نریندر مودی کی خارجہ پالیسی: کچھ معلوم، کچھ اندازے

نریندر مودی کی خارجہ پالیسی: کچھ معلوم، کچھ اندازے
نریندر مودی کی خارجہ پالیسی: کچھ معلوم، کچھ اندازے
کیپشن: rana ikram rabbani

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بھارت کی سیاسی فضا میں تبدیلی بڑی واضح تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار نریندر مودی کی فتح غیر متوقع نہیں تھی، اُس کی انتظامی ٹیم1977ءکے بعد کنٹرول سنبھالے گی، وہ خود ایک ریاست کے دس بارہ سال وزیراعلیٰ رہے ہیں اور اب مرکز میں سب سے بڑی پارٹی کی قیادت کریں گے، انہیں حکومت سازی کے لئے کسی اتحادی کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
اب بھارت کی خارجہ پالیسی کیا رُخ اختیار کرے گی؟ آج یہ سب سے اہم سوال ہے، لیکن یقین سے کچھ کہنا بھی ممکن نہیں، اندازہ کرنا بھی بہت مشکل ہے، لیکن ایک بات تسلیم شدہ ہے کہ ان کی ترجیحات میں ایسی خارجہ پالیسی ہو گی، جو بھارت کی معیشت کے لئے بھی مفید ہو۔ اس کے باوجود لفظ ”لیکن“ بدستور موجود رہے گا۔ بہرحال کچھ نہ کچھ اندازہ بھی کیا جانا ممکن ہو گا۔ جب وہ اپنی ٹیم تشکیل دیں گے، جو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ترتیب دے گی اور بھارت سرکار اُس پر عمل پیرا ہو گی۔ سیاسی، انتظامی، خارجہ پالیسی، دفاعی پالیسی، داخلہ، خزانہ یہ سب سامنے آنے کے بعد ہمیں ہر چیز کا جواب مل جائے گا۔ خارجہ پالیسی کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ اور وزارت خارجہ کے اہلکاروں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ خارجہ پالیسی کے محور کچھ عرصہ یہی رہیں گے، لیکن کچھ تبدیلیاں جلدہی متوقع ہیں، جو ایک ”خاص سمت“ میں تبدیلی کا اظہار ہوں گی۔
 یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ نریندر مودی کی خارجہ پالیسی معیشت کو مضبوط بنانے کی عکاس ہو گی،جس کی وجہ سے خارجہ پالیسی، توانائی بڑھانے اور تجارت سے وابستہ شعبوں میں اصلاحات لائے جانے کا امکان ہے جو مودی کے انتخابات کے دوران مشوروں اور اشاروں سے اندازہ ہوتا تھا۔ اس میں بیرونی ماہرین کو بھارت بلانا شامل ہے کہ وہ Master Trainer کا کردار ادا کریں گے، جو مختلف شعبوں کی انتظامی ڈھانچے میں کہیں کم کہیں زیادہ تبدیلیاں لائیں گے جو کہ اصلاحات کے نام پرکی جائیں گی۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ وہ خارجہ پالیسی میں ریاستوں کے براہ راست کردار کے بارے میں بھی ضرور نئے رجحان متعارف کرائیں گے جو وہ ماضی میں اکثر کہتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ممالک کو ”خصوصی اہمیت“ دی جائے گی مثال کے طور پر مودی سرکار کے دور میں بھارت، اسرائیل دوستی زیادہ نمایاں نظر آئے گی۔اس کے علاوہ آئندہ بھارت، پاکستان تعلقات دنیا بھر میں خاص طور پر دیکھے جائیں گے۔ نریندر مودی کی طرف سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو حلف برداری کی تقریب میں شمولیت کی دعوت (جو سارک ممالک کے سربراہان کو مدعو کرنے کے پردے میں دی گئی) ایک اچھا آغاز ہے اور میاں محمد نواز شریف کی طرف سے قبول کر کے اسے ایک قدم اور آگے بڑھایا گیا ہے، لیکن یقین سے پھر بھی نہیں کہا جا سکتا کہ نریندر مودی خطے میں امن، استحکام ، معاشی ترقی اور ترقیات کو ہی ترجیح دیں گے۔
 دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے.... اُن کا ماضی ہمیں محتاط رہنے کا سبق دیتا ہے۔ ویسے نریندر مودی کی تمام الیکشن مہم میں نعرہ ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات ، خطے میں امن و استحکام، تجارتی تعلقات اور معاشی ترقی رہا ہے اور یہی ان کامینڈیٹ ہے، لیکن ان کی طرف سے کچھ بڑھکیں بھی شامل ہیں۔ پھر بھی بعض حلقوں میں اسے رد کرتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے دورے اور امریکی صدر نکسن کے دورہ¿ چین میں مماثلت پائی جاتی ہے، اللہ کرے ایسا ہو۔ ماضی میں کچھ تلخ تجربات بھی ہیں، کچھ نہیں، بلکہ بہت زیادہ۔ ہماری طرف سے کشمیر، سیاچن، سرکریک ، دہشت گردی اور پانی کا روکنا۔ بھارت کی طرف سے بی جے پی کے پہلے وزیراعظم واجپائی کے دورہ¿ لاہور کے بعد کارگل کا واقعہ، بھارت میں دہشت گردی کے واقعات، جن میں پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کے بارے میں ”عقابی“ رویہ اختیار کرنے کا امکان بھی موجودہے۔ اس ضمن میں پہلے چھ ماہ کا عرصہ بہت اہم ہے، اگر بھارت میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ ہوا اور اس کے تانے بانے انہوں نے پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی تو حالات کوئی بھی رُخ اختیار کر سکتے ہیں۔
اس بات کا قوی امکان بھی موجود ہے کہ وہ عناصر جو بھارت کے ساتھ ”حالت ِ جنگ“ برقرار رکھنا چاہتے ہیں، سیاسی اور انتظامی تبدیلی کے اس عمل کے دوران کوئی ایسا ”واقعہ“ کر سکتے ہیں، جس سے تعلقات بہتر ہونے کی بجائے مزید کشیدہ ہو جائیں۔ چین بھی ایک ہمسایہ ملک ہے۔ ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرے بھی لگتے رہے اور پھر بھرپور جنگ بھی ہوئی۔ یہاں نریندر مودی کی دوہری شخصیت سامنے آتی ہے۔ایک وہ جومعیشت کی مضبوطی کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتا ہے۔ گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے چین کا دورہ کرتا ہے۔ وہاں گجراتی تاجروں کے لئے سرمایہ کاری کے امکانات ڈھونڈتا ہے اور چین سے گجرات میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ وہ مودی برازیل میں ہونے والے اجلاس میں اور کھل کر سامنے آئے گا۔
 BRICS کے اجلاس میں شرکت نریندر مودی کا پہلا غیر ملکی دورہ ہو گا.... وہاں چین کے صدر زی جن پنگ سے ملاقات بھی طے ہے۔ دوسرا مودی وہ ہے جو چین کو ایک توسیع پسند عزائم رکھنے والا ملک اور امن کے لئے خطرہ بھی قرار دیتا ہے.... (چین ایک بڑے علاقے پر اپنا حق اور اسے چین کا حصہ قرار دیتا ہے جو اس وقت بھارت میں شامل ہے).... بطور وزیراعظم نریندر مودی کو اب ایک توازن قائم کرنا ہو گا۔ چینی اہلکار اور دانشور نریندر مودی کی واضح جہت کا خیر مقدم کرتے نظر آتے ہیں، لیکن انہیں دوسرا مودی بھی دکھائی دیتا ہے جو سب سے پہلے بھارت کی فوجی طاقت میں اضافہ اور اسے جدید ترین بنیادوں پر جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ایک بہتر لڑاکا فوج بنانے کا خواہش مند ہے۔ دوسرا بھارت کی مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں سیاسی اور تجارتی اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش ،خصوصاً جاپان، کوریا اور ویت نام۔ تیسرا یہ کہ اب بھارت میں قوم پرستی کے رجحان کو فروغ ملے گا، جو نہ صرف چین کے لئے، بلکہ پاکستان کے لئے پریشانی کا باعث بنے گا۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی؟ یہ بھی ایک دلچسپ مطالعہ ہو گا۔ اس کے بارے میں دو رائے ہیں۔ ایک یہ کہ ماضی میں2005ءسے، بلکہ اب تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے نریندر مودی کو نہ صرف مسلمانوں کے قتل عام، بلکہ تمام اقلیتوں بشمول عیسائیوں کو نشانہ بنانے پر مذمت کا رویہ اپنائے رکھا گیا۔ اب وزیراعظم نریندر مودی بھی وہ ادھار واپس کرے گا اور امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ایک فاصلے پر رکھے جائیں گے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ معاشی ترقی کا خواہش مند، توانائی کی ضروریات پوری کرنا، ترجیح سمجھے جانے والا، چین کے خلاف معاندانہ رویہ (ممکنہ طور پر) رکھنے والا وزیراعظم نریندر مودی امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنا چاہے گا، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان تعلقات میں ”گرم جوشی“ کا عنصر نہ ہو، لیکن یہ تعلقات دونوں کی ضرورت ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہو گی کہ امریکی انتظامیہ اور کانگریس کیا رویہ اختیارکرتے ہیں۔
