نریندر مودی کی خارجہ پا لیسی؟

نریندر مودی کی خارجہ پا لیسی؟
 نریندر مودی کی خارجہ پا لیسی؟
کیپشن: umar javed

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کرنا جنوبی ایشیا میں ایک نئی روایت کا اضافہ ہے۔اگرچہ اس سے پہلے بھارت میں یہ روایت رہی ہے کہ وزیر اعظم یا صدر کی حلف برداری یا کسی اہم قومی دن کی تقریب کے موقع پر خطے کے کسی ملک کے سربراہ کو اس تقریب میں مدعو کیا جاتا ہے،مگر سارک ممالک کے تمام سربراہان کو مدعو کرنے کی مثال بالکل نئی ہے ۔مودی اور بی جے پی نہ صرف اپنی انتخابی مہم، بلکہ یوپی اے حکومت کو دس سال تک ہمسایہ ممالک خاص طور پر پاکستان سے معاملات طے کرنے کے حوالے سے بزدل اور ڈرپوک ہو نے کے طعنے دیتے رہے۔انتخابی مہم میں تو بی جے پی اور مودی نے کسی حد تک پاکستان کارڈ بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ۔مودی کے اس بیان کہ داؤد ابراہیم کو ایبٹ آباد آپریشن کی طرز کے ایک آپر یشن کے ذریعے بھا رت واپس لایا جائے گا ،پر پاکستان میں سرکاری سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا تھا ۔مودی نے گزشتہ سال نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پرسا بق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی بھی مخالفت کی تھی۔
برصغیر کی سیاست پر نظر رکھنے والاایک اوسط درجے کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ انتخابی نعروں، وعدوں اور دعوؤں کی میعاد اقتدار کے حصول تک ہی ہوتی ہے۔ بی جے پی نے تو ویسے بھی اس سے پہلے 1998ء اور 1999ء کے انتخابات کی مہم میں شدید پاکستان مخالف رویہ اپنایا، مگر ان دونوں انتخابات میں کا میابی کے بعد پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی بات کی۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے یہ حقیقت بھی دلچسپی کی حامل ہے کہ کانگرسی حکومتوں کے مقابلے میں غیر کانگرسی حکومتوں کے ادوار میں بھارت کے تعلقات پاکستان کے ساتھ قدرے بہتر رہے۔مرار جی ڈیسائی ،دیو گوڑا ،اندر کمار گجرال ور اٹل بہاری واجپائی جیسے غیر کانگرسی وزرائے اعظموں کے ساتھ پاکستان سے اچھے تعلقات اس حقیقت کی اہم مثالیں ہیں۔ اگر یو پی اے حکومت کی پاکستان کی بابت گزشتہ 10 سال کی خارجہ پالیسی کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یو پی اے سرکار پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کر نے کے حوالے سے کسی بھی طرح کی پیشرفت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ۔
2004ء سے پہلے بی جے پی دورمیں دونوں ممالک کی جانب سے کسی بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لئے ایک میکنیزم تیار کر نے پر کام ہو رہا تھا، جس پر یو پی اے سرکار میں پیش رفت رک گئی۔ صرف گزشتہ 14 سال میں تین ایسے بحران پیدا ہوئے، جن سے نمٹنے کے لئے باضا بطہ میکنیزم موجود نہیں تھا۔ ان بحرانی کیفیات میں بھارتی پارلیمنٹ حملہ (2001ء دسمبر( ممبئی حملے (2008ء) اور 2013ء میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپیں شامل تھیں۔ دنیا بھر میں جہاں بھی پڑوسی ممالک کے مابین کشیدگی کا خطرہ رہتا ہو، وہاں اس نوعیت کی بحرانی کیفیات سے بچنے کے لئے میکنیزم بھی موجود ہوتا ہے۔ ایل او سی پر چھوٹی چھوٹی جھڑپیں باقاعدہ جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں، جبکہ عملی طور پر ایل او سی پر پاکستان اور بھارت کی جانب سے سیز فائر کا کوئی باضابطہ معاہدہ بھی موجود نہیں۔ 2003ء میں ہونے والا نام نہاد سیز فائر معاہدہ دراصل ایک باضابطہ معاہدہ نہیں،بلکہ دونوں افواج کے مابین ایک طرح کا سمجھوتہ تھا۔ 2003ء میں بی جے پی حکومت اور پاکستان کے مابین ایل او سی پر سیز فائر کے باقاعدہ معاہدے پر کام جاری تھا، مگر 2004ء میں یو پی اے کے اقتدار میں آنے کے بعد اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ ایل او سی پر ہر سال سینکڑوں جھڑپیں ہوتی ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے مابین سب سے دیرینہ حل طلب مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہے۔۔۔یو پی اے حکومت کے برسراقتدار آنے سے پہلے کسی حد تک اس مسئلے پر بیک ڈور ڈپلومیسی کا سلسلہ چل رہا تھا، جسے کئی حریت رہنماؤں کی بھی حمایت حاصل تھی، مگر 2007ء میں بیک ڈور ڈپلومیسی کے نتیجے میں وجود میں آنے والے فارمولوں کو سرد خانے میں پھینک دیا گیا اور سرے سے ہی بیک ڈور ڈپلومیسی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ 2008ء اور2010ء میں کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاجات کے بعد بھارتی حکومت نے اس تنا زعہ کے حل کے لئے جو نام نہاد تین رکنی کمیٹی بنائی،اس کی سفارشات کو بھی یونین ہوم منسٹری کے دفتر کے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ دونوں ممالک کے مابین ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات سے بچنے کے لئے India -Pakistan Expert Level Dialogue on Nuclear Confidence Building Measure کے حوالے سے بھی پیش رفت نہ ہونے کے برابر رہی۔ سرکریک ،سیاچن ،پانی کے مسائل جیسے امور بھی ابھی مکمل طور پر حل طلب ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ کانگرسی حکومتیں ہمیشہ ہندو قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں کے دباؤ کے باعث ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے پس و پیش کرتی رہیں۔ کانگرس کو موقع پرستی کے طعنوں سے بچنے کے لئے بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ میں رہنا پڑتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ اپنے طویل عرصہ اقتدار کے دوران تنازعہ کشمیر سمیت کسی ایک بھی مسلئے کا حل تلاش نہ کرسکی۔اب مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں، مگر صاف نظر آ رہا ہے کہ بھارت کے داخلی معاملات کی طرح خارجہ پالیسی میں بھی مودی کو بہت سے چیلنج درپیش ہوں گے۔بھارت اور امریکہ کے مامین اس صدی کے آغاز پر جن بہتر تعلقات کا آغاز ہواتھا،اب بھارت کی خراب معاشی صورت حال، 2008ء کی عالمی معاشی کساد بازاری اور خود امریکہ کی ایک حد تک کمزور معاشی صورت حال کے باعث اب ان تعلقات میں پرانی گرم جوشی نظر نہیں آتی۔آج سے پندرہ سال پہلے تک بھارت امریکہ تعلقات صرف باہمی امور اور مسائل تک ہی محدود تھے، مگر 2001ء کے بعد امریکہ اور بھارت کے مابین مشرقی ایشیا ،چین کے ابھار ،افغانستان ،وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مسائل کے بارے میں بھی مشترکہ مکالموں اور مشاورت کا آغاز ہوا۔ان تمام امور پر امریکہ نے بھارت کی رائے کو اہمیت دینا شروع کی ،حتیٰ کہ بھارت کے ساتھ ایٹمی معاہدہ بھی کیا ۔

