چیئرمین نیب کی تقرری کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری، فصیح بخاری نے نظرثانی اپیل دائر کر دی

چیئرمین نیب کی تقرری کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری، فصیح بخاری نے ...
چیئرمین نیب کی تقرری کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری، فصیح بخاری نے نظرثانی اپیل دائر کر دی

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کی تقرری غیر قانونی قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ عدالت فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دیدار حسین شاہ کیس میں عدالت نے ایک ماہ میں چیئرمین نیب کی تقرری کا وقت دیا تھا جس پر حکومت نے عملدرآمد نہ کیا اور ساڑھے 3ماہ تک سوئی رہی۔ عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ قائد حزب اختلاف کو خط لکھنے کے بعد صدر کی جانب سے کی جانے والی جلد بازی ناقابل فہم ہے، صدر کو قائد حزب اختلاف کی تجویز سے اختلاف تھا تو وہ ایک اور خط لکھ سکتے تھے اور کہہ سکتے تھے کہ تجاویز قابل قبول نہیں، بامعنی مشاورت اور اتفاق رائے پر پہنچنے کی کوشش کی جاتی تو کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہیں کہ صدرنے قائد حزب اختلاف سے مشاورت کی سنجیدہ ، مخلصانہ اور حقیقی کوشش نہیں کی۔عدالتی حکم میں کہاگیا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے نیب آرڈیننس کے سیکشن 6 بی ون کے تحت مشاورت نہیں ہوئی۔ دوسری طرف قومی احتساب بیورو کے سابق چیئرمین ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری نے اپنی تقرری کالعدم قرار دیئے جانے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔ فصیح بخاری کے وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین نیب سپریم کورٹ کو جوابدہ نہیں ہیں اور انہیں صرف صدر مملکت عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کوکالعدم قرار دینا نیب آرڈیننس سیکشن چھ کی خلاف ورزی ہے۔

مزید :

اسلام آباد -