سپریم کورٹ نے واپڈافسروں کو’ کرنٹ لگادیا‘عدالتی حکم کے باوجود عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں:چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے واپڈافسروں کو’ کرنٹ لگادیا‘عدالتی حکم کے باوجود عوام سڑکوں ...
سپریم کورٹ نے واپڈافسروں کو’ کرنٹ لگادیا‘عدالتی حکم کے باوجود عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں:چیف جسٹس

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لوڈ شیڈنگ سے متعلق نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد نے گزشتہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے سربراہ کی سرزنش نے کہا کہ عدالتی حکم نہ ماننے والوں کو جیل بھیجا جائیگا۔سپریم کورٹ میں لوڈشیڈنگ سے متعلق نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنیچ نے کی۔ عدالت نے این ٹی ڈی سی کو کل ڈسٹریبوشن کمپنیوں کے ساتھ بجلی بحران پر ویڈیو کانفرنس کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ویڈیو کانفرنس میں این ٹی ڈی سی، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے سربراہان، چیئرمین ارسا اور واپڈا ویڈیو کانفرنس کے بعد مشترکہ جواب جمع کرائیں، حکام کو آج کے حکم پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔ گزشتہ عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے برہمی کا اظہار کیا ،انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکم میں واضح لکھا تھا کہ بجلی کی یکساں فراہمی یقینی بنائیں اس مقصد کے لیے آغاز سپریم کورٹ سے کیا جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ

 عدالتی حکم کے باوجود عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ گزشتہ حکم کے بعد اب تک کس فارمولے کے تحت بجلی تقسیم کی گئی، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ خیبر سے کراچی تک بجلی کی یکساں تقسیم ممکن بنائی جائے، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آپ ہمیں لکھ کر دیں، تقسیم کار کمپنیاں آپ کی بات نہیں مان رہیں، جسٹس گلزار نے کہا کہ عدالت میں جمع کاغذات کچھ بتاتے ہیں، حقائق کچھ اور ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے صرف ایک واپڈا کا ادارہ تھا اور سب اچھا تھا، اب کئی کمپنیاں آ گئی ہیں اور مسائل پیدا ہو گئے ہیں، پرائیویٹ کمپنیوں کو معلوم ہے ان کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں کروا سکتا، عدالتی مداخلت کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے سربراہ زرغام اسحاق خان نے عدالت کو بتایا کہ بجلی پیدا کر کے تقسیم کار کمپنیوں کو دے دیتی ہے، بجلی کی یکساں فراہمی تقسیم کار کمپنی کی ذمہ داری ہے، سسٹم کمزور ہونے کی وجہ سے صارفین فراہم کی گئی بجلی کا ایک ماہ بعد پتہ چلتا ہے، نیا سسٹم تیس جون سے کام شروع کر دے گا جس سے اس بات کا پتہ چل سکے گا کہ کون سی تقسیم کار کمپنی کتنی بجلی فراہم کر رہی ہے ، زرغام اسحاق نے بتایا کہ گزشتہ حکم پر بھی تقسیم کار کمپنیوں کو سخت ہدایات دی تھیںتاہم انہوں نے عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک میں کتنی بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور شارٹ فال کتنا ہے، جس پر زرغام اسحاق نے بتایا کہ ملک میں 12351 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے ملک میں کمرشل اور گھریلو بجلی کی طلب پندرہ ہزار میگا واٹ ہے، شارٹ فال 3 ہزار 8 سو کے لگ بھگ ہے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں