بجلی چوری کی روک تھام کیلئے فوج سے مدد لی جاسکے گی،نئی حکومت کالوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے سخت فیصلے کرنے کاپلان

بجلی چوری کی روک تھام کیلئے فوج سے مدد لی جاسکے گی،نئی حکومت کالوڈشیڈنگ کے ...

  

لاہور ( جنرل رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتے ہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ہنگامی حالت کے نفاذسمیت سخت فیصلوں کاامکان ہے جس میں نوازشریف بجلی چوری روکنے کیلئے فوج سے مددلینے سمیت بجلی چوروں کیخلاف انسداددہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے اورنادہندگان سے واجبات کی وصولی کیلئے بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے اختیارات میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں ۔ مسلم لیگی زرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں گزشتہ دنوں سے رائیونڈمیں نوازشریف کی زیرصدارت کئی اہم اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے ہیں جن میں پارٹی کے مرکزی قائدین کے علاوہ توانائی اوراقتصادی شعبے کے ماہرین بھی شرکت کرتے رہے ہیں ان اجلاسوں میں نوازشریف کوتوانائی بحران کے خاتمے کیلئے مختلف قسم کی تجاویزدی گئی ہیں اوریہ باورکرایاگیاہے کہ نئی حکومت کواس بحران سے نکلنے کیلئے سخت اورغیرمقبول فیصلے کرناہونگے ،نوازشریف کوتجویزدی گئی ہے کہ لوڈشیڈنگ میں فوری کمی کیلئے زیرگردش قرضوں کامسئلہ حل کرناہوگااوراس مقصدکیلئے نادہندگان کیخلاف سخت کارروائی ناگزیرہے ،اس معاملے میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں ہونی چاہئے اورواجبات کی ادائیگی کیلئے بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے اختیارات میں اضافہ کیاجائے۔نوازشریف کومشورہ دیاگیاہے کہ توانائی کے شعبے میں ہنگامی حالت نافذکی جائے اوربجلی چوری روکنے کیلئے فوج کی مددحاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی چوروں کیخلاف انسداددہشتگردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے اوراس مقصدکیلئے قانون میں ترمیم سے بھی گریزنہ کیاجائے۔نوازشریف کویہ تجویزبھی دی گئی ہے کہ جن علاقوں کوبجلی بلوں میں سبسڈی دی جارہی ہے اس رعایت کوختم کیاجائے اورکسی علاقے کوبجلی کے بلوں سے استثنیٰ نہ دیاجائے۔توانائی بحران کے خاتمے کیلئے قلیل المدتی ،درمیانی مدت اورطویل المدتی اقدامات بھی تجویزکئے گئے ہیں ،یہ مشورہ بھی دیاگیاہے کہ لوڈشیڈنگ میں فوری کمی کیلئے پاورہاو¿سزکوتیل اورگیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے اوررقم کی فراہمی کیلئے خصوصی پیکج دیاجائے،بجلی کی پیداوارمیں اضافے کیلئے شوگرملوں سے بھی مددلی جائے۔

مزید :

صفحہ اول -