.... اب پھر لندن پلان!

.... اب پھر لندن پلان!
.... اب پھر لندن پلان!
کیپشن: ch khadim hussain

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان دولخت ہو چکا، ایک سے دو اسلامی یا مسلمان ملک بن گئے،آج کے پاکستان کی تعمیر نو کی ذمہ داری پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالی گئی اور ابتداءمیں انہوں نے یحییٰ خان کی جگہ لی اور اس وقت کے جاری عمل کے مطابق صدر (معہ اختیارات چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر) کا عہدہ سنبھالا اور حکومت شروع کی۔ہم ان دنوں روزنامہ ”مساوات“ سے وابستہ تھے اور مساوات ورکرز یونین کے بانی صدر تھے، کارکنوں کے مطالبات کی فہرست طویل تھی، حنیف رامے صوبائی وزیر خزانہ بن کر مساوات سے علیحدہ ہو گئے تھے اور میاں محمد اسلم چیف ایگزیکٹو کے طور پر ادارے کے سربراہ تھے، ان کے ساتھ مطالبات پر بات ہوتی رہتی تھی۔بعض مطالبات ایسے تھے جو ان کے اختیار سے بالا تھے، چنانچہ باہمی بات چیت کے بعد طے ہوا کہ وہ مساوات کے چیئرمین محترم ذوالفقار علی بھٹو سے وقت لے کر یونین کے وفد کی ملاقات کرا دیں گے۔یونین کی مجلس عاملہ کے توسیعی اجلاس میں بحث و تمحیص کے بعد مطالبات کی باقاعدہ فہرست مرتب کرکے میاں محمد اسلم کو دے دی گئی جو انہوں نے اپنی سفارشات کے ساتھ ملاقات سے پہلے ہی بھٹو صاحب کو بھجوا دی تھی۔
پھر وہ دن اور وقت آ گیا جب اطلاع ملی کہ محترم ذوالفقار علی بھٹو سے گورنر ہاﺅس میں ملاقات ہوگی۔یونین نے اپنا وفد تشکیل دیا،جس میں ہماری قیادت میں مسعود سلمان،وجاہت نصیر ڈار اور دو اراکین اور تھے، الطاف قریشی ان دنوں چیف رپورٹر بنا دیئے گئے تھے۔میاں محمد اسلم نے ان کا نام بھی وفد میں شامل کرلیا، وقت مقررہ پر گورنر ہاﺅس میں ملاقات ہوئی، ذوالفقار علی بھٹو بڑے خوشگوار موڈ میں تھے اور بہت ہی اچھے اور مہربان انداز میں گفتگو کررہے تھے، وفد کی طرف سے مطالبات کی بات کی گئی اور پھر مسعود سلمان نے تفصیل بیان کرنے کی ابتداءکی تو محترم بھٹو نے روک دیااور مجموعی طور پر تمام مطالبات کی منظوری دیتے ہوئے میاں محمد اسلم صاحب کے ذمہ لگادیا کہ وہ اس پر عمل کرائیں کہ وہی انچارج بھی تھے۔یہ سلسلہ تو جلد ختم ہوا، ہمارے خیال میں ملاقات بھی اختتام کو پہنچی لیکن بھٹو صاحب نے سلسلہ کلام جاری رکھا۔ہمیں یاد ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے اخبار کی پالیسی کے حوالے سے بات کی، انداز ان کا اپنا تھا، بولے! اگر مجھے لوگوں کو روزگار ہی دینا تھا تو میں کوئی مل لگاتا، میں نے اخبار ملازمتیں دینے کے لئے نہیں اپنے فلسفہ سیاست کی ترویج اور ملکی ترقی کے حوالے سے تشہیر کے لئے نکالا ہے، اس لئے آپ لوگوں کو اسے اخبار بنانا چاہیے۔ہم نے گزارش کی کہ اخبار پیپلزپارٹی کا تو حکومت بھی پیپلزپارٹی کی ہے ، اس لئے تنقید کا برا منایا جاتا ہے تو وہ ہلکے سے ناراض ہوئے اور کہا تنقید کریں، کھل کر کریں، حکومت کے ہر محکمہ کے نقائص بتائیں، تاکہ اصلاح ہو۔
اس کے بعد اور بہت سی باتیں ہوئیں تو مولانا کوثر نیازی کے ایک بیان کا ذکر نکل آیا جس پر بھٹو صاحب نے کہا ہاں! دیکھو، یہ لوگ لندن میں جمع ہو کر کیا کررہے ہیں، ان دنوں میاں ممتاز محمد خان دولتانہ ،خان عبدالولی خان اور بعض بلوچ راہنما لندن میں جمع ہوئے اور ان کے درمیان ملاقاتیں ہو رہی تھیں۔بھٹو بولے! معلوم کرو، وہاں کیا پلان بن رہا ہے، اس کے بعد تھوڑی بہت اور گفتگو ہوئی وفد واپس آ گیا ، پھر الطاف قریشی اور میاں محمد اسلم کے درمیان بھی تبادلہ خیال ہوا اور مساوات میں ان کی یہ خبر چھپی کہ فلاں فلاں سیاسی قائدین لندن میں بیٹھ کر منصوبہ بنا رہے ہیں، خبر ”لندن پلان“ کے عنوان سے شائع ہوئی، یوں یہ لندن پلان مشہور ہوا، جس کا اب پھر ذکر آ رہا ہے اور لندن میں ہونے والی سرگرمیوں کو ”لندن پلان“ ہی کا عنوان دیا جا رہا ہے۔سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بعد میں اپنی تقریروں میں تنقید کی۔
آج کل جس لندن پلان کا ذکر آ رہا ہے وہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ لندن میں چودھری شجاعت حسین اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ملاقات کے حوالے سے ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری ان دنوں کینیڈا سے لندن آئے ہوئے ہیں اور دوسرے دونوں حضرات بدھ کو پاکستان سے لندن پہنچے تھے، اس سے پہلے عمران خان کی جماعت کے رہنماﺅں پر مشتمل کمیٹی نے مسلم لیگ(ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کرکے ایک بڑے اتحاد کی بات کی تھی۔چودھری شجاعت حسین اس حوالے سے تائیدی بیان بھی دے چکے ہیں، تاہم اصل کردار فرزند راولپنڈی شیخ رشید ہیں جو اپنی اکلوتی عوامی مسلم لیگ کے صدر اور واحد رکن قومی اسمبلی ہیں وہ بار بار تاریخیں دیتے اور گرینڈ الائنس کی بات کرتے ہیں۔
اب ہماری اطلاع کے مطابق چودھری شجاعت حسین اور ڈاکٹر طاہر القادری کی ملاقات تو طے تھی جو گزشتہ روز ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے دیئے گئے کھانے پر ہو گئی تاہم اس میں مسائل پر اتفاق رائے اور اکٹھے چلنے کی بات تو کی گئی فی الحال کسی اتحاد کا ذکر نہیں کیا گیا، جہاں تک عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان ملاقات کا تعلق ہے تو یہ طے نہیں تھی اور نہ ہے۔اس کے علاوہ دونوں رہنماﺅں کے مزاج کا بھی مسئلہ ہے اور ساتھ ہی مستقبل کے پروگرام کی بات ہے۔عوامی تحریک کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طاہرالقادر ی تو سرے سے موجودہ نظام ہی کے خلاف ہیں اور انقلاب لا کر نیا نظام دینا چاہتے ہیں جس کے بارے میں بتاتے نہیں، تاہم امکان ہے شورائی ہوگا اور منہاج القرآن کے ساتھ ساتھ عوامی تحریک کے ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ صدارتی نوعیت کا پروگرام رکھتے ہیں جبکہ عمران خان موجودہ نظام ہی کی اصلاح کرنے کا اعلان کرتے ہیں، اس کے علاوہ پہلے آپ والی بھی بات ہے۔ڈاکٹر طاہرالقادری کے اپنے اوقات اور پروگرام ہوتے ہیں، انہوںنے تو اے آر ڈی سے جی ڈی اے میں تبدیلی کے وقت نوابزادہ نصراللہ کے توسط سے محترمہ بے نظیر بھٹو کو منہاج القرآن مدعو کر لیا تھا۔

بہرحال آج کے لندن پلان میں یار لوگ الطاف حسین کو بھی شامل کرتے ہیں، حالانکہ قائد تحریک(اب دو ہیں) الطاف حسین تو کہیں جاتے نہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان سے ملاقات کا کوئی پروگرام طے نہیں، ہر دو سے فون پر بات ممکن ہے تاہم چودھری شجاعت حسین بڑے سرگرم دکھائی دیتے ہیں وہ شائد قائد تحریک ایم کیو ایم الطاف حسین سے ملنے جائیں۔ دو گزارشات پیش کرکے اجازت، ایک تو یہ کہ پرانے لندن پلان کا یہ ہوا کہ میاں ممتاز دولتانہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں برطانیہ میں پاکستان کے سفیر، نواب اکبر بگٹی بلوچستان کے گورنر اور پھر بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد (موجودہ کے پی کے) میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومتیں بن گئی تھیں، اور اب جن حضرات کا ذکر ہے ان سب کا ماضی قریب ایک اہم ہستی سے جڑا ہوا ہے جو شاید جلد ہی اڑ کر لندن یا پھر امریکہ جانے والے ہیں۔

مزید :

کالم -