نریندر مودی نے انتخابات کے دوران ان تینوں Directionsمیں بات کی۔ انہوں نے پاکستان سے کہا کہ گیند اب آپ کے کورٹ میں ہے۔ آپ کی طرف سے اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے کی یقین دہانی پراسی وقت کچھ پیش رفت ہو گی ،جب آپ کی طرف سے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی روک دی جائے گی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم مشترکہ مسائل کا شکار ہیں.... ”غربت اور بیروزگاری“ ....ہمیں مل کر انہیں حل کرنا ہے....چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم چین کے ساتھ اپنے متنازعہ مسائل حل کریں گے اور ہمارے درمیان ”بھرپور“ قریبی تعلق قائم ہو جائے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ اس خطے میں مشترکہ مفادات کے پیش نظر ہم ”قدرتی اتحادی“ ہیں اور ہم اس رشتے کو مزید آگے لے کر جائیں گے.... لیکن ہمیں انتظار کرنا ہو گا کہ جو انہوں نے کہا۔ اس پر عمل درآمد کا مرحلہ کب آئے گا، لیکن یہ متعلقہ ممالک کے رویوں پر بھی منحصر ہے کہ وہ کیا اقدامات کرتے ہیں ، جن سے بھارت کی نئی سرکار امید رکھتی ہے۔
ساتھ ساتھ بھارت کے اندرونی مسائل بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کریں گے۔ نریندر مودی کو خارجہ پالیسی ترتیب دیتے وقت اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا ہو گا کہ یہ مسائل حل ہوں نا کہ کسی بحران کی شکل اختیار کر جائیں۔ معاشی ترقی سماجی استحکام اور بھارتی سیاست کے پیچ و خم، اُتار چڑھاﺅ۔آغاز اچھا ہے ۔منگل کے روز میاں محمد نواز شریف نے نریندر مودی سے ملاقات کی۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد ”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے“۔ویسے تو سارک کے تمام سربراہان مدعو تھے، لیکن پاکستان کے وزیراعظم کی آمد اور بھارتی وزیراعظم سے ملاقات نے باقی سب کچھ دُھندلا دیا۔ نریندر مودی جو پاکستان اور مسلمان مخالف خیالات کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں، کے لئے خارجہ امور پر پالیسی ترتیب دینا ایک نیا تجربہ ہو گا، لیکن دونوں اطراف اس توقع کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ”امن“ کو موقع جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے ہی اٹل بہاری واجپائی نے 1999ءمیں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اُس وقت بھی میاں محمد نواز شریف ہی پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ انہوں نے بات ہی اسی حوالے سے کی کہ جہاں سے یہ سلسلہ بوجوہ ٹوٹ گیا تھا، ہم وہیں سے شروع کریں گے۔ انہوں نے اپنے خیالات کو شعر میں ڈھالا:
”پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ“
ممبئی کے ناخوشگوار واقعات کے بعد سے کسی پاکستانی اعلیٰ عہدیدار کا یہ پہلا دورہ¿ بھارت ہے۔ اس واقعہ نے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کا نیا دور شروع کر دیا تھا۔35منٹ کی بجائے یہ ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی۔ بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کی بات ہوئی۔ دونوں وزرائے اعظم اپنے اپنے ملک میں ہارڈ لائنرز، یعنی انتہا پسندی کا سامنا بھی کر رہے ہیں، اسی لئے دعوت نامہ منظور کرنے میں میاں محمد نواز شریف نے عجلت سے کام نہیں لیا۔ بھارت میں اس ملاقات کی مخالف آواز بی جے پی کی ہی ایک ساتھی جماعت ”شیو سینا“ کی طرف سے آئی۔ ان کے رہنما اُودھے ٹھاکرے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ”پاکستان کے خلاف ایٹم بم بھی چلانا پڑے تو تاخیر نہیں ہونی چاہئے“ ۔ایسے حالات اور عناصر کی موجودگی میں (پاکستان میں بھی) امن کی طرف پیشرفت مشکل اور سست رفتار ہو گی۔2002ءمیں بھارت میں ایک ٹرین جلا دی گئی تھی، جس کی ذمہ داری نریندر مودی پر عائد ہوئی، اس حادثے میں ایک ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے۔
دونوں وزرائے اعظم کی اس ملاقات میں نریندر مودی کی معاونت کے لئے نئی وزیر خارجہ سشما سوراج، سیکرٹری خارجہ سجاتھا سنگھ نمایاں تھے۔ حیدر آباد ہاﺅس میں ہونے والی اس ملاقات سے ایک امید تو بندھ گئی ہے، جس سے مذاکرات شروع ہونے اور کامیاب ہونے کا امکان تو پیدا ہوا ہے۔ دونوں وزرائے اعظم بھاری اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔ بہرحال یہ تو شروعات ہیں، اب دیکھنا ہو گا کہ ”مستقبل“ میں کیا ہو گا۔ یقین سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا، لیکن ”اچھے“ کی امید رکھنی چاہئے۔

مزید :

کالم -