوا دینے لگے اور دیرینہ اتحادی جو جینے مرنے کے لئے ساتھ تھے الگ ہوگئے ہیں، مسلم لیگ (ق) نے پیپلزپارٹی سے ناطہ توڑ کر پاکستان تحریک انصاف سے پینگیں بڑھالی ہیں اور قومی وصوبائی اسمبلی میں تحریک کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ بلوچستان والوں نے اپنی روائت قائم رکھی ہے اور وہاں مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی حمائت کا کھلا اعلان کردیا ہے جس پر قیادت نے چپ سادھ لی ہے، گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ق) کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا گیا اس پر پارٹی والوں کو افسوس تو ہوا ہے لیکن جواب نہیں دیا گیا، پیپلزپارٹی میں معمولی مفاہمت پر قائل اور پارٹی سیاست پارٹی اصولوں کے مطابق کرنے کی حمائت اور آواز بلند کرنے والے اہم قائدین نے اسے اللہ کی مدد قرار دیا کہ ماضی کے اتحادی ازخود اپنی راہیں جدا کررہے ہیں۔

زندگی بھر کی وفا کا نعرہ لگانے والے قائدین کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اپنی راہیں جدا کرکے خود مختار حیثیت برقرار کرلی ہے۔ سینٹ میں نمبروں کا فائدہ اٹھا کر خود مختار حزب اختلاف کے لئے چیئرمین سینٹ کو درخواست بھی دے دی ہے۔ ادھر سندھ میں جو سیاسی تبدیلی آئی اس کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے نہ صرف سندھے کابینہ میں شامل ہونے سے گریز کرکے حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا بلکہ قومی اسمبلی اورسینٹ میں بھی اپنی جداگانہ حیثیت بحال کرلی ہے اور اعلان کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) حکومت کے ہر اچھے اقدام کی حمائت کی جائے گی یوں نرم گوشے کا اظہار کردیا ہے، سندھ میں اب پیپلزپارٹی اکیلے ہی حکومت بنائے گی اور گناہ وثواب کی اکیلی ذمہ دار ہوگی پیپلزپارٹی کے قائدین کا بڑا گروپ مطمئن ہے اور مستقبل میں پارٹی کو پارٹی کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں چلنے اور منظم کرنے پر زور دے رہا ہے۔

موجودہ صورت حال میں پیپلزپارٹی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لئے محنت کرنا ہوگی اس کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کا رویہ فیصلہ کن ہوگا کہ اب قائد حزب اختلاف بھی انتخاب کے ذریعے منتخب ہوگا۔ پیپلزپارٹی کو حزب اختلاف کے ایک سو ایک اراکین میں سے 40 نشستیں حاصل ہیں جبکہ ضرورت 52 ووٹوں کی ہے۔ کم از کم 12 مزید ووٹ چاہئیں، سید خورشید شاہ کو سخت محنت کرنا پڑے گی اور اگر متحدہ حمائت کردے تو آسانی ہوگی۔ اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کی حریف تحریک انصاف ہے، جو حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا اعلان کررہی ہے اور فرزند راولپنڈی عمران خان کو لیڈر آف اپوزیشن بنوانے کی فکر میں ہیں، اب صورت حال حلف اور حکومت سازی کے بعد واضح ہوئی سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے سید خورشید شاہ کو لیڈر آف اپوزیشن کے لئے نامزد کیا ہے تو کیا عمران خان ان کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے۔ یہ مقابلہ ہوا تو خوب ہوگا اور تجربہ کار خورشید شاہ کے مقابلے میں اپ سیٹ کرنے والے عمران خان ہوں گے۔ متحدہ کی اہمیت اپنی جگہ تاحال تحریک انصاف نے متحدہ کا تعاون حاصل کرنے سے انکار کردیا ہے البتہ مسلم لیگ (ق) پیپلزپارٹی کی بجائے تحریک انصاف کی حمائت کرے گی، صورت حال دلچسپ ہوگئی ہے۔

مزید :

تجزیہ -