طالبان کے ساتھ مذاکرات آپریشن کا جواز پیدا کرنے کیلئے تھے، مولانا فضل الرحمان

طالبان کے ساتھ مذاکرات آپریشن کا جواز پیدا کرنے کیلئے تھے، مولانا فضل ...
طالبان کے ساتھ مذاکرات آپریشن کا جواز پیدا کرنے کیلئے تھے، مولانا فضل الرحمان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل آپریشن کا جواز پیدا کرنے کیلئے تھا، جب پارلیمنٹ سے امن کو ایک اور موقع دینے کی بات کی گئی اسی وقت سمجھ گیا تھا اس کا مقصد کچھ اور ہے، ہم جبر کی بنیاد پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کرنے دینگے، علماء کی کوششوں سے کئی خودکش بمبار راہ راست پر آگئے ہیں۔ پشاور میں قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان امن جنگ سے نہیں مذ اکرات سے ہی آسکتا ہے، ہمیں پرائی جنگ سے نکلنا ہوگا۔ پاکستانی قوم صرف امن پر اتفاق کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ہماری نہیں امریکہ کی ضرورت ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل درحقیقت آپریشن کا جواز پیدا کرنے کیلئے تھا، پارلیمنٹ میں جب کہا گیا کہ امن کو ایک اور موقع دیتے ہیں میں اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ اس کا مقصد کچھ اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اقدار کے تحت بنایا گیا جرگہ جب تک خود ختم نہیں ہوتا اس کی جگہ کوئی دوسرا جرگہ نہیں لے سکتا، حکومت نے مذاکرات کیلئے درست طریقہ اختیار نہیں کیا۔ ہمارے جرگے نے پہلا مطالبہ یہی کیا تھا کہ قبائلی علاقوں میں امن لایا جائے، امن کیلئے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کی صورتحال اچھی نہیں قبائلی عوام اور علماء کے تعاون سے حالات میں بہتری لائی جاسکتی ہے، علماء کی کوششوں سے کئی خودکش بمبار راہ راست پر آئے ہیں۔

مزید :

قومی -