حکومت خوردنی تیل پر انکم ٹیکس 5 سے ایک فیصد پر لائے، خواجہ عارف

حکومت خوردنی تیل پر انکم ٹیکس 5 سے ایک فیصد پر لائے، خواجہ عارف

  

لاہور (اسد اقبال) پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئر مین خواجہ عارف قاسم نے سابق دور میں خوردنی تیل کے سیکٹر کو دی گیئں غیر منصفانہ رعائتیں ختم کرنے اور ڈیوٹی سٹرکچر پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ نو منتخب حکو مت خوردنی تیل پر عائد کردہ 5فیصد انکم ٹیکس کی شرح کو 1 فیصد پر لائے اور باقی ماندہ انکم ٹیکس کو ایکسائز ڈیو ٹی میں ضم کرکے حکو متی خزانہ کو بڑھائے جبکہ غیر منصفانہ رعائتیں ختم کر نے سے حکومت کوساڑھے 8ارب روپے کااضافی سالانہ ریونیو حاصل ہو گا۔علاوہ ازیں نئے یونٹوں کے بارے میں قانون سازی سے آئندہ پانچ سالوں میں آئندہ حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے کے ریونیو سے ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔ ان خیا لات کا اظہار انھو ں نے گزشتہ روز پاکستان سے گفتگو کرتے ہو ئے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررزکے لئے ٹیکس اصلاحات پر مبنی سفارشات میںکہی ۔ انھو ں نے کہا کہ فیڈرل ایکسائزڈیوٹی میں اضافہ اور انکم ٹیکس کی شرح میںکمی کے ساتھ فیڈرل ایریاز اور شمالی علاقہ جات کیلئے دی گئی رعاتیوںکو ختم کیا جائے ان علاقوں کے لیے درآمدی خوردنی تیل بھی پاکستانی علاقوں میں فروخت ہوتا ہے اور چند درآمد کنندگان کودی گئی رعائت کی قیمت صارفین سے وصول کی جارہی ہے اگر یہ رعائت ختم کردی جائے تو حکومت کو اس سے ایک ارب روپے سالانہ مزید ریونیو حاصل ہو سکتا ہے ۔ خواجہ عارف قاسم نے کہا کہ پاکستان میں گھی اور کوکنگ آئیل تیار کرنے کی صلاحیت کار ضرورت کے مقابلہ میں 70 فیصد زائد ہے اس کے باوجود گذشتہ حکومت کے دوران2011 ءمیں قانون سازی کے ذریعہ گھی سیکٹر میں نئے یونٹ لگانے والوں کو واجب الوصول ٹیکس کی ادائیگی میں 100 فیصد چھوٹ کا ٹیکس کریڈٹ دیا گیا جس سے خدشہ ہے کہ 2011 ءسے 2016 ءکے پانچ سالوں میں حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے کی وصولیوں کا خسارہ ہو گا۔

مزید :

صفحہ آخر -