طالبان نے ولی الرحمن کی ہلاکت کی تصدیق کردی،مذاکرات ختم کرنے کااعلان

طالبان نے ولی الرحمن کی ہلاکت کی تصدیق کردی،مذاکرات ختم کرنے کااعلان

  

پشاور،میران شاہ (اے این این )کالعدم تحریک طالبان نے ڈرون حملے میں ولی الرحمن کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات ختم کرنے کااعلان کردیا،حکومت کوبات چیت کی پیشکش واپس لے لی گئی ،انتقامی کارروائیوں کی دھمکی،خان سیدعرف سجناکوحکیم اللہ محسود کانائب مقررکردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق طالبان ترجمان احسان اللہ احسان نے ٹیلی فونک گفتگوکرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روزشمالی وزیرستان کے علاقے چشمہ پل کے قریب ہونے والے ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے نائب امیراورحکیم اللہ محسود کے دست راست ولی الرحمن مارے گئے ہیں ،احسان اللہ احسان نے کہاہے کہ ولی الرحمن شہیدہوئے ہیں ،ہمیں ان کی شہادت پرفخرہے اوراس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہونگے ۔انہوںنے کہاکہ ہم حکومت کوبھی ڈرون حملے کاذمہ دارسمجھتے ہیں ،ولی الرحمن کی شہادت کابدلہ لیں گے ۔انہوںنے کہاکہ ولی الرحمن کی شہادت کے ساتھ ہی حکومت کے ساتھ مذاکرات کاراستہ بندہوگیاہے ،ہم امن مذاکرات کوختم کرنے اوربات چیت کی پیشکش واپس لینے کااعلان کرتے ہیں ۔تحریک طالبان حکومت پاکستان کیخلاف انتقامی کارروائیاں جاری رکھے گی ۔انہوںنے کہاکہ ولی الرحمن کی جگہ کسی دوسری شخصیت کوحکیم اللہ محسود کانائب تعینات کرنے کے حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہواتاہم غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کالعدم تحریک طالبان نے جنوبی وزیرستان کے امیرولی الرحمن کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد خان سید عرف سجنا کو نیا امیر مقرر کر دیا گیا۔خان سیدکی تقرری کافیصلہ جنوبی وزیرستان کے شوریٰ اجلاس میں کیاگیاہے ۔ خان سید عرف سجنا کی عمر 36 سال ہے اس کا تعلق قوم شوبی خیل جنوبی وزیرستان سے ہے۔ سجنا نے افغانستان جہاد میں بھی حصہ لیا تھا وہ ولی الرحمن کے نائب بھی تھے۔ ولی الرحمن کو ڈنڈے درپہ خیل کے علاقے میں حقانی قبرستان میں جبکہ پانچ شدت پسند کمانڈروں کو میران شاہ کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -