پون کروڑ ووٹوں کا جھٹکے سے قتل

پون کروڑ ووٹوں کا جھٹکے سے قتل
 پون کروڑ ووٹوں کا جھٹکے سے قتل

  

لاہور ( نوازطاہر /خبر نگار خصوصی )قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں کے اراکین میں کل ہفتے کو حلف اٹھا رہے ہیں جس دوران پون کروڑ سے زائد ’مٹی‘ ہوجائیں گے۔ ووٹوں کی یہ ’ بے حرمتی‘ اور قومی وسائل کے ضیا ع کا باعث الیکشن سے پہلے اور بعد میں ملکی خزانے کے استعمال اور قومی وسائل کی بچت کے نعرے لگانے والے قومی رہنما ہیں جنہوں نے آئینی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے ایک سے زیادہ حلقوں سے الیکشن لڑا ۔ جنکے مجموعی ووٹ چھہتر لاکھ سے زائد ہیں اور اب انہیں ووٹوں کیلئے قومی وسائل ہی سے ضمنی الیکشن ہو ں گے ۔ سادگی کے سب سے بڑے داعی مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی ، ان کے بھائی میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں جیتیں ۔ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف بھی بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست رکھتے ہیں ۔مسلم لیگ ن ہی کے چودھری نثار علی خان نے چار نشستوں پر الیکشن لڑا ،وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں ہار گئے اور اب پنجاب اسمبلی کی نشست چھوڑیں گے ۔ میاں نواز شریف کے قریبی خواجہ محمد آصف  بھی قومی اور صوبائی اسمبلی ، اور ان کی جماعت کے مہر اشتیاق احمد بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیاب ہوئے ۔ قومی وسائل کا ضیاع روکنے اور احتساب کا نعرہ لگانے والی تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خا ن نے شہباز شریف کی طرح چار حلقوں سے الیکشن لڑا ۔ وہ لاہور میں شکست سے دوچار ہوئے جبکہ پشاور ، راولپنڈی اور میانوالی سے جیت گئے ، اس طرح انہیں دو نشستیں خالی کرنا ہوں گی ۔ان کی جماعت کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے والے پرویز خٹک قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ چکے ہیں جبکہ اسی اسمبلی میں سپیکر بننے والے تحریکِ انصاف کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے ۔انہیں کے مرکزی رہنما تحریک ِانصاف کے مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی اسلام آباد اور ملتان سے قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور جمعیت علما ءاسلام کے مولانا فضل الرحمان نے بھی دو نشستیں حاصل کیں ۔، پیپلز پارٹی کی طرح مجموعی شکست سے دوچار ہونے والی عوامی نیشنل پارٹی کے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی نے قومی اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کی ایک ایک نشست جیتی اور صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی ۔مسلم لیگ ن ہی کے مخدوم خسرو بختیار اور اسی علاقے سے تعلق ر کھنے والے پیپلز پارٹی کے مخدوم مصطفیٰ محمود کو بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کی ایک نشست خالی کرنا پڑے گی ۔ پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے جمشید دستی نے آزاد حیثیت سے میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ان تمام حلقوں میں میں مجموعی طور پر چھہتر لاکھ سے زائد ووٹ ہیں جہاں ووٹرز نے قطاروں میں لگ کر ان رہنماﺅںاپنا نمائندہ منتخب کیا تھا اور اب پھر کسی نئے چہرے اور اس کے وعدوں و نعروں پر اعتماد کرنا پڑے گا۔

مزید : قومی