ڈاکٹر عاصم احتساب کی زد میں ،تفتیش شروع ،نیب کی مضبوط گرفت،سنگین الزامات ،سخت سوالات

ڈاکٹر عاصم احتساب کی زد میں ،تفتیش شروع ،نیب کی مضبوط گرفت،سنگین الزامات ...

  

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سابق حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والی بااثر شخصیات پر احتساب کی گرفت سخت ہوتی جارہی ہے اور انہیں قومی احتساب بیورو کے تفتیشی افسروں کے سامنے پیش ہوکر سخت ترین سوالوں کے جوابات دینا پڑررہے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی سابق وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عاصم حسین ہیں جن پر اتنے سنگین الزامات ہیں کہ انہیں پہلی ہی تفتیش پر دو گھنٹے تک نیب حکام کے سوالوں کے جوابات دینا پڑے۔ تفتیش کے لئے ڈاکٹر عاصم حسین کو اسلام آباد میں نیب ہیڈ کوارٹرز طلب کیا گیا، ان سے سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق کی تعیناتی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تقرر ان کے وزارت میں آنے سے پہلے کیا گیا تھا جبکہ توقیر صادق کی برطرفی کے لئے سمری انہوں نے وزیراعظم کو بھیجی تھی۔ سابق مشیر سے کراچی میں ان کے اپنے ذاتی ہسپتال کو دو سال تک گیس کی مفت فراہمی کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ کسی کو مفت گیس نہیں دی گئی، سوئی سدرن گیس کمپنی کو دو کروڑ روپے دئیے گئے۔ کینار میساکھی گیس فیلڈ سے گیس چوری سے متعلق تفتیشی افسر کے سوال پر ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ اگر اس جگہ سے گیس چوری ہوئی تھی تو اس کا ریکارڈ اس گیس فیلڈ اور متعلقہ اداروں سے چیک کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین نیب ہیڈکوارٹر تفتیش کے بعد تو صحافیوں سے گفتگو بغیر چلے گئے مگر بعد میں ایک ٹی وی چینل سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی ٹیم نے ان سے غیر متعلقہ سوالات کئے پھر بھی انہوں نے پوری ایمانداری سے جوابات دئیے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ کسی بے ضابطگی یا غیر قانونی کام میں ملوث نہیں رہے۔

مزید :

صفحہ اول -