اپنی اسی نئی اہمیت کے پیش نظر بھارت نے خطے اور مشرقی ایشیا میں جاپان سمیت اہم ممالک میں اپنے اثرو رسوخ میں اضافہ کیا۔2005ء میں چین کے ساتھ Political parameters and guiding principles for the settlement of the India -China boundary question جیسے معاہدے بھی کئے ۔یہ وہ دور تھا ، جب بھارت کو روس ،یورپی یونین ،جاپان جیسے ممالک بہت زیادہ اہمیت دے رہے تھے، مگر گزشتہ پانچ سال میں جب بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے مابین حدت میں کمی آئی تو بھارت کی اس اہمیت میں بھی کمی واقع ہوئی ۔اب مودی کیا امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کر کے بھارت کو عالمی حوالے سے اہمیت دلا پائیں گے ؟مودی کا نہ صرف امریکی رہنماؤں کے ساتھ رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے، بلکہ مودی کا فرقہ وارانہ ماضی دیکھتے ہوئے اوباما انتظامیہ کو بھی مودی کے حوالے سے داخلی دباؤ کاسامنا رہا ۔جب فروری میں امریکہ کی خاتون سفیر ننیسی پاول نے گاندھی نگر میں مودی سے ملاقات کی تو اس پر امریکہ میں سخت برہمی کا اظہار کیاگیا۔ امریکی رضاکار تنظیموں۔۔۔ جیسے کولیشن اگیسنٹ جنیوسائڈ (نسل کشی کے خلاف محاذ) انڈین امریکن کونسل اور امریکی ریلیجیس فریڈم کمیشن جیسی تنظیموں نے مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مودی کی مخالفت کی مہم جاری رکھیں گے، تاہم برطانیہ اور کئی یورپی ممالک پہلے ہی معاشی عوامل کے سبب مودی کے حوالے سے اپنے اصولی موقف کو ترک کر چکے ہیں ۔اگر امریکہ بھی اس پر عمل کرتا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہوگی۔
کئی بھارتی اور امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق مودی نے سارک ممالک کے سربراہان کو حلف برداری کی تقریب میں اس لئے مدعو نہیں کیا کہ سارک ممالک سے تعلقات بہتر کئے جائیں، بلکہ ان سربراہوں کو دعوت دے کر امریکہ کو یہ باور کرایاگیا ہے کہ وہ مودی کے حوالے سے اپنے سابقہ رویے میں اسی طرح نظر ثانی کرے ،جیسے خطے کے ممالک نے کی ہے۔شائد یہی و جہ ہے کہ امریکی میڈیا نے مودی کی حلف برداری کی تقریب کی نہ صرف بھرپور کوریج کی، بلکہ سارک سربراہان کو بلانے پر مودی کی بہت تعریف بھی کی گئی ۔یقیناًاپنی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کے سربراہوں کو دعوت دینا ایک اچھا قدم ہے، مگر اب اس خطے میں مستقل امن اور خوشحالی کے لئے علامتی اظہارات سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔خطے کا بڑا ملک ہونے کے ناطے بھارت کو پاکستان کے ساتھ تمام متنازعہ امور ، بنگلہ دیش کے ساتھ پانی اور سرحدوں کے تعین کے معاملات ،سری لنکا کے ساتھ تامل نسلی معاملہ ،نیپال کی معاشی ناکہ بندی ،بھوٹان اور مالدیپ کے سیاسی امور میں مداخلت کے الزامات سمیت بہت سے مسائل کو حل کرنے کی جانب آگے بڑھنا ہوگا۔اب بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غیر کانگرسی حکومت محض اپنے بل بوتے پر اس قدر واضح اکثریت لے کر اقتدار میں آئی ہے ،اس لئے یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا مودی سرکار کانگرسی حکومت کی خارجہ پالیسیوں پر ہی چلتی ہے کہ جنہوں نے خطے کے مسائل میں اضافہ کیا یا بھارت کی خارجہ پالیسی میں جوہری بنیادوں پر تبدیلیاں متعا رف کر وائی جا تی ہیں؟

مزید :

کالم -