قائم علی شاہ تیسر ی مرتبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب کابینہ بھی بنا لی،انتخاب سے حلف تک سب کچھ آنا فانا

قائم علی شاہ تیسر ی مرتبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب کابینہ بھی بنا لی،انتخاب ...

کراچی(خصوصی رپورٹ)سید قائم علی شاہ نے جمعرات کی شب تیسری مرتبہ سندھ کے نئے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔اس طرح سندھ میں نئی منتخب حکومت کا قیام عمل میں آگیاہے اور سندھ نے انتقال اقتداراور حکومت سازی میں وفاق اور دیگرتین صوبوں پرسبقت حاصل کرلی ہے۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاﺅس کے دربار ہال میں ہوئی۔ گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العبادخان نے ان سے حلف لیا۔اس موقع پر اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی،ڈپٹی اسپیکرشہلارضا،نومنتخب ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ فوجی وسول حکام نے شرکت کی۔سید قائم علی شاہ کے ساتھ ساتھ ان کی نئی کابینہ کے 7ارکان نے بھی حلف اٹھالیا۔حلف اٹھانے والے وزراءمیں نثار کھوڑو،میرہزارخان بجارانی،ڈاکٹرسکندرمیندھرو، منظورحسین وسان،شرجیل انعام میمن، سردارعلی نوازخان مہر(راجہ خان مہر)اورمخدوم جمیل الزمان شامل ہیں۔گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العبادخان نے ان سے حلف لیا۔تقریب میں پر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور دیگرحکام موجود تھے۔سندھ کابینہ میں سید مراد علی شاہ کو بطور مشیر شامل کیا گیا ہے۔وہ گزشتہ کابینہ میں وزیرخزانہ تھے ۔توقع ہے کہ انہیں اب بھی خزانہ کا قلمدان سونپاجائے گا۔ قبل ازیں سید قائم علی شاہ نے پیپلزپارٹی کے رہنمااویس مظفرکے ساتھ گورنرسندھ سے ملاقات کی اور مختلف امور پر بات چیت کی۔ سید قائم علی شاہ کو تیسری مرتبہ سندھ کا وزیراعلیٰ منتخب کرلیاگیا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کے ارکان نے آغا سراج درانی کو سپیکر اور شہلا رضا کو ڈپٹی سپیکر منتخب کیاہے، ان تینوں شخصیات کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے، ان کے انتخاب کے ساتھ ہی صوبہ مزید پانچ سال کے لئے جمہوریت کی راہ پر گامزن ہوگیا ہے، اس کے ساتھ ہی عوام کی توقعات ایک مرتبہ پھر صوبے کے حکمرانوں سے وابستہ ہوگئی ہیں خصوصاً وہ اس کے منتظر ہیں کہ قائم علی شاہ کے ایک دفعہ پھر وزیراعلیٰ بننے سے کراچی میں امن وامان بحال کرنے کے لئے کس حد تک اقدامات کئے جاتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید قائم علی شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی عوام کو مایوس نہیں کرے گی، اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ تعمیری تنقید کرے، ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی میں ہونے والے چناﺅ میں پیپلزپارٹی کے مخالف دس جماعتی اتحاد کو بہت کم ووٹ ملے۔ 80 سالہ قائم علی شاہ چھیاسی ووٹ لے کر ایک مرتبہ پھر سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے سید سردار احمد کو اڑتالیس اور مسلم لیگ فنکشنل کے امتیا زشیخ کو اٹھارہ ووٹ ملے۔ پیپلزپارٹی کے آغا سراج درانی ستاسی ووٹ لے کر سندھ اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوگئے اور اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھالیا۔ سپیکر نثار احمد کھوڑو نے ان سے حلف لیا، نئے سپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوا، گنتی مکمل ہونے کا اعلان ہونے پر ارکان نے ایوان میں نعرہ بازی کی۔ اس عہدے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کے خواجہ اظہار الحسن کو اڑتالیس اور مسلم لیگ (ن) کے عرفان اللہ مروت کو اٹھارہ ووٹ ملے جبکہ دو مسترد کردیئے گئے، نئے سپیکر آغا سراج درانی نے اپنی نشست سنبھالی جس کے بعد ان کی صدارت میں ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوا۔ پیپلزپارٹی کی شہلا رضا چھیاسی ووٹ لے کر سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر منتخب ہوئیں اور اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، نومنتخب سپیکر آغا سراج درانی نے ان سے حلف لیا۔ ایم کیو ایم کی امیدوار ہیر اسماعیل راہو کو اڑتالیس اور مسلم لیگ فنکشنل کی نصر سحر عباسی کو اٹھارہ ووٹ ملے۔ ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لئے ووٹنگ تھوڑی دیر کے لئے روکنا پڑی کیونکہ اس کے بیلٹ پیپر پر شہلارضا کی جگہ سراج درانی کا نام لکھا ہوا تھا۔

مزید : صفحہ اول